جلد ہی ریٹائر ہونے والے لیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض ’منفرد‘ کیوں؟

سابق کور کمانڈر کوئٹہ اور کور کمانڈر لاہور لیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض کی شخصیت ایک ایسے منفرد اعزاز کی حامل ہے، جو اب تک اُن سے پہلے صرف دو لیفٹیننٹ جنرلز کے حصے میں آیا ہے۔ 

لیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض پاکستان آرمی کی 72 سالہ تاریخ میں تیسرے ایسے جنرل ہیں جنہیں دو مختلف سربراہانِ فوج نے دو مرتبہ کور کمانڈر مقرر کیا۔  (فوٹو:   نیشنل ڈیفنس  یونیورسٹی ویب سائٹ)

سابق کور کمانڈر کوئٹہ اور کور کمانڈر لاہور لیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض جو اس وقت صدر نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے عہدے پر فائز ہیں، باقی لیفٹیننٹ جنرلز کی طرح حسب معمول اپنے فرائض انجام دیتے ہوئے مدت ملازمت پوری ہونے پر اس مہینے سبکدوش ہونے جارہے ہیں لیکن ان کی شخصیت ایک ایسے منفرد اعزاز کی حامل بھی ہے جو اب تک اُن سے پہلے صرف دو لیفٹیننٹ جنرلز کے حصے میں آیا ہے۔ 

وہ پاکستان آرمی کی 72 سالہ تاریخ میں تیسرے ایسے جنرل ہیں جنہیں دو مختلف سربراہانِ فوج نے دو مرتبہ کور کمانڈر مقرر کیا۔ پاک فوج میں تھری سٹار جنرلز کا تقرر و تبادلہ معمول کی بات ہے۔ لیفٹیننٹ جنرلز کی ٹرانسفر پوسٹنگ کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو عموماً ایک تھری سٹار جنرل کو مدتِ ملازمت میں ایک کور کی سربراہی اور ایک سٹاف پوسٹنگ دی جاتی ہے۔ اس کے بعد یا تو وہ ترقی پا کر جنرل بن جاتے ہیں یا پھر سبکدوش ہو جاتے ہیں۔لیکن پاکستان آرمی میں بہت کم اس روایت سے ہٹ کر فیصلے کیے گئے اور یہ فیصلے اُن افسران کے لیے اعزاز کا درجہ رکھتے ہیں۔

آزادی کے بعد گذشتہ بہتر سالوں میں دو سو سے زائد لیفٹیننٹ جنرلز نے مختلف کورز کی کمانڈ کی۔ آرمی کی تاریخ میں صرف تین ایسے لیفٹیننٹ جنرلز ہیں جنہیں دو مختلف آرمی چیفس نے دو الگ الگ کور کی کمانڈ سونپی جو ایک منفرد ریکارڈ ہے۔

ایسے افسران کا شمار بہترین اور پروفیشنل کمانڈرز میں ہوتا ہے۔ اگر دو مختلف آرمی چیف ایک ہی افسر کو دو مرتبہ اہم ذمہ داریاں دیں تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اس جنرل کو قابلیت اور پروفیشنل ازم میں برتری حاصل ہے۔

پاکستان فوج کی تاریخ میں پانچ ایسے لیفٹیننٹ جنرلز گزرے ہیں، جن کو ایک ہی باس یعنی آرمی چیف نے دو مختلف کورز کا کمانڈر مقرر کیا، اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ قابلیت کے ساتھ ساتھ ان پر اُس وقت کے آرمی چیف کا اعتماد، بھروسہ اور قریبی تعلق بھی اہم عوامل تھے کیونکہ حکمرانی کرنے والے فوجی سربراہان کی کوشش ہوتی ہے کہ اہم عہدوں پر قابلِ بھروسہ اور مخلص افسران کو تعینات کیا جائے تاکہ امور چلانے میں آسانی ہو۔ ثانی الذکر فہرست کے پانچ اور اول الذکر فہرست کے تین آفیسرز، اس طرح آج تک کُل آٹھ ایسے لیفٹیننٹ جنرلز ہیں جنہیں دو کورز کمانڈ کرنے کا اعزاز حاصل ہے۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

موجودہ لیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض تیسرے ایسے جنرل ہیں جنہیں دو آرمی چیفس نے دو مرتبہ کور کمانڈر بنایا۔سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے 2015 میں انہیں کور کمانڈر کوئٹہ مقرر کیا جبکہ موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے 2017 میں انہیں کور کمانڈر لاہور مقرر کیا۔

اُن سے پہلے لیفٹیننٹ جنرل مظفر عثمانی دوسرے ایسے افسر ہیں، جنہیں 1996 میں جنرل جہانگیر کرامت نے کور کمانڈر بہاولپور مقرر کیا اور جنرل پرویز مشرف نے 1998 میں انہیں کور کمانڈر کراچی بنایا۔ انہیں جنرل پرویز مشرف نے ڈپٹی چیف آف آرمی سٹاف بھی مقرر کیا لیکن بعد ازاں جنرل مشرف سے اختلافات کی وجہ سے وہ پس پردہ ہو گئے۔

لیفٹیننٹ جنرل شمیم عالم خان ایسے پہلے افسر تھے، وہ جنرل ضیاء الحق کے ساتھ 1988 میں کور کمانڈر بہاولپور تھے اور جنرل اسلم بیگ کے ساتھ 1991 میں کور کمانڈر ملتان رہے۔ اس کے بعد وہ ترقی پا کر چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی بن گئے۔ جنرل شمیم عالم خان مشہور زمانہ ’عالم برادران‘ میں چوتھے نمبر پر تھے۔ یہ تمام نو بھائی افواج پاکستان میں مختلف عہدوں پر فائز رہے۔   

اِن تین جنرلز کے بعد ان پانچ لیفٹیننٹ جنرلز، جنہیں ایک ہی آرمی چیف نے دو بار کور کمانڈر مقرر کیا، میں لیفٹیننٹ جنرل عتیق الرحمن شامل ہیں جنہیں جنرل یحییٰ خان نے کور کمانڈر منگلا، کور کمانڈر لاہور اور گورنر پنجاب بنایا۔ دوسرے نمبر پر جنرل ٹکا خان ہیں جنہیں جنرل یحییٰ خان نے لاہور، ملتان کا کور کمانڈر اور کمانڈر ایسٹرن کمانڈ مقرر کیا۔دلچسپ امر یہ ہے کہ انہوں نے جنرل یحییٰ خان کے ساتھ بطور گورنر مشرقی پاکستان، ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ بطور آرمی چیف اور بے نظیر بھٹو کے ساتھ بطور گورنر پنجاب کام کیا۔ تیسرے نمبر پر جنرل اقبال خان ہیں، انہیں جنرل ضیاء الحق نے کور کمانڈر کراچی اور بعدازاں کورکمانڈر لاہور مقرر کیا۔ اس کے بعد وہ ترقی حاصل کرکے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی بنے۔ چوتھے نمبر پر جنرل سوار خان ہیں جنہیں جنرل ضیاء الحق نے کور کمانڈر پشاور، کور کمانڈر لاہور، گورنر پنجاب اور بعد ازاں ترقی دے کر وائس چیف آف آرمی سٹاف مقرر کیا۔ آخری نام لیفٹیننٹ جنرل عبدالقادر بلوچ کا ہے جنہیں جنرل پرویز مشرف نے کور کمانڈر گوجرانوالہ، کور کمانڈر کوئٹہ اور پھر سول حیثیت میں گورنر بلوچستان بنایا۔ بعد ازاں وہ مسلم لیگ ن میں شامل ہوگئے اور وفاقی وزیر بھی رہے۔ان آٹھ لیفٹیننٹ جنرلز میں سے چار ترقی حاصل کرکے فور سٹار جنرل بنے۔چار جنرل دوران سروس یا بعد میں کسی صوبے کے گورنر کے عہدے پر فائز رہے۔ 

صدر نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے عہدے پر فائز لیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض مشہور زمانہ ٹرپل ون بریگیڈ کی بھی کمانڈ کر چکے ہیں۔ ان کی 2011 میں بریگیڈیئر سے میجر جنرل کے عہدے پر ترقی ہوئی۔انہیں جنرل اشفاق پرویز کیانی کے دور میں ڈی جی ملٹری آپریشنز مقرر کیا گیا۔بطور لیفٹیننٹ جنرل وہ لاہور اور کوئٹہ کے کور کمانڈر رہ چکے ہیں۔رواں سال ستمبر میں وہ بطور لیفٹیننٹ جنرل ریٹائر ہوجائیں گے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ اس فہرست میں شامل باقی افسران کی طرح کسی صوبے کے گورنر بنیں گے، انتخابی سیاست میں قدم رکھیں گے یا پھر ریٹائرمنٹ کو انجوائے کریں گے۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ