موسیقی بڑھاپے میں دماغی صحت کو بہتر بنا سکتی ہے: تحقیق

تحقیق کے مطابق زندگی بھر موسیقی سے لطف اندوز ہونے سے دماغی صحت کو بہتر بنانے میں مدد ملتی ہے جو ڈیمنشیا جیسے مرض کے خطرے سے دوچار افراد کے لیے بہتر طرز زندگی کا باعث بن سکتا ہے۔

30 مارچ 2023 کو ایک شخص ویانا میں دنیا کے سب سے قیمتی وائلن کی تصویر لے رہا ہے جس میں ہیروں سمیت سینکڑوں قیمتی جواہرات جڑے ہیں اور اس کی قیمت 30 سے 50 لاکھ یورو ہے (جو لامر/اے ایف پی)

ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ زندگی بھر موسیقی کے آلات بجانے سے بڑھاپے میں دماغی صحت کو بہتر بنانے میں مدد ملتی ہے جو ڈیمنشیا جیسے مرض کے خطرے سے دوچار افراد کے لیے بہتر طرز زندگی کا باعث بن سکتا ہے۔

تحقیق میں 40 سال سے زیادہ عمر کے ہزاروں افراد کے ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ موسیقی کے آلات کو بجانے یا گانے گانے کے دماغ کی صحت پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

برطانیہ کی یونیورسٹی آف ایکسیٹر کے محققین کا کہنا ہے کہ 25 ہزار سے زیادہ لوگوں نے اس مطالعے میں شرکت کی جو 10 سال سے جاری ہے۔

مطالعے میں معلومات کے ٹیسٹس کے نتائج کے ساتھ ساتھ شرکا کے موسیقی کے تجربے اور زندگی بھر ان میں موسیقی سننے کا مشاہدہ کیا گیا تاکہ اس بات کا تعین کیا جا سکے کہ آیا موسیقی سے وابستگی بڑھاپے میں دماغ کو تیز رکھنے میں مدد دیتی ہے یا نہیں۔

محققین نے پایا کہ موسیقی کا کوئی بھی آلہ بجانا، خاص طور پر پیانو، بہتر یادداشت اور پیچیدہ کاموں کو حل کرنے کی صلاحیت بڑھاتا ہے جسے ایگزیکٹو فنکشن بھی کہا جاتا ہے۔

سائنسی جریدے ’انٹرنیشنل جرنل آف جیریاٹرک سائیکاٹری‘ میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق زندگی کے آخری حصے میں موسیقی کے آلے کو بجانے سے اور بھی زیادہ فائدہ ہوتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اگرچہ گانے گانا بھی بہتر دماغی صحت سے منسلک پایا گیا تاہم محققین کا ماننا ہے کہ ایسا کسی طائفے یا گروپ کا حصہ بننے کے سماجی عوامل کی وجہ سے بھی ہو سکتا ہے۔

ونیورسٹی آف ایکسیٹر میں ڈیمنشیا کی محقق این کاربیٹ نے کہا: ’متعدد مطالعات نے دماغی صحت پر موسیقی کے اثرات کا مشاہدہ کیا ہے۔ ہمارے مطالعے نے ہمیں بڑی عمر کے افراد میں علمی کارکردگی اور موسیقی کے درمیان تعلق کو تلاش کرنے کا ایک منفرد موقع فراہم کیا ہے۔‘

ان کے بقول: ’مجموعی طور پر ہم سمجھتے ہیں کہ موسیقی سے وابستہ ہونا دماغ کو کنٹرول کرنے اور ابھرنے کی قوت کو استعمال کرنے کا ایک طریقہ ہو سکتا ہے جسے ’کاگنیٹیو ریزرو‘ کہا جاتا ہے۔‘

محققین کے مطابق تازہ ترین نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ موسیقی کی تعلیم کو فروغ دینا صحت عامہ کے اقدامات کا ایک قابل قدر حصہ ہو سکتا ہے تاکہ دماغی صحت کے لیے حفاظتی طرز زندگی کو فروغ دیا جا سکے۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ عمر رسیدہ افراد کو زندگی کے آخری حصے میں موسیقی کی طرف لوٹنے کی ترغیب دینا ان کی دماغی صحت کے لیے بھی فائدہ مند ہوگا۔

ڈاکٹر کاربیٹ کہا: ’ڈیمنشیا کے شکار افراد کے لیے میوزک گروپ کی سرگرمیوں کے فائدے کے کافی شواہد موجود ہیں اور اس نقطہ نظر کو بڑی عمر لے افراد کے لیے ایک صحت مند عمر ایجنگ پیکیج کے طور پر بڑھایا جا سکتا ہے تاکہ وہ اس خطرے کو فعال طور پر کم کر سکیں اور دماغی صحت کو فروغ دے سکیں۔‘

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی صحت