لیڈی کانسٹیبل کا استعفی اور غلط ایف آئی آر کے حقائق

ڈسٹرکٹ پولیس افسر شیخوپورہ غازی صلاح الدین کے مطابق ایف آئی آر میں تین جگہ ان کا نام درست لکھا تھا جب کہ ایک جگہ ان کا نام غلطی سے احمد افتخار لکھا گیا، نام اب درست کردیا گیا ہے۔

اس سے پہلے متاثرہ خاتون کانسٹیبل فائزہ نواز نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا تھا کہ وکلا کے خلاف کوئی کچھ نہیں کرسکتا۔ انہوں نے وزیر اعظم اورچیف جسٹس آف پاکستان سے معاملے کا نوٹس لینے کی اپیل بھی کی تھی۔(سوشل میڈیا)

شیخوپورہ کے علاقے فیروز والہ میں وکیل کے تھپڑ مارنے پر لیڈی کانسٹیبل فائزہ نواز نے دل برداشتہ ہوکر نوکری سے مستعفی ہونے کا اعلان کردیا۔ اپنے ویڈیو پیغام نے انہوں نے کہا کہ انہیں دوران ڈیوٹی غلط گاڑی پاک کرنے سے منع کرنے پر سب کے سامنے تھپڑ مارنے والا وکیل احمد مختار باآسانی رہا ہو گیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ان کے محکمے کے بعض افسران کے کہنے پر ایف آئی آر جان بوجھ کر غلط درج کی گئی جس کی وجہ سے ان پر تشدد کرنے والا ملزم رہا ہوا۔ انہوں نے دعوی کیا کہ ان پر پریشر ڈالاجا رہا ہے اور وہ ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔ انہیں انصاف کی امید نہیں اس لیے نوکری سے استعفی دے رہی ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس محکمے میں کمزور اہلکاروں کی گنجائش نہیں۔

اس سے پہلے متاثرہ خاتون کانسٹیبل فائزہ نواز نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا تھا کہ وکلا کے خلاف کوئی کچھ نہیں کرسکتا۔ انہوں نے وزیر اعظم اورچیف جسٹس آف پاکستان سے معاملے کا نوٹس لینے کی اپیل بھی کی تھی۔

ڈسٹرکٹ پولیس افسر شیخوپورہ غازی صلاح الدین کے مطابق فیروز والہ کچہری میں سیکیورٹی ڈیوٹی پر تعینات لیڈی کانسٹیبل کو تھپڑ مارنے والے وکیل احمد مختار کے خلاف مقدمہ درج کر کے انہیں گرفتارکیا گیا۔ ایف آئی آر میں تین جگہ ان کا نام درست لکھا تھا جب کہ ایک جگہ ان کا نام غلطی سے احمد افتخار لکھا گیا۔ نام اب درست کردیا گیا ہے۔

متعلقہ وکیل کی ضمانت قابل ضمانت جرم ہونے کی وجہ سے ہوئی۔ جب کہ لیڈی کانسٹیبل محکمانہ کارروائی ہونے کے باوجود سوشل میڈیا پر معاملہ کو اچھال کر محکمہ کے نظم وضبط کی خلاف ورزی کر رہی ہیں۔

پولیس ایف آئی آر میں مجرموں کو فائدہ کیسے ہوتا ہے؟

قانون دان شعیب چودھری کے مطابق ’پولیس کی فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) میں غلطی کا فائدہ  مجرم کو اس وقت ہوتا ہے جب کیس عدالت میں آتاہے۔ کئی بار ایف آئی آر میں واقعے کے مطابق دفعات شامل نہیں ہوتیں یا غلط معلومات درج ہوتی ہیں جس سے ملزم باآسانی عدالتوں سے آزاد ہوجاتے ہیں۔‘

انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگوکرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ ’عدالتوں میں آنے والے کئی مقدمات میں ایف آئی آر کے اندر حقائق کے برعکس دفعات بھی تفتیش میں جانبداری کا تاثر دیتی ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ ایف آئی آر کے اندراج میں قانونی پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے دفعات شامل کر کے تحریر کا دوبارہ جائزہ لیا جائے۔ کیوں کہ تھانوں میں بےتحاشہ رش کے باعث بھی محررمکمل توجہ سے تحریر نہیں لکھ سکتے۔ بعض اوقات اسے کمپوزکرتے ہوئے بھی ان سے غلطیاں ہوجاتی ہیں۔ اس طرح متاثرین کو انصاف کےحصول میں دشواری ہوتی ہے۔‘

اثرورسوخ کا استعمال اور غلط معلومات:

یہ پہلی بار نہیں کہ پولیس کی جانب سے درج ایف آئی آر میں ملزم کا نام غلط درج ہوا ہو۔ انڈپینڈنٹ اردو کے ذرائع کے مطابق لاہور کے عدالتی ریکارڈ میں گزشتہ ایک ماہ کے دوران 680 درخواستیں ایسی دائر کی گئیں جن میں ایف آئی آر میں دفعات اور وقوعہ کی معلومات درست درج نہ ہونے پر شکایات کی گئی ہیں۔

سابق آئی جی پنجاب خواجہ خالد فاروق کہتے ہیں پولیس نظام میں خامیوں کی وجہ صرف پولیس نہیں بلکہ معاشرتی شعورکم ہونا بھی ہے۔ انڈپینڈنڈنٹ اردو سے گفتگوکرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں جب بھی کوئی واقعہ پیش آتا ہے تو متاثرین اپنے مخالفین کو سخت سزا دلوانے کے لیے جھوٹے بیانات ریکارڈ کراتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر کسی نے گالم گلوچ کی ہوتو اس کے خلاف تھانوں میں دی گئی درخواست میں مسلح ہونے اور جان سے مارنے کی دھمکیوں کا الزام لازمی ہوتاہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کیوں کہ تلخ کلامی اور گالم گلوچ پردفعہ 107اور530 کی کارروائی ہوتی ہے جس پر چند ماہ کی معمولی سزا ہوتی ہے جو قانون کے مطابق ہے۔ اسی لیے ہر کی ایک کوشش ہوتی ہے معاملے کو بڑھا چڑھا کرپیش کیا جائے۔ اس معاملے میں سندھ اور پنجاب میں جھوٹی شہادتوں اور بیانات کی شرح سب سے زیادہ ہے۔

سابق آئی جی پنجاب کے مطابق ’شیخوپورہ خاتون کانسٹیبل فائزہ نواز کے معاملے کو بھی غلط رنگ دیا جا رہا ہے۔ وکلا پریشر کے باوجود پولیس نے کارروائی کی اور تھپڑ مارنے والے وکیل کو حراست میں لے کر لیڈی کانسٹیبل کے ہاتھوں اسے ہتھکڑی لگا کرعدالت پیش کیا گیا۔ اگر ملزم وکیل کا نام غلطی سے ایف آئی آر میں درج نہ بھی ہوتا تو بھی ضمانت ہوجانی تھی کیونکہ جرم قابل ضمانت تھا۔‘

’لیکن اس سارے معاملے میں پولیس کانسٹیبل کا رویہ اپنے محکمہ پر عدم اعتماد اور اس کی تشہیر نظم وضبط کی خلاف ورزی ہے۔ اب ملزم وکیل کو قانون کے مطابق ہی سزا دی جاسکتی ہے، پولیس خود سے تو انہیں سزا نہیں دے سکتی۔ لہذا پولیس کے ساتھ شہریوں کو بھی چاہئے کہ وہ قانونی پہلووں کو اپنی ذاتی انتقام کی خواہش سے الگ رکھیں۔ کیوں کہ اگر دفعات حقائق کے مطابق نہ ہوں تو کیس تفتیش میں ویسے ہی کمزور ثابت ہوجاتا ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان