2024 میں 10 سال سے کم عمر بچے بھی حج ادا کر سکیں گے: پاکستان

نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ کی صدارت میں بدھ کو ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں آئندہ سال کی حج پالیسی میں ترامیم کی منظوری دینے کے علاوہ دوسرے بھی کئی فیصلے کیے گئے۔

پاکستان کی وفاقی کابینہ نے بدھ کو حج پالیسی 2024 میں ترامیم کی منظوری دی (اے ایف پی)

وفاقی کابینہ نے آئندہ سال کے لیے حج پالیسی میں ترامیم کی منظوری دیتے ہوئے 10 سال سے کم عمر بچوں کو بھی اس مذہبی عبادت کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب جانے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ کی صدارت میں بدھ کو ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں حج پالیسی 2024 میں ترامیم کی منظوری دی گئی۔

اسلام آباد میں ایوان وزیر اعظم سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق نئی پالیسی کے تحت سرکاری اور نجی اسکیمز کا غیر استعمال شدہ سپانسر شپ کوٹہ سعودی عرب حکومت کو واپس کر دیا جائے گا جبکہ سعودی حکومت کے قوانین کے مطابق حج گروپس آرگنائزرز کے مالی انتظامات کے حوالے سے ایک فول پروف مانیٹرنگ سسٹم کا نفاذ عمل میں لایا جائے گا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

نئی حج پالیسی کے تحت 2024 میں 10 سال سے کم عمر کے بچے بھی حج ادا کر سکیں گے۔

بیان کے مطابق کابینہ نے فیصلہ کیا کہ نجی حج اسکیمز میں  80 سال سے زیادہ عمر کے افراد کے لیے خدمت گار رکھنے کی شرط میں نرمی کی جائے گی، تاہم حج گروپ آرگنائزرز حاجی کے ساتھ ایک معاہدہ کرے گی جس کے تحت سعودی عرب میں قیام کے دوران مقامی معاون کی خدمات حاصل کی جائیں گی۔

’اس نکتے کو سروس کی فراہمی کے معاہدے میں شامل کیا جائے گا اور اس کی خلاف ورزی پر حج گروپ آرگنائزر کو جرمانہ اور بلیک لسٹ کیا جا سکے گا۔‘

کابینہ نے ہارڈ شپ حج کوٹہ میں کمی کی منظوری بھی دی جبکہ مقامی معاونین کے کوٹہ کا 50 فیصد اُن پاکستانی طلبہ کے لیے مختص کیا جائے گا جو سعودی عرب کی مقامی یونیورسٹیوں میں زیرِ تعلیم ہیں۔ ان طلباء کی تعیناتی ویلفیئر سٹاف کے طور پر  کی جائے گی۔

کابینہ کے دوسرے فیصلے

  • وفاقی کابینہ نے سرمایہ کاری بورڈ کی سفارش پر سعودی عرب اور قطر کے ساتھ دو طرفہ سرمایہ کاری معاہدوں (Bilateral Investment Treaties) پر مذاکرات کرنے کی منظوری دے دی۔ 
  • فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی سفارش پر بینکوں کے ان وِنڈ فال منافع ،جو اُنہوں نے 2021۔2022 کے دوران زر مبادلہ کے لین دین سے کمائے، پر 40 فیصد ٹیکس عائد کرنے کی منظوری بھی دی۔
  • کابینہ نے وزارتِ تجارت کی سفارش پر ٹریڈ آرگنائزیشنز کے ریگولیٹرز کے احکامات کے خلاف اپیل سننے، امپورٹ پالیسی آرڈر 2022  اور ایکسپورٹ پالیسی آرڈر 2022 کی شرائط میں چھوٹ اور نرمی کے لیے ایک کمیٹی قائم کرنے کی منظوری دی، جس کے کنوینیئر وفاقی وزیر تجارت ہوں گے اور دیگر اراکین میں وفاقی وزیر قانون اور وفاقی وزیر منصوبہ بندی شامل ہوں گے۔
  • وفاقی کابینہ نے وفاقی وزارتِ داخلہ کی سفارش پر ڈیمو کریٹک ریپبلک آف کانگو، ملاوی، زیمبیا، زمبابوے اور جمہوریہ کرغز کو بزنس ویزا لسٹ میں شامل کرنے کی بھی منظوری دی۔
  • وفاقی کابینہ نے وفاقی وزارت داخلہ کی سفارش پر 18 افراد کا نام  ای سی ایل سے نکالنے اور نو نئے نام اس فہرست میں شامل کرنے کی منظوری دی۔
  • وفاقی کابینہ نے وفاقی وزارت برائے بحری امور کی سفارش پر بحری جہازوں کی محفوظ اور ماحول دوست ری سائیکلنگ کے لیے ہانگ کانگ بین الاقوامی کنونشن 2009 پر دستخط اور اس حوالے سے الحاق کے معاہدے کا ڈرافٹ تیار کرنے کی منظور ی دی۔

اس کنونشن کے تحت پاکستان بحری جہازوں کی ری سائیکلنگ کے لیے قانون سازی کرے گا اور اس حوالے سے متعلقہ اہلکاروں کو تربیت دی اور صلاحیت کار بڑھائی جائے گی۔

مزید برآں اس کنونشن کے تحت بحری جہازوں کی ری سائیکلنگ کے دوران کسی بھی خطرناک مواد کو ٹھکانے لگانے کے لیے متعلقہ ٹیکنالوجیکل آلات کا حصول بھی یقینی بنایا جائے گا۔

علاوہ ازیں شپ ری سائیکلنگ کی صنعت سے وابستہ مزدوروں کا تحفظ بھی یقینی بنایا جاسکے گا۔ اس سے پاکستان کی شپ ری سائیکلنگ کی صنعت کو بھرپور فائدہ ہوگا۔ 

  • وفاقی کابینہ نے کابینہ سیکریٹریٹ کی سفارش پر ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کو دو لاکھ میٹرک ٹن یوریا کی بین الاقوامی مارکیٹ سے خرید کے لیے پبلک پریکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی رولز 2004 کے رول نمبر 8،  13، 35، 38اور 40 سے استثنیٰ دینے کی منظوری دی۔
whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان