باڈی شیمنگ: ایک ٹین ایج لڑکی کے دماغ میں کیا چلتا ہے؟

باڈی شیمنگ کا نوجوانوں پر کیا اثر پڑتا ہے؟ اس کی دلچسپ کہانی ایک ٹین ایجر سے سنیے۔

کوکیز اینڈ کریم کا تو سوچتے ہی مجھے بھوک لگ جاتی ہے۔ سفید صاف برف کی مانند کریم اور مزیدار چاکلیٹ، آئے ہائے۔ ہم تو چھوٹے بچے ہیں ابھی تو ہماری زندگیاں شروع ہوئی ہیں  (اے ایف پی)

میں تقریباً 14 سال کی ایک لڑکی ہوں۔ واقعی کھاتے پیتے گھرانے سے ہوں اور اس میں کوئی عار محسوس نہیں کرتی کہ کھانا خاص کر وہ کھانا جسے ’جنک فوڈ‘ کے نام سے بدنام کیا جاتا ہے اس کی تن من دھن سے دلدادہ ہوں۔ میرے لیے وہ محض فوڈ ہے یعنی کھانے کا صحیح سرور۔ اور اس میں میرا کیا قصور؟

کل کی ہی بات ہے کہ میں اپنی دوستوں کے ساتھ ایک ساتھی کی سالگرہ ایک کیفے میں منانے گئی۔ جب میں وہاں داخل ہوئی تو میری نظر براہ راست دلکش پیسٹری، کیک، ونیلا شیک اور چاکلیٹ کوکیز اینڈ کریم پر پڑی تو میرے منہ میں پانی آ گیا۔ اب آپ خود بتائیں ایسی لذیذ اشیا اس دنیا میں موجود ہوں اور آپ کے سامنے آئیں تو کیا کہیں دماغ کے کسی کونے میں ڈائٹنگ کا خیال آ سکتا ہے؟

نہیں، ہرگز نہیں۔ ان کی جانب بڑھتے ہوئے ہاتھوں کو روکنا ظلم ہوگا، زیادتی ہوگی۔

میرے خیال میں یہی حال تمام نوجوان نسل کا ہے۔ کوکیز اینڈ کریم کا تو سوچتے ہی مجھے بھوک لگ جاتی ہے۔ سفید صاف برف کی مانند کریم اور مزیدار چاکلیٹ، آئے ہائے۔ ہم تو چھوٹے بچے ہیں ابھی تو ہماری زندگیاں شروع ہوئی ہیں اور اگر ابھی سے ہمیں ڈائٹنگ پر مجبور کیا جائے گا تو ہمارے بچپن کے قیمتی دن اسی ظلم کی نذر ہو جائیں گے۔

صبح آنکھ کھلتی ہی امی کے اس طعنے سے ہے کہ ’اٹھ جا موٹی!‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

آپ ہی بتائیں، کس کا دن اس طرح شروع ہو تو اچھا گزرے گا؟ ہمیں اپنی پسند کے کھانے کھانے سے روکنا حقوق انسانی کی خلاف ورزی ہے۔ آخر آزادیِ خوراک بھی شاید کوئی حق ہوتا ہے جس پر کسی بین الاقوامی تنظیم یا ادارے نے ہرگز کوئی توجہ نہیں دی ہے۔ کیا یہ انصاف ہے؟ میں تو ایک موبائل کمپنی کے اس اشتہار کو بھی عدالت میں چیلنج کروں گی، جس کا جملہ ہے ’ہیلو موٹو۔‘

بڑے کہتے ہیں کہ چلو جو کھانا ہے کھا لو لیکن پھر تھوڑی واک یا ورزش تو کر لیا کرو تاکہ وزن قابو میں رہے۔ میں آپ کو بتاتی ہوں کہ میرے جیسے ’معصوم‘ بچے ورزش سے آخر کیوں الرجک ہیں؟

ہم اپنے قیمتی وقت میں سے ورزش کے لیے کہاں سے وقت نکالیں جس میں دوستوں سے لمبی لمبی باتیں کرنا ہوتی ہیں۔ میرے خیال میں تو آدھا وقت ورزش اور آدھا اس کی وجہ سے ہونے والی تھکن میں بیت جائے گا۔

پڑھائی آج کل کے دور میں پھر اتنی کرنی پڑتی ہے کہ آرام تک کا تو وقت ملتا نہیں، ورزش کب کریں۔ ہم آخر انسان ہیں روبوٹ تو نہیں۔

موٹاپے کی وجہ سے کپڑے جلد چھوٹے پڑ جاتے ہیں تو پڑنے دو، آخر کپڑے بنانے والوں کے بھی تو بیوی بچے ہیں۔ انہوں نے بھی تو گزارا کرنا ہے۔ ہاں دل کو ٹھیس ضرور پہنچتی ہے جب یہ موٹاپا سیلفیز میں بھی ابھر ابھر کر سامنے آتا ہے۔ رونے کو جی کرتا ہے لیکن پھر بھی ورزش اور ڈائٹنگ نہیں کرنی، وہ تو ظلم ہے نرا ظلم!

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ