آرمی چیف کی توسیع کے خلاف مقدمہ واپس : ’ڈر گئے ہیں کیا؟‘

درخواست گزار عزیز الدین نے عدالت کو بتایا کہ وہ پٹیشن واپس لینا چاہتے ہیں جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ’کیا وجہ ہے، ڈر گئے ہیں آپ؟‘

انڈپینڈنٹ اردو  کے سامنے آنے والی رٹ پٹیشن کی کاپی میں لکھا گیا ہے کہ پاکستان میں ایسا کوئی قانون موجود نہیں جس کے تحت آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع دی جائے۔

پشاور ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے پاکستان فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی توسیع کے خلاف درخواست گزار کی جانب سے پٹیشن واپس لینے پر نمٹا دیا۔

پشاور ہائی کورٹ کے وکیل عزیز الدین کاکاخیل نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو تین سال کی توسیع دینے کے خلاف عدالت میں رٹ دائر کی تھی۔ رٹ پٹیشن میں مختلف وجوہات بیان کی گئی تھیں اور عدالت سے درخواست کی گئی تھی کہ وہ اس توسیع کو غیر قانونی قرار دے دیں۔

پشاور ہائی کورٹ میں بدھ کے روز اس کیس کی سماعت چیف جسٹس پشاور وقار احمد سیٹھ اور جسٹس محمد نعیم کر رہے تھے۔ حکومت کی جانب سے پاکستان کے اٹارنی جنرل انور منصور اور ایڈوکیٹ جنرل شمائل بٹ عدالت میں پیش ہوئے۔

دوران سماعت چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ نے ریمارکس دیتے ہوئے بتایا کہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ اٹارنی جنرل آف پاکستان پشاور کی عدالت میں پیش ہوئے ہیں۔

اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ درخواست گزار نے فیس بک سے نوٹیفکیشن اٹھا کر رٹ دائر کی ہے جو کہ ایک غلط نوٹیفکیشن ہے اور درخواست گزار نے نے رٹ بھی واپس لے لی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

درخواست گزار عزیز الدین ایڈوکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ وہ پٹیشن واپس لینا چاہتے ہیں جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ’کیا وجہ ہے، ڈر گئے ہیں آپ؟‘

انڈپینڈنٹ اردو  کے سامنے آںے والی رٹ پٹیشن کی کاپی میں لکھا گیا ہے کہ پاکستان میں ایسا کوئی قانون موجود نہیں جس کے تحت آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع دی جائے۔ درخواست میں لکھا گیا گیا ہے کہ پاکستان آرمی میں دیگر سینیئر جنرل اتنے ہی اہل ہیں جتنے موجودہ آرمی چیف ہیں، اس لیے یہ ان دیگر جنرلز کے ساتھ نا انصافی ہے  اور غیر قانونی ہے۔

رٹ پٹیشن میں مزید لکھا گیا کہ آرمی چیف کی توسیع کا نوٹیفکیشن وزیر اعظم کی جانب سے جاری ہوا ہے جب کہ آئینی طور پر صدر کے پاس یہ اختیار موجود ہے کہ وہ وزیر اعظم کے مشورے سے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا فیصلہ کریں اس لیے وزیر اعظم ہاؤس سے جاری شدہ نوٹیفکیشن کو غیر قانونی قرار دیا جائے۔

وزیر اعظم ہاؤس سے جاری شدہ آرمی چیف کی توسیع کے ‘اعلان‘ کے حوالے سے پشاور ہائی کورٹ کے سینیئر صحافی وسیم احمد شاہ نے انڈپینڈ نٹ اردو کو بتایا کہ کہ جس نوٹیفکیشن کی بات ہو رہی ہے وہ وزیر اعظم ہاؤس سے جاری ہوا تھا جس میں آرمی چیف کی توسیع کی حوالے سے بات کی گئی تھی۔

وسیم نے بتایا کہ کہ اصل میں آئینی طور پر توسیع کا نوٹیفکیشن وزارت دفاع یا صدر کی جانب سے جاری ہوتا ہے کیوں کہ آئینی طور یہ ان کا ڈومین ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ’آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے قانونی طور وزارت دفاع کی جانب سے بعد میں نوٹیفکیشن جاری ہوا ہوگا جسے ایک قانونی حیثیت حاصل ہے۔ آرمی چیف کی توسیع کے حوالے سے آئین یا قانون میں کوئی ایسی تفصیل موجود نہیں ہے کہ اگر توسیع ہوئی تو غیرقانونی ہوگی۔‘

وزیر اعظم ہاؤس سے جاری کیے گئے اس اعلان کے حوالے سے چند روز پیشتر وزیر اعظم ہاؤس کے ایک اہلکار نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا تھا کہ یہ ’ڈائریکٹیو (ہدات نامہ) تھا جو وزیر اعظم ہاؤس کی جانب سے ہی جاری کیا گیا تھا۔

اس سارے معاملے پر درخواست گزار عزیز الدین سے جب انڈپینڈنٹ اردو نے رابطہ کیا تو انھوں نے پہلے میڈیا کے رویئے پر گلہ کر کے بتایا کہ میڈیا نے تو اس کیس پٹیشن کو کوئی اہمیت ہی نہیں دی۔  ان سے جب پوچھا گیا کہ کیس واپس لینے کی کیا وجوہات ہیں تو جواب میں انھوں نے بتایا کہ ’اب چونکہ میں نے کیس واپس لیا ہے اس لیے میں اس پر مزید گفتگو کرنا نہیں چاہتا۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان