نامعلوم افراد نے توہین مذہب کا الزام لگا کر رقم مانگی: ڈنشا آواری  

ڈنشا آواری نے کہا ہے کہ انہیں ایک ای میل موصول ہوئی کہ ہم 200 بٹ کوائن (تقریباً ساڑھے 75 لاکھ امریکی ڈالر) بھیجیں۔

آواری گروپ کے پاکستان بھر میں آواری ایکسپریس اور آواری بوتیک کے نام سے متعدد ہوٹل ہیں (Antoine POURCHOT)  

 

پاکستان کے متعدد شہروں میں فائیو سٹار ہوٹلز گروپ آواری ہوٹلز لمیٹڈ کے مالک ڈنشا آواری نے کہا ہے کہ نامعلوم افراد نے ان اور ان کے خاندان پر توہین مذہب کا جھوٹا الزام لگا کر انہیں بلیک میل کرتے ہوئے غیر ملکی ڈجیٹل کرنسی میں بھاری رقم مانگی ہے اور رقم ادا نہ کرنے پر ان اور ان کے خاندان کو نقصان پہنچانے کی دھمکی بھی دی ہے۔  

انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے ڈنشا آواری نے کہا کہ نامعلوم افراد نے ہمارے نام سے منسوب جھوٹی ای میل آئی ڈی بنا کر اس کی معرفت 200 سے زائد لوگوں کو ایک مذہبی توہین آمیز کارٹون بھیجا، جس کے بعد انہیں ای میل کر کے بلیک میل کرتے ہوئے رقم مانگی۔  

ڈنشا آواری کے مطابق: ’ہمیں 14 نومبر کو ایک ای میل موصول ہوئی کہ ہم 200 بٹ کوائن (تقریباً ساڑھے 75 لاکھ امریکی ڈالر) بھیجیں۔ رقم بھیجنے کے لیے ڈجیٹل ایڈریس بھی دیا گیا۔ ہم اس ای میل کا کوئی جواب نہیں دیا۔‘ 

ڈنشا آواری کے مطابق دوبارہ 16 نومبر کو ای میل آئی کہ 24 گھنٹوں کے اندر ای میل کا جواب دیں اور چھ دنوں میں رقم ادا کریں۔ جس کے بعد 28 نومبر کو ای میل موصول ہوئی جس میں 200 بٹ کوائن کی رقم کو کم کر کے 60 بٹ کوائن (تقریباً ساڑھے 22 لاکھ امریکی ڈالر) کر دی گئی۔ 

بقول ڈنشا آواری: ’ہمارے خاندان کی جانب سے کسی بھی قسم کا توہین آمیز مواد  بنانے کا سوال ہی نہیں اٹھتا۔ ہم تمام مذاہب اور خاص طور پر اسلام کی عزت کرتے ہیں، کیوں کہ اسلام پاکستان کی اکثریت آبادی کا مذہب ہے، جنہوں نے ہم مذہبی اقیلتوں کو تحفظ دیا اور آج ہم جو ہیں وہ ان کی وجہ سے ہیں۔ 

’ہمیں پاکستانی ہونے پر فخر ہے اور گروپ کی جانب سے بھیجے جانی والی تمام ای میلز میں ’1944 سے خاندانی ملکیت، فخریہ پاکستانی‘ لکھے جاتے ہیں۔‘  

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ڈنشا آواری نے کہا کہ آواری گروپ نسل، لسانیت، مذہب یا صوبائی پس منظر کی تفریق کے بغیر مساوی طور پر سب کو ملازمت کے مواقع فراہم کرتا ہے۔ 

بقول ان کے: ’ہم بلیک میلنگ کے سامنے نہیں جھکتے، ہم نے فوری طور پر وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) سائبر کرائمز اور سٹیزنز پولیس لیازن کمیٹی (سی پی ایل سی) کے پاس شکایت درج کرائی ہے۔ 

’آواری خاندان گذشتہ چار نسلوں سے قانون کی پاسداری کرنے والے پاکستانی خاندان ہے۔ جس نے تقسیم سے پہلے پاکستان میں ہوٹل کے کاروبار کا آغاز کیا تھا، جب مرحوم ڈنشا بی آواری نے اس گروپ کی بنیاد رکھی تھی۔‘ 

 ڈنشا آواری کے والد بیرام ڈی آواری 1988 اور 1990 میں قومی اسمبلی کے رکن اور مجلس شوریٰ کے بھی رکن رہے۔  

بیرام ڈی آواری نے 1983 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاکستان کی نمائندگی بھی کی۔ انہوں نے 1978 کے ایشین گیمز میں کشتی رانی میں پاکستان کا پہلا گولڈ میڈل جیتا۔ بیرام آواری کو 1978 میں صدر کے گولڈ میڈل اور 1982 میں پرائیڈ آف پرفارمنس سے نوازا گیا۔ 

کراچی میں سمندر کے کنارے موجود آواری گروپ کے بیچ لگژری ہوٹل کا آغاز 21 مارچ 1948 کو ہوا ۔ اس کے علاوہ 1978 میں آواری لاہور اور 1985 میں آواری ٹاورز کا آغاز ہوا۔ 

آواری گروپ کے پاکستان بھر میں آواری ایکسپریس اور آواری بوتیک کے نام سے متعدد ہوٹل ہیں۔  

2021 میں سندھ حکومت نے کیماڑی برج سے خمیس گیٹ تک جانی سڑک کا نام ڈنشا آواری کے والد بیرام بی آواری کے نام پر رکھا ہے۔  

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان