بہاماس میں دس کروڑ ڈالر کے گمشدہ خزانے کا نقشہ تیار کر لیا گیا

کارل ایلن نامی ایک تاجر نے سمندر کی تہہ سے 1656 میں ڈوبنے والے ایک ہسپانوی جہاز پر لدے خزانے کے کچھ حصوں کی شناخت کرنے میں مدد کی ہے۔

ایلن ایکس نامی کمپنی کے پاس بہاماس میں ڈوبنے والے اس جہاز پر لدے خزانے کو تلاش کرنے کا واحد لائسنس ہے (سی بی ایس مارننگز)

ایک تاجر نے بہاماس میں 300 سال قبل ایک بحری جہاز کے ملبے سے 10 کروڑ ڈالر مالیت کے خزانے کے کچھ حصوں کی شناخت کرنے میں مدد کی ہے۔

کوڑے دان کے شاپر بنانے والی کمپنی ہیریٹیج بیگ کے سابق سی ای او کارل ایلن نے سمندر کی تہہ سے مہنگے نوادرات کھوجنے پر توجہ مرکوز کی، جو 1656 میں ہسپانوی خزانے کا جہاز ڈوبنے کے بعد کھو گئے تھے۔

اس منصوبے میں کئی برسوں کی تلاش اور سرمایہ کاری کے بعد، ایلن کی تنظیم، ایلن ایکس نے بہاماس میں سطح سمندر پر دو میل تک کھوئے ہوئے خزانے اور دولت کا نقشہ بنایا۔

بہت سے آثار قدیمہ کے ماہرین اور خزانے کے متلاشی برسوں سے یہ دیکھنے کے لیے بہاماس آتے رہے کہ انہیں’نیوسٹرا سینورا ڈی لاس مارویلاس‘ جہاز کی کونسی چیز ملتی ہے۔

جنوری 1656 میں یہ جہاز ایک دوسرے جہاز سے ٹکرانے کے بعد ایک گھنٹے سے بھی کم وقت میں ڈوب گیا تھا، جس سے زیورات، چاندی کی اینٹوں اور سکوں جیسی دولت کا ایک بڑا ذخیرہ پانی میں گر گیا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سی بی ایس کی رپورٹ کے مطابق 1999 تک اس خزانے کا زیادہ تر حصہ مل گیا تھا اور اسے نیلامی میں فروخت کیا گیا اور نجی کلیکشنز میں رکھا گیا تھا۔ پھر بہاماس کی حکومت نے اپنی حدود سے مزید چیزوں نکالنے کے لیے تلاش پابندی عائد کردی تھی۔

تاہم سمندری ماہر آثار قدیمہ جم سنکلیئر نے سی بی ایس کو بتایا: ’ان کا ماننا ہے کہ سمندر کی تہہ میں اب بھی 10 کروڑ ڈالر سے زائد کے خزانے اور نوادرات موجود ہیں۔‘ انہوں نے دعویٰ کیا کہ جہاز کا ’مرکزی ڈھیر‘ ابھی تک نہیں ملا ہے۔

ایلن کی خوش قسمتی تھی کہ 2019 میں ایلن ایکس کے لیے اس دریافت پر عائد پابندی ختم کر دی گئی تھی، جنہیں 250 مربع فٹ پانی میں باقی رہ جانے والی چیزوں کی کھوج کا واحد لائسنس دیا گیا تھا۔

کمپنی کی نئی رپورٹ کے مطابق اب تک ایلن ایکس نے 183 فٹ لمبے ریسرچ جہاز، معاون کشتیوں، آبدوزوں اور غوطہ خوروں کی مدد سے اپنے دو میل کے علاقے میں ’ممکنہ ثقافتی اہمیت‘ کی تقریباً 8,800 اشیا کی نقشہ سازی کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ انہیں ’پتھر، لکڑی کا تختہ، لوہے کے کنڈے، بندوقیں، چاندی کے سکے، چاندی کی اینٹیں، زمرد، نیلم اور سونے کے زیورات‘ جیسی چیزیں ملی ہیں۔

اگرچہ ان کے غوطہ خوروں نے کامیابی کے ساتھ اپنی بہت سی دریافتوں میں نوادرات نکالنے کی نشاندہی کی ہے، لیکن یہ کام مختلف عوامل کی وجہ سے بہت زیادہ پیچیدہ ہے۔

ماضی میں کچھ ملنے والی کچھ چیزیں 1.5 میٹر ریت کے نیچے دفن تھیں اور سینکڑوں سالوں میں ملبے کی نقل و حرکت نے اشیا کو بکھیر دیا، جس سے انہیں تلاش کرنا مشکل ہوگیا ہے۔

ایلن نے سی بی ایس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جہاز کا تباہ شدہ سامان نکالنے اور اس کی شناخت میں ’قدرت‘ سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

اس کے باوجود، ایلن ایکس نے مارویلاس سے 10 ہزار سے زیادہ نوادرات برآمد کیے ہیں، لیکن کمپنی کی رپورٹ میں کہا گیا کہ چونکہ ’اہم آثار قدیمہ کی باقیات باقی ہیں‘ اس لیے جہاز کو ’گمنامی میں فراموش نہیں کیا گیا۔‘

ایلن ایکس کے لیے مارویلاس خزانے کا نقشہ بنانا ان کے ذاتی مالی فائدے کے لیے نہیں تھا، لیکن انہیں امید تھی کہ وہ انہیں بہاماس میں اپنی کمپنی کے تعمیر کردہ میری ٹائم میوزیم میں تاریخی نمائش کے طور پر رکھیں گے۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا