غزہ پر حملہ، اسرائیلی معیشت کو 50 ارب ڈالر نقصان ہو سکتا ہے

اسرائیل کے مرکزی بینک کے اندازوں کے مطابق غزہ پر جنگ میں اسرائیل کا یومیہ خرچ 26 کروڑ ڈالر ہے جبکہ سات اکتوبر کے بعد سے اسرائیل کے زرمبادلہ کے ذخائر میں سات ارب ڈالرز کی کمی ہو چکی ہے۔

اسرائیل کی غزہ پر جنگ کے معاشی اثرات سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں اور اسرائیل کو اس کی بھاری قیمت چکانا پڑ رہی ہے۔

اسرائیل کے مرکزی بینک نے ابتدائی اندازوں کے حوالے سے کہا کہ جنگ کے سبب اسرائیلی معیشت کو یومیہ 26 کروڑ ڈالرز کا نقصان ہو رہا ہے اور اس جنگ کی وجہ سے معیشت کو 50 ارب ڈالرز کا نقصان ہو سکتا ہے۔

ماہرین سوال کر رہے ہیں کہ کیا اسرائیل کی معیشت میں اتنا دم ہے کہ وہ اکیلے اس جنگ کے اخراجات کو برداشت کر سکے؟ کیونکہ اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو اور وزیر خزانہ بیزا لیل سماٹریش پر عوامی دباو بڑھ رہا ہے کہ وہ اسرائیل کے بجٹ پر نظر ثانی کریں۔

اسرائیل کی معیشت کو بڑا دھچکا

جنگ کے باعث اسرائیل کی کرنسی شیکل 2012 کے بعد کم ترین سطح پر آ چکی ہے۔ بینک آف اسرائیل کے مطابق جنگ کے باعث اسرائیل کی کرنسی شیکل مسلسل اپنی قدر کھو رہی ہے۔ امریکی نشریاتی ادارے بلوم برگ کا کہنا ہے کہ جنگ شروع ہونے کے بعد امریکی ڈالر کے مقابلے میں اسرائیلی کرنسی شیکل کی قدر میں 0.7 فیصد کمی ہوئی ہے۔ اسرائیل کے بانڈز اور سٹاکس میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ غزہ پر جاری جنگ علاقائی تنازعے کی صورت اختیار کر سکتی ہے۔

اسرائیل کی وزارت افرادی قوت کا کہنا ہے کہ غزہ پر جنگ کی وجہ سے ورک فورس میں 20 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جنگ کے باعث اسرائیل کی درآمدات اور برآمدات متاثر ہو سکتی ہیں۔

اسرائیل کے جنگی بجٹ میں اضافہ

نیتن یاہو کی اتحادی حکومت کو رواں مالی سال کے بجٹ پر شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ اسرائیل کی وزارت خزانہ نے بجٹ پر نظر ثانی کی ترامیم پیش کی ہیں جنہیں وزیر اعظم نین یاہو نے منظور کرلیا ہے۔

ترامیم کے تحت اسرائیل کے جنگی بجٹ میں اضافہ کیا جا رہا ہے اور وزارتوں کے بجٹ میں کٹوتی کی جائے گی اور اتحادی فنڈ بھی کم کیا جائے گا۔

بائیں بازو کی جماعتوں کی طرف سے فنڈز میں کٹوتی کے فیصلے پر وزیر اعظم نیتن یاہو پر تنقید کی جا رہی ہے۔

اقتصادی امور کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسرائیل اپنے دفاع پر بھاری اخراجات کر رہا ہے اور بظاہر یوں لگتا ہے کہ آئندہ بجٹ میں بھی دفاعی اخراجات کو ترجیح دی جائے گی اور کئی دہائیوں کے بعد اسرائیل اپنے دفاعی اخراجات کے لیے بھاری بجٹ مختص کرے گا۔

معاشی ماہر شاہد محمود کا کہنا ہے کہ ’اسرائیل کے دفاعی بجٹ میں اضافہ ہوگا اور نیتن یاہو کو اپنی اتحادی حکومت کو برقرار رکھنے کے لیے سالانہ بجٹ پر نظر ثانی کرنا ہوگی۔‘

اسرائیل کے با اثر ماہرین اقتصادیات نے حکومت کو لکھے گئے ایک خط میں خبردار کیا کہ حکومت اپنے بجٹ پر نظر ثانی کرے اور اس میں دفاع کو ترجیح دی جائے۔

300  معاشی ماہرین نے رواں ہفتے نیتن یاہو کو کہا کہ وہ تمام غیر ضروری اخراجات میں کمی کریں، اخراجات پر نظر ثانی کریں کیونکہ جنگ کے بعد امداد اور بحالی کے لیے اربوں ڈالرز کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

اسرائیل کی معیشت

اسرائیل کی معیشت کا حجم 530 ارب ڈالرز سے زائد ہے اور فی کس آمدن 58 ہزار 273 ڈالرز ہے۔

مرکزی بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر 200 ارب ڈالرز ہیں جو ایک سال کے درآمدی بل کے برابر ہے۔

اسرائیل کی معیشت میں خدمات کے شعبے کا حصہ 80 فیصد اور صنعتی شعبے کا شیئر 17 فیصد سے زائد ہے۔

غزہ پر جنگ کی وجہ سے اسرائیل کے زرمبادلہ کے ذخائر میں سات ارب ڈالرز کی کمی ہوئی ہے اور اب یہ 191.2 ارب ڈالرز تک پہنچ چکے ہیں۔

تجزیہ کاروں کی رائے

ماہر معاشی امور شفت اللہ کا کہنا ہے کہ ’اسرائیل کی معیشت کو امریکہ اور یورپ کے ساتھ ملا کر دیکھیں۔ ہاں اگر اسرائیل اکیلے یہ جنگ لڑ رہا ہوتا تو شاید اب تک اس کی معیشت تباہ ہو چکی ہوتی۔‘

عالمی ریٹنگ ایجنسی سٹینڈرڈ اینڈ پوور (ایس اینڈ پی)  نے حالیہ جنگ کی وجہ سے اسرائیلی معیشت میں پانچ فیصد کمی کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

ریٹنگ ایجنسی نے آئندہ مہینوں میں اسرائیلی معیشت میں سست روی کا بھی امکان ظاہر کیا ہے۔

کاروباری سرگرمیوں میں کمی ہو رہی ہے ، صارفین اشیا کی خریداری کم کر رہے ہیں جس سے ڈیمانڈ میں کمی ہو رہی ہے اور سرمایہ کاری کے ماحول پر غیر یقینی کے بادل چھائے ہوئے ہیں۔

اسرائیل کا بجٹ خسارہ اکتوبر میں ملک کی مجموعی پیدوار’ جی ڈی پی‘ کا 2.6 فیصد تک پہنچ چکا ہے جو کہ ستمبر میں 1.5 فیصد تھا۔  

خیال رہے کہ اسرائیل نے 2022 میں 35 سال بعد جی ڈی پی کا 0.6 فیصد بجٹ سرپلس دیا تھا۔ جنگی اخراجات کے باعث اسرائیل کا بجٹ خسارہ 2024 میں 3.5 فیصد تک پہنچ سکتا ہے ۔

گذشتہ سال 2022 میں اسرائیل کی معاشی شرح نمو ’جی ڈی پی‘ کا 6.5 فیصد تھی۔ ایس اینڈ پی کے مطابق رواں سال اسرائیل کی جی ڈی پی 1.5 فیصد تک رہے گی جب کہ اگلے سال 2024 میں جی ڈی پی 5 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔

اسرائیل کے مرکزی بینک کے مطابق 2023 میں اسرائیل کی معاشی شرح نمو 2.3 فیصد تک رہ سکتی ہے جب کہ اگلے سال 2024 میں معاشی شرح نمو 2.8 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔

اس جنگ کی وجہ سے اسرائیل کے اسلحے کی برآمدات بری طرح متاثر ہوسکتی ہیں۔ اسرائیلی اسلحے کی برآمدات مجموعی برآمدات کا پانچ فیصد ہیں جبکہ طویل جنگ کی وجہ سے اسرائیل کی سیاحت بھی متاثر ہو سکتی ہے کیوں کہ جنگ کے بعد بڑی فضائی کمپنیوں کی اسرائیل کے لیے پروازیں بھی متاثر ہوئی ہیں۔

جنگ کی وجہ سے اسرائیل کا قرض بلحاظ جی ڈی پی 60 فیصد تک پہنچ چکا ہے جو اگلے سال تک 55 فیصد تک رہنے کا اندازہ تھا۔

مشرق وسطیٰ اور عرب ممالک پر گہری نظر رکھنے والے ماہر شفقت اللہ نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ امریکی اور یورپی یہودیوں کا بینکنگ، معیشت اور میڈیا پر پورا کنٹرول ہے، امریکی کانگریس میں بہت کم ہوتا ہے کہ کوئی سینیٹر اسرائیل کی مخالفت کرے۔

ماہر معیشت شاہد محمود نے کہا کہ جنگ کے باعث اسرائیل کے اسلحے کی فروخت، دفاعی برآمدات اور ہائی ٹیک شعبوں میں سرمایہ کاری متاثر ہو سکتی ہے۔

جنگ کا خرچہ کون دے رہا ہے؟

مرکزی بینک نے اسرائیل کو جنگ کے لیے 45 ارب ڈالرز فراہم کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ امریکی کانگریس نے اسرائیل کو 14 ارب ڈالرز سے زائد کے امدادی پیکیج کی منظوری دی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

امریکی کانگریس ریسرچ سروس کی رپورٹ کے مطابق رواں سال کے لیے اسرائیل کو فوج کے لیے 3.3 ارب ڈالرز مختص کیے ہیں۔

ماہر معاشی امور شفت اللہ کا کہنا ہے کہ اسرائیل کو جنگ میں جتنا مالی نقصان ہوتا ہے وہ امریکہ اور یورپ اس کی مدد کرتے ہیں ’1948 سے آج تک لڑی جانیوالی تمام جنگیں اسرائیل نے امریکہ اور یورپ کے ساتھ مل کر لڑی ہیں ، اسرائیل نے آج تک کوئی جنگ اکیلے نہیں لڑی ، اسرائیل کی وار مشینری میں بھی اتنی طاقت نہیں کہ وہ اکیلے یہ جنگ لڑ سکے۔‘

اسرائیل کی فوجی طاقت

انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار سٹریٹیجک سٹڈیز کی ایک رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج میں ایک لاکھ 69 ہزار 500 اہلکار موجود ہیں جب کہ چار لاکھ 65 ہزار افراد ریزرو فوج کا حصہ ہیں۔

اسرائیل کی بری فوج کے پاس 2200 ٹینکس اور 530 آرٹلریز ہیں۔

اسرائیل کے پاس جدید ترین موبائل ایئر ڈیفنس موجود ہے، جو چھوٹی رینج کے راکٹس کو پکڑنے اور تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اسرائیلی کی فضائیہ کے پاس 339 جنگی لڑاکا طیارے ہیں جن میں 196 ایف 16 ، 83 ایف 15 اور 30 ایف 35 لڑاکا طیارے بھی موجود ہیں۔ اسرائیل کے پاس پانچ جدید ترین سب میرینز بھی ہیں۔

سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے دفاع کی مد میں 2023 میں 23.4 ارب ڈالرز خرچ کیے۔

انڈیا اسرائیلی اسلحے کا سب سے بڑا خریدار ہے۔ گذشتہ چار برسوں میں انڈیا نے اسرائیل سے ایک ارب 19 کروڑ ڈالرز کا اسلحہ خریدا۔

انڈیا کے بعد آذربائیجان، فلپائن اور امریکہ اسرائیلی اسلحے کے بڑے خریدار ہیں۔ اسرائیل امریکہ اور جرمنی سے اسلحے کی بڑی خریداری کرتا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی تحقیق