اسرائیلی انتخابات میں تیسرے نمبر پر آنے والا عرب اتحاد کیا ہے؟

چار عرب جماعتوں کے اتحاد نے حالیہ اسرائیلی انتخابات میں 13 نشستیں حاصل کی ہیں جسے بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔

القائمہ کے رہنما ایمن عودہ بینی گانٹس کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے (اے ایف پی)

اس ماہ کی 17 تاریخ کو اسرائیل میں عام انتخابات ہوئے جن میں عرب جماعتوں کے اتحاد القائمۂ المشترکہ نے تیسرے نمبر پر آ کر فیصلہ کن حیثیت اختیار کرلی ہے۔

یہ اتحاد انگریزی میں ’جوائنٹ لسٹ‘ کے نام سے جانا جاتا ہے اور اس نے بن یامین نتن یاہو کے حریف بینی گانٹس کی تائید کر دی ہے، جس کے بعد ان کا نئی حکومت بنانا تقریباً یقینی ہو گیا ہے۔

120 نشستوں پر مشتمل اسرائیلی قومی اسمبلی (جسے کنیسیٹ کہا جاتا ہے) کے ہونے والے انتخابات میں القائمہ نے 10.62 فیصد ووٹ حاصل کیے، جب کہ بلو اینڈ وائٹ نے 25.93 فیصد ووٹ لے کر پہلی اور نتن یاہو کی لیکود پارٹی 25.09 فیصد ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر آئی۔

اسرائیل میں متناسب نمائندگی کی بنیاد پر انتخابات ہوتے ہیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ ہر جماعت جتنے فیصد ووٹ حاصل کرتی ہے، اسی تناسب سے اسے اسمبلی میں نشستیں حاصل ہو جاتی ہیں۔

اس فارمولے کے تحت بلو اینڈ وائٹ کے حصے میں 33، لیکود کو 31، جب کہ القائمہ کو 13 نشستیں حاصل ہوئی ہیں۔

اسرائیل میں اسی سال اپریل میں انتخابات ہوئے تھے لیکن نتائج اتنے منقسم آئے کہ کوئی حکومت نہیں بن پائی جس کے باعث صرف چار ماہ بعد دوبارہ انتخابات کروانا پڑ گئے۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس کامیابی کے بعد دو بڑی جماعتوں کے درمیان نئی حکومت بنانے کی رسہ کشی میں القائمہ کو اہم فریق کی حیثیت کی حاصل ہو گئی تھی, جس کا اظہار انہوں نے بینی گانٹس کی حمایت کرکے کر دیا۔

القائمہ المشترکہ ہے کیا؟

یہ چار عرب جماعتوں کا انتخابی اتحاد ہے جو پہلی بار جنوری 2015 میں قائم ہوا تھا تاہم جلد ہی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گیا۔ البتہ ستمبر 2019 کے انتخابات سے پہلے اس میں دوبارہ روح پھونکی گئی اور اس نے مشترکہ بینر تلے الیکشن لڑا۔

اس اتحاد میں چار بڑی جماعتیں شامل ہیں: بلد، تعال، ہداش اور القائمة العربية الموحدہ۔ اس سے پہلے یہ جماعتیں عام طور پر الگ الگ انتخابات میں حصہ لیتی رہی ہیں، البتہ کبھی کبھار ان میں سے دو جماعتیں آپس میں مل بھی جایا کرتی تھیں۔

اسرائیل میں یہودی مذہب سے تعلق رکھنے والوں کو واضح اکثریت حاصل ہے، تاہم وہاں مسلمان بھی خاصی تعداد میں بستے ہیں۔

اسرائیل کی کُل آبادی 90 لاکھ کے قریب ہے۔ 2019 کے اعداد و شمار کے مطابق وہاں یہودیوں کی شرح 74 فیصد ہے، جب کہ 18 فیصد آبادی مسلمان ہے۔ ان مسلمانوں کی بڑی تعداد عرب ہے، تاہم کچھ غیر مسلم عرب بھی اسرائیل میں آباد ہیں اور یوں مسلم اور غیر مسلم عربوں کی کل شرح 21 فیصد بنتی ہے۔

انہی مسلمان اور عرب جماعتوں کی مختلف سیاسی جماعتیں ملک میں سرگرمِ عمل ہیں جن میں القائمہ کی چار جماعتیں بھی شامل ہیں۔ ان میں سے کچھ ایسی جماعتیں بھی ہیں جو انتخابات میں حصہ لینے کو حرام عمل قرار دیتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عرب جماعتیں آبادی کے تناسب سے کم ووٹ حاصل کرتی ہیں۔

ماضی میں ہونے والے انتخابات میں عام طور پر دیکھنے میں آیا ہے کہ جہاں 75 فیصد کے قریب یہودی ووٹر اپنا حقِ رائے دہی استعمال کرتے ہیں، وہاں صرف نصف کے قریب عرب ووٹر ووٹ ڈالتے ہیں۔

چونکہ القائمہ میں مختلف جماعتیں شامل ہیں تو لازمی طور پر ان کے نظریات بھی مختلف ہیں۔ مثال کے طور پر بلد پارٹی عربوں کے لیے مزید حقوق کا مطالبہ کرتی ہے اور چاہتی ہے کہ اسرائیل 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر لوٹ جائے۔

اس کے مقابلے پر ہداش سوشلسٹ پارٹی ہے اور یہ بھی اسرائیل کے اندر دو قومی ریاست کے قیام پر یقین رکھتی ہے۔

القائمة العربية الموحدہ بائیں بازو کی اسلامی نظریاتی جماعت ہے اور اس کا خاص طور پر غریب عرب بدو مسلمانوں میں خاصا رسوخ ہے۔

تعال نسبتاً چھوٹی جماعت ہے۔ 2009 میں اس پر پابندی لگا دی گئی تھی، البتہ سپریم کورٹ نے اسے دوبارہ بحال کر دیا۔

مبصرین کے مطابق ان عرب جماعتوں کے ایک پلیٹ فارم پر آنے اور اکثریتی جماعت کی حمایت کے بعد امید پیدا ہو گئی ہے کہ اسرائیل میں عربوں کے حقوق کا تحفظ زیادہ بہتر طریقے سے ممکن ہو سکے گا۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا