میرپور زلزلہ: ’زمین نہر کی طرف سرکنے لگی، ہم درود پڑھتے رہے‘

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے میرپور میں گذشتہ روز آنے والے زلزلے کے چند عینی شاہدین نے زلزلے کا آنکھوں دیکھا حال انڈپینڈنٹ اردو سے شیئر کیا۔

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے میرپور اور پاکستان کے مختلف شہروں میں گذشتہ روز زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے۔ زلزلے کے نتیجے میں عمارتیں اور چھتیں گرنے سمیت دیگر واقعات میں 26 سے زائد افراد ہلاک اور 300 سے زخمی ہوئے، جنہیں میرپور کے ڈسٹرکٹ ہسپتال منتقل کیا گیا۔

ان ہی زخمیوں میں سے چند نے زلزلے کا آنکھوں دیکھا حال انڈپینڈنٹ اردو سے شیئر کیا۔

ایک عینی شاہد کے مطابق: ’زمین نے دائیں بائیں حرکت کی اور نہر کی طرف کھسکنا شروع ہوگئی، جس پر ہم نے درود شریف پڑھنا شروع کردیا۔ ہم آٹھ بجے تک یہاں رہے۔ یہاں دکانوں وغیرہ کو نقصان پہنچا اور مالی نقصان ہوا۔‘

مذکورہ عینی شاہد نے مزید بتایا کہ نو بجے کے بعد جب ہم نے گھر جانا چاہا تو ہمیں راستہ نہیں مل رہا تھا۔ جہاں جاتے وہاں سے اطلاع ملتی کہ آگے سڑک یا پُل ٹوٹا ہوا ہے۔ رات 12 ایک بجے کے قریب ہم بڑی مشکل سے گھر پہنچے۔‘

’اینٹیں میری کمر اور سر پر آکر گرنے لگیں‘

ایک اور عینی شاہد نے بتایا: ’مجھے لگا کہ کمرے میں باہر سے کسی نے بہت زور سے کوئی چیز ماری ہے، جب میں اٹھنے لگا تو دھمک اور تیز ہوگئی اور کمرے کی چھت اوپر سے نیچے گر گئی، میں واپس بیٹھ گیا اور سر گھٹنوں میں دے دیا، اینٹیں میری کمر اور سر پر آکر گرنے لگیں۔ میرے دادا بھی تھوڑے فاصلے پر لیٹے ہوئے تھے، جب میں سنبھلا اور میں نے ان کو دیکھا تو پنکھا ان کی ٹانگ پر گرا ہوا تھا۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ ’پھر ہمیں دروازہ توڑ کر ریسکیو کیا گیا۔ حالت ایسی تھی کہ پتہ نہیں چل رہا تھا کہ کیا کرنا ہے، خوف سے ہماری آواز بھی نہیں نکل رہی تھی۔ پھر باہر سے بھائی وغیرہ آئے اور انہوں نے آواز دی تو ہم نے بتایا کہ ابھی ہم زندہ ہیں۔‘

 

مذکورہ عینی شاہد کے والد نے بتایا کہ انہوں نے اپنے والد اور بیٹے کو رکشے میں ہپستال منتقل کیا، جنہیں طبی امداد کے بعد وارڈ میں شفٹ کردیا گیا۔

ایک اور عینی شاہد نے بتایا کہ وہ بھینسوں کو چارہ ڈال رہے تھے کہ زلزلہ آگیا۔ ’فارم کا برآمدہ ہمارے اوپر آگرا، جس کے نیچے میرے والد دب گئے، جنہیں بڑی مشکل سے نکالا گیا۔ میرے سر پر بھی بہت سے زخم آئے ہیں۔‘

میرپور ڈسٹرکٹ ہسپتال کے ایک عہدیدار نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ 300 کے قریب زخمیوں کو ہسپتال لایا جاچکا ہے اور اس تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔

زلزلہ پیما مرکز کے مطابق منگل کو آنے والے زلزلے کا مرکز جہلم اور میرپور کے درمیان دریائے جہلم کے پاس تھا، جس کی شدت 5.8 اور گہرائی تقریباً دس کلومیٹر تھی۔

زلزلے کے جھٹکے اسلام آباد، لاہور، فیصل آباد سمیت پنجاب کے دیگر شہروں میں بھی محسوس کیے گئے۔

محکمہ موسمیات کی جانب سے گذشتہ روز جاری کی گئی پریس ریلیز کے مطابق 4:43 پر ایک آفٹر شاک بھی محسوس کیا گیا تھا، جس کی شدت 3.4 ریکارڈ کی گئی۔

زلزلے کے مرکز سے چھ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع قصبے جاتلاں اور کھڑی شریف میں سب سے زیادہ تباہی ہوئی۔ جاتلاں بازار کی سڑک مکمل طور پر درمیان میں سے بیٹھ گئی، جس سے کئی لوگ زخمی ہوئے اور گاڑیاں اندر دھنس گئیں۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان