پبلک ٹرانسپورٹ یا نائی خانے

اپنے موبائل کا استعمال تو آپ بھول جائیں کیونکہ ساتھ بیٹھے مسافر کی نظریں اپنے سے زیادہ آپ کے موبائل کی سکرین پر لگی ہوتی ہیں۔ تجسس کا مادہ اپنی جگہ لیکن جاسوسی تو اس سے کئی قدم آگے کی بات ہے۔

شہری آداب کی تعلیم نہ ہونے کی وجہ سے اکثر سفر میں کوئی ایک مسافر اسے گاڑی نہیں بلکہ نائی کی دکان بنا دیتا ہے (اے ایف پی)

آپ جب بھی کبھی کسی پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کریں تو یہ بات ضرور ذہن میں رکھیں کہ آپ اکیلے ایسا نہیں کر رہے۔ مختلف قسم کی پریشانیوں میں مبتلا دیگر مسافر بھی آپ کے ساتھ سفر کر رہے ہوتے ہیں۔ کوئی جنازے میں شرکت کے لیے جا رہا ہوگا تو کوئی اپنے کسی انتہائی قریبی بیمار رشتہ دار جیسے کہ والدین کی تیمار داری کے لیے جا رہا ہوگا۔

لیکن شہری آداب کی تعلیم نہ ہونے کی وجہ سے اکثر سفر میں کوئی ایک مسافر اسے گاڑی نہیں بلکہ نائی کی دکان بنا دیتا ہے۔ سیاست، مہنگائی اور عمران خان کی کارکردگی سمیت دیگر ہزاروں مسائل پر لگتا ہے کہ اسے اسی سفر میں بات کرنی ہے ورنہ دنیا ختم ہو جائے گی۔ وہ نہ چاہتے ہوئے بھی آپ کے ساتھ ہاں ہوں کرتا رہے گا۔ سونے پر سہاگہ یہ کہ ڈرائیور حضرات بھی تیز موسیقی لگا دیتے ہیں جس کو نہ چاہتے ہوئے بھی سب کو سننا پڑتا ہے۔ ہم نے کب کسی کی پروا کی ہے جو گاڑی میں کریں گے۔

ملک میں غالباً 80 فیصد سے زیادہ لوگ روزانہ پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرتے ہیں۔ جہاں بمشکل انہیں جگہ مل پاتی ہے۔ پھر ڈرائیور حضرات کی اگر مرضی نہ ہو تو آپ اس گاڑی میں سفر بھی نہیں کرسکتے۔ فرنٹ سیٹ تو ہمیشہ من پسند سواریوں کے حصے میں ہی آتی ہے۔ من مانے کرایوں کی وصولی ایک علیحدہ جھنجھٹ ہے، جس پر کسی نہ کسی کی منہ ماری لازمی ہے۔ ٹرانسپورٹ ایک علیحدہ مافیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

خدا خدا کر کے آپ کو سیٹ مل جاتی ہے، آپ سکون کے ساتھ سفر کرنا چاہتے ہیں لیکن ساتھ بیٹھا شخص آپ کے سکون کو غارت کرنے کے لیے فون نکال لیتا ہے۔ اسے دنیا جہاں کے کام یاد آ جاتے ہیں۔ دوستوں، رشتہ داروں سے گاڑی میں بیٹھ کر تیز آواز میں بات کرنا شروع ہو جاتے ہیں۔ یہ گفتگو تب تک جاری رہتی ہے جب تک بیٹری یا سفر ختم نہیں ہو جاتا۔ تمام قصور موبائل کمپنیوں کا جنہوں نے ہزاروں فری منٹس کی بھانت بھانت کی سکیمیں نکال رکھی ہیں۔ ایسے باتونی مسافروں کی بظاہر کوشش ہوتی ہے کہ دوران سفر اپنا پیکج ختم کر کے ہی دم لیں۔

میں نے کئی ایسے لوگوں سے بات کی جو باقاعدگی سے پبلک ٹرانسپورٹ یا فلائنگ کوچ میں سفر کرتے ہیں۔ اکثر ڈرائیوروں کے گستاخانہ رویے کی شکایت کرتے نظر آئے۔ زیادہ کوفت فیملی کے ساتھ سفر میں ہوتی ہے۔ گاڑی میں اکثر ایک بندہ ایسا بیٹھا ہوگا جو فضول باتیں یا پھر فون پر بے مقصد گفتگو کرکے آپ کو غصہ دلانے پر مجبور کر دے گا۔ ان لوگوں کو ساتھی مسافروں کی کیفیت کا اندازہ ہی نہیں ہوتا۔ جس قسم کی بے مقصد گفتگو وہ فون پر کرتے ہیں، اسے اگر موبائل فون بنانے والا سن لے تو شاید کانوں کو ہاتھ لگا لے۔ آپ یہ سوچنے پر مجبور ہو جائیں گے کہ میں کسی گاڑی میں نہیں بلکہ نائی کی دکان میں بیٹھا ہوں۔ ماضی میں بسوں میں ’فضول گفتگو منع ہے‘ جیسی ہدایات درج ہوتی تھیں اب وہ بھی نہیں کی جاتیں۔

اپنے موبائل کا استعمال تو آپ بھول جائیں کیونکہ ساتھ بیٹھے مسافر کی نظریں اپنے سے زیادہ آپ کے موبائل کی سکرین پر لگی ہوتی ہیں۔ تجسس کا مادہ اپنی جگہ لیکن جاسوسی تو اس سے کئی قدم آگے کی بات ہے۔

خدارا اگر کوئی اس قسم کی عادتوں کا شکار ہو تو یہ عادت چھوڑ دیجیے، کیونکہ ہر کوئی آرام دہ سفر کا خواہاں ہوتا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ