’بھارتی میجر نے پاکستان مردہ باد نہ کہنے پر تشدد کیا‘

کشمیر میں بھارتی سکیورٹی فورسز کے عقوبت خانے میں 16 دن گزارنے والے علی رضا ( فرضی نام) کی کہانی۔

’بھارتی فوج کے پاس تمام اختیار ہے جب مرضی جس کو چاہیں اُٹھا کر لے جاتے ہیں‘(اے ایف پی)

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں 27 روز سے جاری کرفیو کی وجہ سے وادی میں نظام زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔

کشمیری نوجوان خطے کی خصوصی حیثیت ختم ہونے کے بعد کرفیو کے باوجود آئے روز مظاہرے کر رہے ہیں اور بھارتی سکیورٹی فورسز انہیں دبانے کے لیے تشدد کا سہارا لے رہی ہیں۔

بھارتی سکیورٹی فورسز نے تقریباً ایک مہینے کے دوران ہزاروں کشمیری نوجوانوں کو عقوبت خانوں میں قید کر لیا ہے۔

انہی عقوبت خانوں میں 16 دن گزارنے والے علی رضا ( فرضی نام) 29 اگست کو رہا ہونے کے بعد دہلی پہنچے اور انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے خود پر ہوئے ظلم کی داستان سنائی۔

علی رضا نے بتایا عید کا دوسرا دن تھا، جو معمول کی طرح گھر والوں کے ساتھ گزارا کیونکہ باہر کرفیو لگا تھا لہذا باہر نکلنے کے حالات نہیں تھے۔

ٹیلی فون انٹر نیٹ بھی کام نہیں کر رہا تھا کہ کسی سے بات کر کے عید مبارک کہہ دیتا۔ بڈگام کے تین منزلہ گھر میں ہم نو افراد رہتے ہیں۔

بڑے بھائی کے بچے گھر میں رونق لگائے ہوئے تھے۔ شام کا کھانا کھا کر گھر والوں سے بات چیت ہو رہی تھی کہ ایک دم بجلی بند ہو گئی۔

عموماً پورے علاقے کی بجلی تب بند ہوتی ہے جب فوج علاقے کا محاصرہ کرتی ہے۔ ایمرجنسی لائٹ کی پھیکی روشنی میں، میں اپنے والدین اور جوان بہنوں کے چہروں پر پریشانی دیکھ سکتا تھا۔ کچھ ہونے کا احساس شاید انھیں پریشان کر رہا تھا۔ 

رات کے ساڑھے گیارہ بج رہے تھے، اسی اثنا میں گھر کا دروازہ زور سے بجا جیسے فوراً نہ کھولا تو توڑ دیا جائے گا۔

بہنوں کو اندر کمرے میں بھیج کر میں دروازہ کھولنے چلا گیا۔ دروازہ کھولا تو آٹھ، دس فوجی گھر کے اندر گھس آئے۔

اُن کے پاس فہرست تھی جس میں گھر کے تمام افراد کی تفصیل لکھی تھی۔ اُنہوں نے میرا نام پوچھا اور پھر فہرست پر مارک کر کے مجھے ساتھ چلنے کو کہا۔

میرے گھر میں اُس وقت دو جوان بہنیں تھیں مجھے خود سے زیادہ اُن کی فکر تھی۔ میں بس یہ چاہتا تھا یہ فوجی جلدی ہمارے گھر سے نکل جائیں اس لیے بغیر مزاحمت میں اُن کے ساتھ چل پڑا۔ 

باہر گلی میں نکلا تو پہلی نظر میں 15، 12 بلٹ پروف فوجی گاڑیاں نظر آئیں۔ پورے علاقے میں بھارتی فوجی نظر آ رہے تھے۔

اُن کی تعداد 300 سے زائد تھی۔ انہوں نے 13 اگست کی رات ہمارے علاقے کے تمام نوجوانوں کو، جن پر ذرا سا بھی شبہ تھا، گرفتار کر لیا۔

انہوں نے میری آنکھوں پر پٹی باندھی اور گاڑی میں سوار کرایا۔ گاڑی لگ بھگ ڈھائی تین گھنٹے مسافت طے کر کے کسی مقام پر پہنچی جہاں ہمیں ایک کمرے میں بند کر دیا گیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پہلے دن تو کوئی پوچھنے نہیں آیا لیکن دوسرے دن تین، چار فوجی آئے اور پوچھ گچھ شروع کر دی۔ 

بھارتی فوجی سب سے سوال کر رہے تھے تم لوگ پاکستان پاکستان کیوں کرتے رہتے ہو؟ ہمارے فوجیوں پہ پتھر کیوں پھینکتے ہو؟

پھر انہوں نے ہمیں ’جے شری رام‘ اور ’پاکستان مردہ باد‘ کے نعرے لگانے کو کہا لیکن کمرے میں موجود ہم چار، پانچ نوجوانوں نے نعرہ نہیں لگایا تو انہوں نے غصے میں آ کر ہم پہ تشدد کیا۔

ہمیں پھر الگ الگ کوٹھریوں میں بند کر دیا گیا۔ ہمارے کپڑے اتروا دیے، پاؤں سے باندھ کر الٹا لٹکا دیا۔

میرے محلے کے دو نوجوان تشدد کے باعث کومہ میں چلے گئے، سر پر گہری چوٹ کے باعث اُن کے دماغ میں خون جم گیا تھا۔

ایک میجر میری کوٹھری میں آیا اور مجھے کہا کہ ‘پاکستان مردہ باد’ کہوں، لیکن میں نے انکار کیا تو اُس نے میری آنکھ پر زور دار مکا مارا، جس کی وجہ سے میں کئی دن اُس آنکھ سے دیکھ نہیں سکا، اور ابھی بھی دھندلا دکھائی دیتا ہے۔

کچھ نوجوان لڑکوں نے تشدد سے بچنے کے لیے جے شری رام کے نعرے لگا دیے تاکہ عقوبت خانے سے نجات مل جائے۔ ان کو ایک ہفتے بعد چھوڑ دیا گیا۔

میں نے میجر سے کہا مجھے 2016 میں بھی پکڑا گیا تھا لیکن کچھ ثابت نہیں ہوا اور اب بھی میرے خلاف کوئی ایف آئی آر نہیں ہے تو مجھے کیوں پکڑا ہے؟

میرا جرم شاید یہ تھا کہ میں پاکستان جاتا رہتا تھا۔ 2016 میں، میں پشاور یونیورسٹی سے بزنس ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کر کے جب واپس کشمیر گیا تو واہگہ پر ہی مجھے گرفتار کر لیا گیا تھا اور دو ماہ پوچھ گچھ کے بعد چھوڑ دیا گیا۔

گرفتاری کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ حزب المجاہدین کا چیف ہمارے محلے میں رہتا تھا۔

مزید ایک ہفتہ تشدد کر کے، بیلٹ سے مار مار کر انہوں نے 29 اگست کو رہا کر دیا اور وارننگ دی ‘آئندہ تمھارے علاقے میں اگر ہم پر پتھراؤ ہوا تو ہمارا جواب گولی ہو گا اور ذمہ دار تم ہو گے۔’

16 دن بعد گھر پہنچا تو والدین کی پریشانی ختم ہوئی، والد نے مجھے فوراً کشمیر سے نکل جانے کو کہا کیونکہ میری آنکھ کا زخم ابھی بھرا نہیں تھا اور کشمیر میں کرفیو کے باعث علاج ممکن نہیں تھا۔

میرے والدین جانتے تھے کہ پاکستان آمدورفت کی وجہ سے میرا نام بھارتی فوج کی لسٹ میں ہے، اس لیے انہوں نے کہا ‘جب تک حالات بہتر نہیں ہوتے تم دہلی چلے جاؤ۔’

جب ہم نے علی رضا (فرضی نام) سے پوچھا کہ دہلی میں وہ کہاں رہائش پذیر ہیں؟ تو انہوں نے بتایا کہ یہاں بھی وہ مسلم اکثریت والے علاقے میں رہ رہے ہیں۔ ’ہندو اکثریتی علاقے میں محفوظ تصور نہیں ہوتا۔ رہائی سے اگلے روز ہی دہلی آ گیا ہوں۔‘

میں چاہتا تھا کہ ویزہ لے کر پاکستان چلا جاؤں لیکن شاید ان حالات میں ویزہ بھی نہ ملے اور اگر ویزہ مل بھی گیا تو بھارت واپسی مشکل ہو جائے گی۔

میں پاکستانی ہائی کمیشن جانا چاہتا تھا لیکن وہاں ارد گرد خفیہ اداروں کے اتنے اہلکار موجود ہوتے ہیں کہ مجھے دوبارہ گرفتاری کا خدشہ ہے۔ جموں و کشمیر میں یہ عقوبت خانے نوے کی دہائی میں تشدد کے لیے استعمال ہوتے تھے، اب دوبارہ انہی ٹارچر سیلز کو فعال کیا گیا ہے۔

کشمیر میں فوج کے علاوہ کوئی نظر نہیں آتا۔ بھارتی فوج کے پاس تمام اختیار ہے جب مرضی جس کو چاہیں اُٹھا کر لے جاتے ہیں۔ اب تک 17 ہزار کشمیری نوجوانوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

علی نے بتایا اتنے کشمیری جوانوں کو گرفتار کرنا آسان کام بالکل نہیں اور نہ ہم ڈرتے ہیں۔ ’ہم صرف ڈرتے ہیں اپنی ماؤں، بہنوں کی عصمت دری سے، ان کی عزت بچانے کی خاطر ہم چپ چاپ گرفتاری بھی دے دیتے ہیں اور اپنے اوپر تشدد بھی برداشت کر لیتے ہیں۔’

علی نے پاکستان کے لیے پیغام دیتے ہوئے کہا ’ہم یہاں اگر احتجاج کرتے ہیں اور کچھ امید رکھے ہوئے ہیں تو صرف اس لیے کہ ہمیں علم ہے پاکستان ہمارے ساتھ ہے اور ہر فورم پر ہمارے لیے آواز بلند کر رہا ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی میری کہانی