پکاسو کی پینٹنگز خواتین کے باتھ روم میں لٹکا دی گئیں

عدالت نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ فن پاروں کو اس جگہ رکھنا جہاں صرف خواتین کو جانے کی اجازت ہے، مرد حضرات کے ساتھ امتیازی سلوک ہے۔

خواتین کے لیے مختص ٹوائلٹ جہاں پکاسو کے فن پارے لیڈیز لاؤنج سے منتقل کیے گئے ہیں (کیرشا کیکل/ انسٹاگرام)

آسٹریلیا میں عدالت کے حکم پر تسمانیہ میوزیم آف اولڈ اینڈ نیوآرٹ (مونا) نے ہسپانوی مصور پکاسو کے کچھ فن پارے خواتین کے ٹوائلٹ میں منتقل کر دیے ہیں۔

عدالت نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ فن پاروں کو اس جگہ رکھنا جہاں صرف خواتین کو جانے کی اجازت ہے، مرد حضرات کے ساتھ امتیازی سلوک ہے۔

امریکی مصورہ کیرشا کیکل، جنہوں نے عجائب گھر میں لیڈیز لاؤنج قائم کیا، تسمانیہ کے سول اینڈ ایڈمنسٹریٹو ٹربیونل (ٹسکیٹ) کے اپریل کے اس فیصلے کے خلاف اپیل کر رہی ہیں جس میں قرار دیا گیا کہ عجائب گھر امتیازی سلوک کے خلاف ملکی قانون کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

عدالت نے عجائب گھر کو حکم دیا کہ وہ ’ان افراد جو اپنی شناخت خواتین کے طور پر نہیں کرواتے‘ انہیں نمائش دیکھنے کی اجازت دے۔

نیوساؤتھ ویلز کے رہائشی جیسن لاؤ نے اپریل 2023 کو نمائش میں داخلے کی اجازت نہ ملنے پر عجائب گھر کے خلاف ہرجانے کا دعویٰ کر دیا تھا جس کے بعد یہ نمائش بند کر دی گئی۔

عجائب گھر نے عدالت سے فیصلہ واپس لینے کی اپیل کی ہے۔ اس کا مؤقف تھا کہ ’عدالت نے اس بات پر زیادہ توجہ نہیں دی کہ خواتین کے ساتھ ماضی میں کیا سلوک کیا گیا اور اس وقت بھی کیا جا رہا ہے۔‘ اور یہ کہ لیڈیز لاؤنج کا قیام ’مساوی مواقع کو فروغ‘ دے سکتا ہے۔

لیڈیز لاؤنج، جس کا افتتاح 2020 میں کیا گیا، صرف خواتین کے لیے مخصوص نمائش تھی، اسے خواتین سے بیزاری کا اظہار کرنے والے قدیم طرز کے آسٹریلوی پبز کی طرز پر بنایا گیا۔ 1965 تک ان پبز میں خواتین کو داخلے کی اجازت نہیں تھی۔

لاؤنج کے اندر، مرد بٹلر خواتین کو شیمپین پیش کرتے تھے جب کہ پابلو پکاسو اور سڈنی نولن جیسے فن کاروں کے فن پاروں کا نظارہ کرنا صرف ان تک محدود تھا۔

عجائب گھر پر ہرجانے کا مقدمہ دائر کیے جانے کے بعد کیکل نے کہا کہ وہ اس شکایت سے ’بہت خوش‘ ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ نمائش کے بارے میں مرد حضرات کا ردعمل دراصل آرٹ تھا۔

اس وقت ان کا کہنا تھا کہ ’مرد، لیڈیز لاؤنج بنا ہوا دیکھتے ہیں اور ان کا مسترد کر دیے جانے کے تجربے سے گزرنا ہی آرٹ ہے۔‘

مئی میں کیکل نے کہا تھا کہ وہ خامیوں کا جائزہ لی رہی ہیں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ لیڈیز لاؤنج صرف خواتین کے لیے کھلا ہو اور انہوں نے ان امکانات پر غور کیا جن میں اسے ٹوائلٹ یا گرجا گھر میں تبدیل کرنا شامل ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس وقت ان کا کہنا تھا کہ ’ایسا ٹوائلٹ ہے جو دنیا بھر میں مشہور ہو۔ یہ عظیم ترین ٹوائلٹ ہو اور مرد حضرات کو اسے دیکھنے کی اجازت نہ ہو۔‘

پیر کو کیکل نے سوشل میڈیا پر ’مونا میں منقعدہ نئی نمائش صرف خواتین کے لیے‘ ہونے کا اعلان کیا۔

ان کے بقول: ’اس سے قبل مونا میں ہمارے پاس زنانہ ٹوائلٹ نہیں تھے۔ تمام ٹوائلٹ مردوں اور خواتین دونوں کے لیے تھے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’ہم لاؤنج کو گرجا، سکول، پرتعیش خیموں سے آراستہ مقام کے طور پر دوبارہ کھولیں۔‘ یہ ایسا عمل ہے جس کے تحت تسمانیہ کے امتیاز کے خلاف قانون کی دفعہ 26 کے تحت مردوں کے داخلے پر قانوناً پابندی ہو گی۔

مذکورہ قانون میں شرائط موجود ہیں جن کے تحت صنف کی بنیاد پر رسائی پر پابندی کی اجازت ہے۔

کیکل نے کہا کہ تاہم عجائب گھر نے ہر اتوار کو نمائش کے مرد حضرات کے لیے کھلے رہنے کا فیصلہ کیا تاکہ وہ کپڑے استری کرنا اور انہیں تہہ کرنا سیکھ سکیں۔

مئی میں عجائب گھر کی طرف سے شائع ہونے والے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا: ’خواتین وہاں اپنے صاف کپڑے لا سکتی ہیں جنہیں مرد حضرات اس باوقار انداز میں تہہ کر سکتے ہیں‘ جسے (بدھ ٹیچر نے وضع کیا اور ٹائی چی ماسٹرز نے بہتر بنایا)

ٹسکیٹ (تسمانین سول اینڈ ایڈمنسٹریٹو ٹربیونل) کے نائب صدر رچرڈ گروبر نے اپریل میں فیصلہ دیا کہ لاؤ کی شکایت درست تھی کیوں کہ انہیں عجائب گھر کے ایک حصہ میں داخل ہونے سے صرف اس وجہ سے روکا گیا کیوں کہ وہ مرد تھے۔

گروبر کے فیصلے کے مطابق ’انہوں نے مونا میں داخلے کے لیے پوری رقم دی لیکن وہ لیڈیز لاؤنج میں موجود فن پارے نہیں دیکھ پائے۔‘ فیصلے میں مزید کہا گیا کہ اس مقدمے میں ’ایسے فن پاروں جو فن کارانہ مقصد کے لیے جان بوجھ کر اور کھلے عام امتیاز سے کام لیتے ہیں اور اس قانون کے درمیان تنازع پایا جاتا ہے جس کا مقصد امتیاز روکنا ہے۔‘

اس فیصلے کے خلاف اپیل کا اعلان کرتے ہوئے کیکل نے مئی میں کہا کہ خواتین ’مردوں سے دور جگہ‘ سے پیار کرتی ہیں اور وہ ہزاروں سال کی عدم مساوات کی تلافی کے طور پر صرف خواتین کے لیے مخصوص جگہ کی مستحق ہیں۔

کیکل کے بقول: ’خواتین کو لاؤنج سے پیار ہے۔ مردوں سے دور مقام۔ اور ان حالات میں جن سے ہمیں ہزاروں سال سے سامنا کرنا پڑ رہا ہے، ہمیں اس کی ضرورت ہے۔ غیر مساوی حقوق یا خصوصی سلوک کی شکل میں ہمیں مساوی حقوق اور کم از تین سو سال کی تلافی کی ضرورت ہے۔‘

© The Independent

whatsapp channel.jpeg
مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی فن