شاہد خاقان عباسی پر الزام کیا ہیں؟

سابق وفاقی وزیر برائے پٹرولیم کو ایل این جی کیس سے متعلق تحقیقات کے لیے 18 جولائی کو گرفتار کیا گیا تھا۔

نیب اس سے پہلے سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے 14 روز کے چار جسمانی ریمانڈ حاصل کر چکی ہے (اے ایف پی)

پاکستان کے سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی گذشتہ 56 روزسے قومی احتساب بیورو (نیب) کی حراست میں ہیں اور جمعرات کو اسلام آباد کی احتساب عدالت نے آئندہ جسمانی ریمانڈ نہ دینے کے انتباہ کے ساتھ انھیں مزید 14 دن کے لیے نیب کے حوالے کر دیا۔

عباسی کوبحیثیت وفاقی وزیر برائے پٹرولیم اور قدرتی وسائل ایل این جی ٹرمینل کا 15 سالہ ٹھیکہ دینے اور ایل این جی کی درآمد میں مبینہ بے قاعدگیوں سے متعلق تحقیقات کے لیے 18 جولائی کو گرفتار کیا گیا تھا۔

نیب اب تک سابق وزیر اعظم کے 14 روز کے چار جسمانی ریمانڈ (اور پانچواں جمعرات کو)حاصل کر چکی ہے۔ پانچویں جسمانی ریمانڈ کے (26ستمبر کو) مکمل ہونے پر عباسی کی نیب حراست میں 70 دن پورے ہو جائیں گے، جو شاید کسی سیاسی رہنما کے ریمانڈ پر نیب کی حراست میں طویل ترین عرصہ ہو گا۔

نیب قانون کے تحت کسی ملزم کو زیادہ سے زیادہ 90 روز تک تحویل میں رکھا جا سکتا ہے۔ تاہم عدالت ایک مرتبہ 14 دن سے زیادہ کا جسمانی ریمانڈ نہیں دیتی۔

مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل اور پاکستان سٹیٹ آئل کے منیجنگ ڈائریکٹر شیخ عمران الحق گذشتہ ایک ماہ سے نیب کی حراست میں ہیں۔ ان سے بھی ایل این جی ٹرمینل سے متعلق کیس کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

تاہم نیب ابھی تک ایل این جی ٹرمینل کے ٹھیکے میں مبینہ بے قاعدگیوں اور مالیاتی بدعنوانیوں سے متعلق ریفرنس عدالت میں پیش کرنے میں ناکام رہی ہے۔

ماضی میں نیب کے ساتھ بحیثیت پراسیکیوٹرمنسلک رہنے والے وکیل عمران شفیق نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا نیب اس وقت تک جسمانی ریمانڈ لیتی رہتی ہے جب تک کسی ریفرنس میں تحقیقات مکمل نہ ہو جائیں۔

انہوں نے ایل این جی ٹرمینل ٹھیکے سے متعلق تحقیقات کی غیر معمولی طوالت پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا اتنے عرصے میں بڑے سے بڑا مقدمہ بھی حل ہو جاتا ہے۔

’ایل این جی کیس میں تمام کاغذات اور شواہد نیب کی تحویل میں ہیں اور انہیں صرف ملزمان کے سامنے رکھ کر ان کا موقف لینا اور ان کے بیانات ریکارڈ کروانا ہیں۔‘

سابق نیب پراسیکیوٹر کا کہنا تھا نیب سب سے زیادہ زور کیپیسٹی چارجز پر دے رہی ہے، جو کبھی ادا ہی نہیں کیے گئے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے کہا تمام بین الاقوامی معاہدوں میں کیپیسٹی چارجز کا ذکر ہوتا ہے۔ تاہم پاکستان کے ایل این جی ٹرمینل میں ایسی کوئی رقم ادا نہیں کی گئی۔

دلچسپ بات یہ کہ عباسی نے ابھی تک کسی وکیل کی خدمات حاصل نہیں کی ہیں، وہ عدالت میں خود اپنے حق میں دلائل دیتے ہیں، بلکہ پہلی پیشی پر انہوں نے احتساب عدالت کے جج کو کہا تھا انہیں پورے 90 دن کے لیے نیب کے حوالے کر دیا جائے۔

شاہد خاقان عباسی پر الزام کیا ہیں؟

نیب مسلم لیگ نواز کے سینئیر نائب صدر عباسی کے خلاف ریفرنس دائر کرنے میں تو ناکام رہی ہے تاہم گرفتاری کے اگلے ہی روز انہیں احتساب عدالت میں پیش کرنے کے موقعے پر ایک چارج شیٹ پیش کی گئی، جس میں ان کے خلاف الزامات کی کچھ تفصیلات موجود تھیں۔

اس چارج شیٹ کے مطابق الزامات کی تفصیل درج ذیل ہے:

1۔ پروکیورمنٹ فار کنسلٹینسی ریگولیشنز 2010 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کنسلٹنٹ کے انتخاب میں اختیارات کا غلط استعمال کیا گیا۔

2۔ ایل این جی ٹرمینل قائم کرنے کے لے ایل این جی سے متعلق سرگرمیاں قانوناً حق دار ادارے سوئی سدرن گیس کمپنی کی بجائے انٹر سٹیٹ گیس سسٹمز پرائیوٹ لمیٹڈ کے سپرد کرنے میں اختیارات کا غلط استعمال کیا گیا۔

3۔ تفتیش سے انکشاف ہوا کہ آپ نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے اپنی منتخب کردہ قانونی فرم حاصل کی، لہذا مشاورتی عمل کے دوران ماورک ایڈوائزری کی خدمات حاصل کی گئیں۔

4۔ تفتیش سے انکشاف ہوا کہ ایل این جی کی فروخت کے معاہدے کے فیصلے کرنے کے مشاورتی عمل میں آپ نے وزیر کی حیثیت سے اپنا اثر رسوخ استعمال کر کے اینگروکمپنی کے حق میں فیصلہ کروایا۔

5۔ قطر سے ایل این جی درآمد کر نے کے لیے(اینگرو) کمپنی کی واحد بولی کے ذریعے پہلے سال کے لیے دولاکھ بہتر ہزار 479ڈالرز کے بے حد زیادہ کپیسٹی چارجز طے کیے گئے، جبکہ اگلے 15 سال کے لیے دو لاکھ 28 ہزار سولہ ڈالرز طے کیے گئے۔

6۔ طے شدہ قیمت سے 1.544 ارب روپے کا بہت بڑا نقصان ہوا۔

7۔ اب تک اکٹھے کیے گئے شواہد آپ کو جرم سے براہ راست جوڑتے ہیں۔

8۔ آپ کے بھاگ جانے کے قوی امکانات موجود ہیں۔

9۔ متعلقہ ثبوتوں کے ریکارڈ کی گمشدگی یا تباہی کے امکانات موجود ہیں۔

ایل این جی ٹرمینل کے ٹھیکے کی تحقیقات کے سلسلے میں نیب کی تیار کردہ کچھ دوسری دستاویزات میں مندرجہ ذیل الزامات بھی لگائے گئے ہیں:

1۔ اینگرو گروپ (حسین داود کی کمپنی) کا موجودہ کیمیکل ٹرمینل 27 ملین روپے یومیہ کی بہت زیادہ قیمت پر 15 سال کے لیے کرائے پر حاصل کیا گیا۔

2۔ پورٹ قاسم پر پہلے سے ایل پی جی کا غیر استعمال شدہ ایل پی جی ٹرمینل دستیاب تھا، جو صرف 30 سے40 ملین روپے کی لاگت سے ایل این جی کی درآمد اور سنبھالنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا تھا۔

3۔ ایک ایل این جی کارگو سے وابستہ خطرہ دو درجن ایٹم بموں کے برابر ہے اور یوں حفاظتی اقدامات اور احتیاطی تدابیر کو نظر انداز کیا گیا۔

4۔ ایل این جی کی غیر قانونی خریداری کا معاہدہ حکومت پاکستان اورایک نجی قطری کمپنی قطر گیس (جو قطری حکومت کی نہیں بلکہ خالد بن خلیفہ ال تھانی کی ملکیت ہے) کے درمیان طے پایا۔

5۔ عظمی عادل خان کو غیر قانونی طور پر اوگرا کا چیئرپرسن مقرر کیا گیا۔

6۔ عامر نسیم کو غیر قانونی طور پر ممبر اوگرا تعینات کیا گیا۔

7۔ ایل این جی ٹرمینل کے لیے نامکمل اور غلط ای ای ٹی پی ایل درخواست قبول کی۔

8۔ مقامی گیس کی قیمتوں میں پہلے اپریل 2014-2016اور دوبارہ جولائی 2016سے ستمبر 2017کے درمیان اضافہ کیا گیا، جس کے باعث پاکستانی گیس صارفین نے قطر گیس سے زیادہ نرخ پرخریدی جانے والی گیس کی خطے کی سب سے زیادہ قیمتیں ادا کیں۔

نیب نے عباسی کو ایل این جی ٹرمینل سے متعلق ایک سوال نامہ بھی دیا تھا، جس میں موجود سوالات کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا تھا ’میں اس معاہدے کی پوری ذمہ داری لیتا ہوں اور یہ معاہدہ پاکستان کو سالانہ دو ارب ڈالرز کا فائدہ دے گا‘۔

انہوں نے بھارت، کوریا اور جاپان میں ایل این جی قیمتوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا اس معاہدے کے نتیجے میں پاکستان کو سستی ترین ایل این جی دستیاب ہوئی ہے۔

انہوں نے اپنے جواب میں مزید کہا پاکستان میں 2005سے ایل این جی کے لیے کوششیں جاری تھیں لیکن کوئی کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔ تاہم مسلم لیگ نواز کی حکومت نے صرف 20 ماہ میں ایل این جی منصوبے کا خواب شرمندہ تعبیر کیا۔

عباسی نے اپنے جواب میں سابق وزیر اعظم نواز شریف، سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور سابق سینیٹر سیف الرحمان کے ایل این جی ٹرمینل کے ٹھیکے اور ایل این جی گیس کی درآمد کے معاہدے پر اثر انداز ہونے کی تردید کی۔

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا 2013میں جب پاکستان نے ایل این جی درآمد کرنے کا فیصلہ کیا تو قطر دنیا میں واحد ملک تھا جو بڑے پیمانے پر ایل این جی تیار اور فراہم کر سکتا تھا، اسی لیے قطر کے ساتھ معاہدہ کیا گیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق: نیب نے حال ہی میں شاہد خاقان عباسی کے خلاف شیخ عمران الحق کی بحیثیت منیجنگ ڈائریکٹر پی ایس او کے تعیناتی میں قانون اور طریقہ کار کی خلاف ورزی کے الزام میں ایک الگ ریفرنس تیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ایل این جی اور ایل این جی ٹرمینل کیا ہے؟

قدرتی گیس کو ٹھنڈا کر کے مائع شکل میں تبدیل کر دیا جائے تو اسے مائع قدرتی گیس یا ایل این جی (لیکویفائیڈ نیچرل گیس) کہتے ہیں۔

ایل این جی کو ذخیرہ، دوبارہ گیس بنانے، پیمائش کرنے اور ایک سے دوسری جگہ منتقل کرنے کی غرض سے ایک پلانٹ لگایا جاتا ہے۔ ایسا پلانٹ بندرگاہ پر قائم کیا جاتا ہے اور اسے ایل این جی ٹرمینل کہا جاتا ہے۔

سال 2010میں اینگرو کمپنی نے صوبہ سندھ کے علاقے ڈھرکی میں ایک ارب ڈالرز سے زیادہ کی لاگت سے کھاد بنانے کا بہٹ بڑا کارخانہ لگایا لیکن قدرتی گیس کی کمی کے باعث یہ پراجیکٹ تاخیر کا شکار ہوتا نظر آیا۔

اینگرو نے ایل این جی درآمد اور اسے ذخیرہ کرنے کے لیے ایل این جی ٹرمینل بنانے کا فیصلہ کیا، جسے تعمیرکرنے کی اجازت سال 2013میں نواز شریف کی حکومت کے دوران ملی اور صرف 30 ماہ کے عرصے میں یہ ٹرمینل تیار کر لیا گیا۔

اگرچہ حکومت پاکستان 2005سے ایل این جی درآمد کرنے کی کوششیں کر رہی تھی لیکن کامیابی حاصل نہ ہو سکی۔

تاہم نواز شریف کے تیسرے دور حکومت میں قطر سے ایل این جی کی خریداری کا معاہدہ طے پایا، جس کے تحت قطر پاکستان کو ہر مہینے چار جہاز (کارگو) ایل این جی کے ایک لمبے عرصے کے لیے فراہم کرنے کا پابند ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان