آسٹریلیا: دوران پرواز جہاز شدید ناہمواری کا شکار، عملہ ہسپتال منتقل

یہ واقعہ آسٹریلیا کی کم بجٹ والی ایئرلائن ’بونزا‘ کے ایک طیارے میں پیش آیا جو منگل (21 نومبر) کو ریاست کوئنز لینڈ کے دو شہروں راک ہیمپٹن اور سن شائن کوسٹ کے درمیان پرواز کر رہا تھا۔

بونزا ایک نئی ایئرلائن ہے جس نے رواں سال جنوری میں آپریشن شروع کیا ہے (مچل ہوپ/ فلکر/ وکی پیڈیا)

آسٹریلیا میں ایک پرواز کے دوران شدید ناہمواری (ٹربلینس) کی وجہ سے طیارے میں موجود عملے کے ارکان کو ہسپتال منتقل کرنا پڑا۔

یہ واقعہ آسٹریلیا کی کم بجٹ والی ایئرلائن ’بونزا‘ کے ایک طیارے میں پیش آیا، جو منگل (21 نومبر) کو ریاست کوئنز لینڈ کے دو شہروں راک ہیمپٹن اور سن شائن کوسٹ کے درمیان پرواز کر رہا تھا۔

اس واقعے میں زخموں کی نوعیت اور زخمیوں کی صحیح تعداد کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

فضائی کمپنی بونزا کے چیف ایگزیکٹیو ٹم جارڈن نے دی انڈپینڈنٹ کو تصدیق کی کہ کسی بھی مسافر کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔

انہوں نے بتایا: ’راک ہیمپٹن سے سن شائن کوسٹ کی پرواز کو غیر متوقع اور شدید جھٹکوں کا سامنا کرنا پڑا، جس کی وجہ سے بونزا کی پرواز کے عملے کے کچھ ارکان کو سن شائن کوسٹ یونیورسٹی ہسپتال میں ٹیسٹ کی ضرورت پڑی۔‘

ٹم جارڈن نے مزید کہا: ’ہماری ترجیح ہمیشہ عملے اور صارفین کی حفاظت رہی ہے۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ واقعہ کے بعد عملے کے ارکان کو شام کو گھر واپس جانے کی اجازت دے دی گئی۔

دوران پرواز ناہمواری کی وجہ سے سن شائن کوسٹ سے وکٹوریہ کے شہر ملڈورا کے لیے بھی پرواز منسوخ کرنا پڑی جب کہ ایک اور طیارے کا معائنہ بھی کرنا پڑا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ٹم جارڈن نے مزید بتایا: ’مڈ ایئر ٹربلینس ایک ایسی چیز ہے جس کا سامنا کسی بھی ایئر لائن کو ہو سکتا ہے۔ اس کا سامنا کرنے کے بعد ہم نے رائج طریقہ کار کی پیروی کی۔ ہم ایک جائزے کے عمل سے گزریں گے اور دوران پرواز پیش آنے والی صورت حال سے سیکھیں گے۔ ہماری ہمدردی ان صارفین اور عملے کے ساتھ ہے جو کل کے واقعات سے متاثر ہوئے ہیں۔ طیارے کا اچھی طرح سے معائنہ کیا گیا ہے، جو کچھ دنوں میں اپنا آپریشن شروع کر دے گا۔‘

بونزا ایک نئی ایئرلائن ہے جس نے رواں سال جنوری میں آپریشن شروع کیا ہے۔

فضائی کمپنیوں پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ http://Planespotters.net کے مطابق اس کمپنی کے بیڑے میں پانچ طیارے شامل ہیں جو پورے آسٹریلیا میں ڈومیسٹک اور علاقائی روٹس پر خدمات فراہم کرتی ہے۔

یہ واحد ایئر لائن نہیں ہے جسے اس سال دوران پرواز شدید جھٹکوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

جون میں سنگاپور سے ہیتھرو جانے والی برٹش ایئرویز کی پرواز کو خلیج بنگال پر ایسی ہی شدید مڈ ایئر ٹربلینس کا سامنا کرنا پڑا تھا جس کے بعد اسے پہنچنے والے ممکنہ نقصان کی جانچ کے لیے سنگاپور واپس لوٹنا پڑا تھا۔ طیارے میں سوار ایک خاتون نے اپنے خوف کو بیان کیا جب طیارہ ’سالوں میں‘ ہونے والی اس بدترین ایئر ٹربلینس سے اس وقت ٹکرا تھا جب یہ 30 ہزار فٹ کی بلندی پر پرواز کر رہا تھا۔ خاتون، جو دو بچوں کی والدہ ہیں، نے کہا کہ ایسا محسوس ہوا جیسے وہ ’آسمان سے گر رہی تھیں۔‘

دو ماہ قبل بھی آٹھ مسافروں اور عملے کے دو ارکان کو اس وقت طبی امداد کی ضرورت پڑی جب شدید جھٹکوں کے بعد پرتگال جاتے ہوئے ایک طیارے کو حادثہ پیش آیا تھا۔ کیمرے پر ریکارڈ ہونے والے ان لمحات میں مسافروں اور کھانے کو ایک دوسرے پر گرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا