پوتن کے ناقد پر صدارتی انتخابات میں حصہ لینے پر پابندی عائد

بورس نادیزدین کی مارچ میں انتخاب کے لیے مہم آخری مراحل میں تھی جس میں پوتن کے باآسانی جیتنے کا امکان ہے۔

سوک انیشی ایٹو پارٹی کے صدارتی امیدوار بورس نادیزدین 8 فروری 2024 کو ماسکو میں سینٹرل الیکشن کمیشن میں ایک اجلاس کے دوران اشارہ کر رہے ہیں (نتالیا کولیسنیکووا / اے ایف پی)

روسی صدارتی امیدوار بورس نادیزدین نے جو صدر ولادی میر پوتن اور یوکرین میں ان کی جنگ دونوں کے ناقد رہے ہیں، کہا ہے کہ ان پر اگلے ماہ ہونے والے صدارتی انتخاب میں حصہ لینے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

توقع کی جا رہی ہے کہ پوتن اگلے ماہ ہونے والے صدارتی انتخاب میں آسانی سے کامیابی حاصل کر لیں گے تاکہ ملک پر اپنی وہ آہنی گرفت برقرار رکھ سکیں جو دو دہائیوں سے زائد عرصے سے جاری ہے۔

خاص طور پر ان حالات میں کہ جب روسی رہنما کئی سال حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والی شخصیات کے خلاف کریک ڈاؤن میں مصروف ہیں۔

تقریباً دو سال قبل پوتن کی طرف سے یوکرین پر حملے کا حکم دیے جانے کے بعد سے مخالفت میں اٹھنے والی آواز کو زیادہ سختی کے ساتھ دبایا جا رہا ہے۔

نادیزدین کا کہنا ہے کہ وہ مرکزی الیکشن کمیشن (سی ای سی) کی جانب سے مارچ میں ہونے والے صدارتی انتخاب میں حصہ پر پابندی کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کریں گے۔

اس سے قبل الیکشن کمیشن نے دعویٰ کیا تھا کہ انہیں ان دستخطوں میں نقائص کا پتہ چلا ہے جو نادیزدین اور ان کے اتحادیوں نے ان کے صدارتی امیدوار بننے کے حق میں لیے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق ان میں سے کچھ دستخط مبینہ طور پر ایسے لوگوں کے تھے جو مبینہ طور پر فوت ہو چکے ہیں۔

ایک سیاسی جماعت کے نامزد کردہ امیدوار کی حیثیت سے صدارتی انتخاب میں کھڑے ہونے کے لیے نادیزدین کو کم از کم 40 علاقوں میں ایک لاکھ لوگوں کے دستخط حاصل کرنے کی ضرورت تھی۔

چیف الیکشن کمشنر نے دعویٰ کیا کہ انہیں نو ہزار سے زیادہ دستخطوں میں ’بے ضابطگیاں‘ ملیں۔ یہ اعداد و شمار غلطی کی قابل قبول شرح سے تین گنا زیادہ تھے۔ اس لیے الیکشن کمیشن کو نادیزدین کو نااہل قرار دینے کی بنیاد مل گئی۔

نادیزدین نے اپنے ٹیلی گرام چینل پر کہا کہ ’میں نے روس بھر میں دو لاکھ سے زیادہ دستخط جمع کیے۔ ہم نے کھلے عام اور ایمان داری سے ان لوگوں سے دستخط لیے۔ ہمارے ہیڈکوارٹرز اور دستخط جمع کرنے کے مراکز پر بنی قطاریں پوری دنیا نے دیکھیں۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’2024 کے صدارتی انتخاب میں حصہ لینا میری زندگی کا سب سے اہم سیاسی فیصلہ ہے۔ میں اپنے ارادے ترک نہیں کر رہا۔‘

نادیزدین یوکرین کی جنگ پر سخت تنقید کرکے بہت سے مبصرین کو حیران کر چکے ہیں جسے نادیزدین وہ ’جان لیوا غلطی‘ قرار دیتے ہیں جسے وہ مذاکرات کے ذریعے درست کرنے کی کوشش کریں گے۔

لیکن کریملن کے بعض ناقدین کا کہنا ہے کہ نادیزدین سرکاری ٹی وی کے ان  پروگراموں میں باقاعدگی کے ساتھ مہمان رہے ہیں جن میں جنگ پر بات کی گئی۔

ان ناقدین کے مطابق ایک ایسے سیاسی نظام میں جس پر کریملن کی بہت سخت گرفت ہے نادیزدین حکام کی اجازت کے بغیر اس حد تک نہیں جا سکتے تھے۔ تاہم نادیزدین اس بات سے انکار کرتے ہیں۔

مبصرین 1990 کی دہائی میں سرگی کری ینکو کے معاون کے طور پر ان کے کام کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ کری ینکو بورس یلسن کے دور میں وزیر اعظم تھے جو اب پوتن کے چیف آف سٹاف ہیں۔

اگرچہ نادیزدین بورس نیمستوف کے بھی ساتھ رہے جو پوتن کے دیرینہ ناقد تھے۔ انہیں 2015 میں قتل کر دیا گیا تھا۔

کریملن نے گذشتہ سال دسمبر میں 17 مارچ کو ہونے والے آئندہ صدارتی انتخاب کے اعلان کے بعد پوتن کی حزب اختلاف کو خاموش کروانے کے لیے عدالتوں کا استعمال کرنے میں دیر نہیں لگائی۔

پوتن کے انتخاب لڑنے کے ارادے کے اعلان کے تین دن بعد ان کے سب سے بڑے حریف الیکسی نوالنی کو لاپتہ قرار دے دیا گیا۔

ماسکو سے تقریباً 1200 میل دور شمال مشرق میں سرد ترین مقام پر قائم کالونی جہاں سزا کاٹی جاتی ہے، میں منتقلی کے بعد مزید تین ہفتے تک ان کا کوئی اتاپتہ نہیں تھا۔

وہ 2021 سے جیل میں ہیں۔ نوالنی نے جیل کی سلاخوں کے پیچھے سے صدر پوتن کے آمرانہ طرز حکمرانی کے خلاف مسلسل مہم جاری رکھی ہوئی ہے اور وہ روس میں صدر کے سب سے نمایاں حریف ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جنوری میں جیل کے بعد پہلی بار عدالت میں پیشی کے موقع پر ان کا کہنا تھا کہ ’یہ سوچ کہ پوتن مجھے شمال میں بنی بیرکوں میں رکھنے سے مطمئن ہو جائیں گے اور قید میں مجھ پر تشدد کرنا بند کر دیں گے، نہ صرف بزدلانہ بلکہ سادہ لوحی پر مبنی بھی ہے۔‘

47 سالہ نوالنی دھوکہ دہی سے لے کر انتہا پسندانہ سرگرمیوں تک کے مختلف الزامات میں مجموعی طور پر 30 سال سے زیادہ مدت کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ ان کے حامیوں اور مغربی ممالک کا کہنا ہے کہ انہیں خاموش کروانے کے لیے یہ الزامات لگائے گئے۔

نوالنی کو 2021 میں اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ جرمنی میں اعصاب کو متاثر کرنے والے زہر کے اثر سے صحت یاب ہونے کے بعد ماسکو واپس پہنچے۔

انہوں نے کریملن پر زہر دینے کا الزام لگایا۔ اپنی گرفتاری سے پہلے انہوں نے حکومتی سطح پر بدعنوانی کے خلاف مہم چلائی اور کریملن کے خلاف بڑے بڑے مظاہرے کیے۔

اس کے بعد سے پوتن مخالف رائے دہندگان پر زور دیتے آئے ہیں کہ وہ اختلاف رائے ظاہر کرنے کا قانونی طریقہ اختیار کرتے ہوئے دن کے اجالے میں ووٹ ڈالیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ ایک ایسی چیز ہوگی جسے سرکاری ذرائع ابلاغ دبا نہیں سکتے۔

کریملن نے یوکرین پر حملے کے ناقدین کے خلاف انتہائی سخت رویہ اختیار کر رکھا ہے اور اختلاف رائے کے خلاف وسیع پیمانے پر کریک ڈاؤن میں مقدمات بنانے پر توجہ دی جا رہی ہے۔

جنگ کے حامی انتہا پسند قوم پرست ایگور گرکن جنہوں نے صدر کے عہدے کے لیے پوتن کو چیلنج کرنے کے ارادے کا اعلان کیا، انتخاب کے اعلان کے دن ہی ان کی مقدمے کی کارروائی شروع ہونے سے قبل ان کی حراست میں توسیع کر دی گئی۔

انہیں انتہا پسندی کے الزام میں چار سال قید کی سزا سنائی جا چکی ہے کیوں کہ انہوں نے پوتن پر زور دیا تھا کہ وہ یوکرین میں جنگ جاری رکھنے کے لیے ’حقیقی طور پر قابل اور کسی ذمہ دار شخص‘ کو اقتدار منتقل کریں۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی یورپ