قصور واقعہ: کیا واقعی ملزم کے والد نے اسے پکڑوایا؟

تفتیشی ٹیم میں شامل ایک پولیس افسر کے مطابق جیو فینسنگ کی بنیاد پر موبائل فون نمبرز کے ذریعے واقعے کے بعد علاقہ چھوڑنے والوں کی معلومات جمع کی گئیں۔ اس دوران ایک شخص نے بتایا کہ انہیں شک ہے کہ ان کا بیٹا اس واقعے میں ملوث ہوسکتا ہے۔

قصور کے علاقے چونیاں سے رواں ماہ تین بچوں فیضان، علی حسنین اور سلمان کی لاشیں ملی تھی جبکہ 12 سالہ عمران تاحال لاپتہ ہے۔ (تصویر: انڈپینڈنٹ اردو)

پنجاب کے ضلع قصور کی تحصیل چونیاں میں تین بچوں کے اغوا اور جنسی زیادتی کے بعد قتل کے معاملے کی وسیع پیمانے پر جاری تفتیش میں اہم پیش رفت ہوئی ہے اور پولیس  نے واقعے میں ملوث ایک ملزم سجاد کو ڈیرہ اسماعیل خان سے گرفتار کرلیا ہے۔

ٹوئٹر پر بعض لوگوں کی جانب سے کہا جارہا تھا کہ دو روز قبل ملزم کے والد نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہو کر اپنے بیٹے پر شک کا اظہار کیا تھا۔

اس حوالے سے تفتیشی ٹیم میں شامل ایک پولیس افسر نے بتایا: ’جیو فینسنگ کی بنیاد پر موبائل فون نمبرز  کے ذریعے واقعے کے بعد علاقہ چھوڑنے والوں کی معلومات جمع کی گئیں۔ اس دوران ایک شخص نے بتایا کہ انہیں شک ہے کہ ان کا بیٹا اس واقعے میں ملوث ہوسکتا ہے۔‘

مذکورہ پولیس افسر کے مطابق اس معلومات اور جیو فینسنگ کی بنیاد پر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے رحیم یار خان سے ایک ملزم سجاد کو حراست میں لیا، جس کے ڈی این اے کے نمونے جانچ پڑتال کے لیے فرانزک لیبارٹری بھجوا دیے گئے۔

شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ وہی ملزم ہے جس کے والد نے اس پر شک کیا تھا، تاہم پولیس تمام پہلوؤں سے واقعے کی تحقیق میں مصروف ہے۔

زینب قتل کیس کی طرز پر تحقیقات؟

پولیس ذرائع کے مطابق زینب قتل کیس کے مرکزی ملزم عمران کو پکڑنے پر معلوم ہوا تھا کہ وہ واقعے کے بعد شہر چھوڑ گیا تھا، اس لیے چونیاں کے واقعے میں اس پہلو کو بھی فوری کارروائی کا حصہ بنایا گیا ہے۔ ملزم سجاد اس وقت پولیس کی حراست میں ہے، جس سے مزید تفتیش بھی جاری ہے۔

کیا ملزم سجاد ہی اصل قصوروار ہے؟

ڈسٹرکٹ پولیس افسر (ڈی پی او) قصور زاہد مروت نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ پولیس بچوں کے اغوا اور لاپتہ ہونے کے معاملے کی انتہائی باریکی سے تفتیش کر رہی ہے اور اس سلسلے میں 600 افراد کے ڈی این اے کے نمونے حاصل کر لیے گئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ملزم سجاد کو رحیم یار خان سے حراست میں لیا گیا ہے لیکن ڈی این اے رپورٹ آنے اور تفتیش مکمل ہونے تک اسے اصل مجرم قرار نہیں دیا جاسکتا۔ پولیس تحقیقات کے دوران شبہ کی بنیاد پر کئی افراد کو شاملِ تفتیش کر چکی ہے اور مزید تحقیقات بھی جاری ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے بتایا کہ ملزم سجاد چونیاں کا رہائشی ہے جہاں سے تین بچوں کی لاشیں ملیں، وہ وہاں پر ٹرالی سے مٹی اٹھانے کا کام کرتا ہے۔ ملزم کو جیو فینسنگ اور چند دیگر بیانات کی بنیاد پر حراست میں لیا گیا ہے۔

واضع رہے کہ قصور کے علاقے چونیاں سے رواں ماہ تین بچوں فیضان، علی حسنین اور سلمان کی لاشیں ملی تھی جبکہ 12 سالہ عمران تاحال لاپتہ ہے۔

ان میں سے ایک بچے فیضان کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں ثابت ہوا تھا کہ بچے کو زیادتی کے بعد قتل کیا گیا جبکہ دیگر دو بچوں کی لاشیں کافی عرصہ گزرنے کے باعث پوسٹ مارٹم کے قابل نہیں تھیں۔ ان بچوں کے نمونے فرانزک کے لیے پنجاب فرانزک سائنس لیبارٹری کو بھجوائے گئے تھے، جن کی رپورٹ آنا ابھی باقی ہے۔

واقعے کے منظر عام پر آنے سے قبل پولیس کو ان بچوں کے لاپتہ ہونے کی درخواستیں دیے جانے کے باوجود کارروائی نہیں کی گئی تھی، تاہم جب کھیتوں سے تین بچوں کی لاشیں ملی اور میڈیا پر اس معاملے کو غیر معمولی کوریج ملی تو حکومت اور پولیس حرکت میں آگئی اور وزیراعظم عمران خان کے حکم پر ڈی پی او قصور سمیت کئی افسران کو عہدوں سے ہٹایا گیا۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے بھی چونیاں جاکر متاثرہ والدین سے ہمدردی اور انصاف کا یقین دلایا تھا۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان