افغان صدر پر قاتلانہ حملہ، 24 افراد ہلاک

افغانستان کے صدارتی انتخاب میں دو ہفتے سے کم وقت باقی رہ گیا ہے اور طالبان نے انتخابی عمل میں رکاوٹ ڈالنے کا اعلان کر رکھا ہے۔

حملے میں   افغان صدر اشرف غنی محفوظ رہے۔ (فائل تصویر: اے ایف پی)

افغانستان کے صدر اشرف غنی کی انتخابی ریلی کے قریب ایک خودکش بم حملے کے نتیجے میں 24 افراد ہلاک جبکہ 32 زخمی ہوگئے۔

افغانستان کے صدارتی انتخاب میں دو ہفتے سے کم وقت باقی رہ گیا ہے اور طالبان نے انتخابی عمل میں رکاوٹ ڈالنے کا اعلان کر رکھا ہے۔

خبر رساں ادارے  اے ایف پی کے مطابق وسطی صوبے پروان کے ایک ہسپتال کے ڈائریکٹر ڈاکٹر عبدالقاسم سنگین نے ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ خود کش حملے میں 32 افراد زخمی ہوئے۔

وزارت داخلہ کے ترجمان نصرت رحیمی نے کہا: ’ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔‘

ترجمان نے مزید بتایا کہ خود کش حملہ آور موٹرسائیکل پر سوار تھا۔ جس نے ریلی کے لیے بنائی گئی پہلی حفاظتی چوکی پر خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ حملے میں صدر اشرف غنی محفوظ رہے۔

افغان دارالحکومت کابل کے مرکزی حصے میں امریکی سفارتخانے کے قریب آج ایک دوسرا دھماکہ بھی ہوا۔ جس کے حوالے سے افغان وزارت داخلہ کے عہدیدار نے بتایا کہ دھماکے کے حوالے سے تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ابھی تک کسی گروپ نے اس دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

 یہ بم دھماکے ایک ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے گذشتہ دنوں طالبان کے ساتھ مذاکرات اچانک ختم کرنے کا اعلان کیا گیا۔ مذاکرات کی کامیابی کے نتیجے میں افغانستان سے امریکہ فوجیوں کی واپسی کا آغاز ہو سکتا تھا۔ امریکی صدر نے مذاکرات کو ’ڈیڈ‘ (مردہ) قرار دیا ہے، جس کے بعد گذشتہ ہفتے طالبان نے کہا تھا کہ مذاکرات ختم ہونے کے بعد دوسرا راستہ مزید جنگ کا ہی بچا ہے۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اے ایف کو بتایا تھا: ’افغانستان پر قبضہ ختم کروانے کے لیے ہمارے پاس دو راستے ہیں۔ پہلا راستہ جہاد اور مزید لڑائی کا ہے جبکہ دوسرا مذاکرات اور بات چیت ہے۔‘

ترجمان کا مزید کہنا تھا: ’اگر ڈونلڈ ٹرمپ مذاکرات روکنا چاہتے ہیں تو ہم پہلا راستہ اختیار کریں گے اور وہ جلد ہی اس بات پر پچھتائیں گے۔‘

افغانستان میں صدارتی انتخابات 28 ستمبر کو ہوں گے اور خطرہ ہے کہ طالبان پولنگ بوتھوں اور ریلیوں کو نشانہ بنانا جاری رکھیں گے۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا