ایل او سی مارچ: ’طاقت کا استعمال کیا گیا تو بھی ڈٹے رہیں گے‘

جے کے ایل ایف کے ایل او سی کی جانب ’آزادی مارچ‘ کو تیسرے روز چکوٹھی پہنچنے سے پہلے پولیس نے روک لیا ہے اور مظاہرین نے جسکول کے مقام پر دھرنا دے رکھا ہے۔

مارچ کے شرکا نے مظفرآباد سے گڑھی دوپٹہ تک کا سفر پیدل طے کیا جبکہ وہاں سے چناری تک کہیں کہیں گاڑیوں پر سفر کیا (جلال الدین مغل)

اتوار کی رات کے ساڑھے گیارہ بجنے والے ہیں۔ دریائے جہلم کے کنارے شاہراہِ سری نگر اندھیرے میں ڈوبی ہے۔ بارش تھم گئی ہے مگر نعرے نہیں تھم رہے۔ سردی کی شدت میں اضافے کے ساتھ ساتھ نعروں کی گونج بھی بلند ہوتی جا رہی ہے۔

یہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں وادی جہلم کا علاقہ جسکول ہے، جہاں سے لائن آف کنٹرول کا فاصلہ بمشکل سات کلومیٹر ہے۔ اس وقت اس علاقے میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ موجود ہیں جن میں زیادہ تعداد نوجوانوں کی ہے جبکہ کئی خواتین اور بچے بھی ان کے ہمراہ ہیں۔ خواتین اور بچوں کو سردی سے بچانے کے لیے آگ جلائی گئی ہے اور کچھ نوجوان ارد گرد سے جھاڑیاں اکھٹی کرکے آگ میں ڈال رہے ہیں۔ ارد گرد کے گاؤں سے لوگ چائے اور گرم مشروبات لا رہے ہیں، مگر سردی کا مقابلہ کرنا کافی مشکل ہو رہا ہے۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے مختلف علاقوں سے یہاں پہنچنے والے مظاہرین ’خود مختار کشمیر‘ کی حامی جماعت جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) کی جانب سے ایل او سی توڑنے کی کال پر تین روز سفر کرکے یہاں پہنچے ہیں اور اب پولیس کی جانب سے روکے جانے پر احتجاجاً دھرنا دیے بیٹھے ہیں۔

’پرامن عوامی آزادی مارچ‘ کے نام سے یہ مارچ چار اکتوبر کو ضلع بھمبر سے شروع ہوا اور پورا دن سفر کرنے کے بعد رات گئے دارالحکومت مظفرآباد پہنچا۔

مارچ کے منتظمین میں سے ایک سردار انور ایڈوکیٹ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا: ’یہ لوگ صرف اور صرف کشمیر کو تقسیم کرنے والی خونی لکیر توڑنے اور جبری تقسیم کو ختم کرنے کے لیے یہاں آئے ہیں۔ یہ سب پولیس کے روکنے پر ناراض ہیں۔‘

مارچ کے شرکا میں سے کئی ایک اپنے ساتھ گرم کپڑے اور سلیپنگ بیگ ساتھ لائے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مارچ منتظمین اور انتظامیہ کے درمیان مذاکرات کے کم از کم دو ادوار ہو چکے ہیں مگر دونوں مرتبہ یہ مذاکرات بے نتیجہ رہے۔ ابھی ابھی پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزرا کا ایک وفد مارچ کے قائدین سے مذاکرات کے لیے پہنچا ہے۔

انتظامیہ دھرنے کو قریبی قصبے چناری کے کالج گراؤنڈ منتقل کرنا چاہتی ہے تاہم مظاہرین لائن آف کنٹرول کی جانب پیش قدمی پر بضد ہیں۔

اس سے قبل مظفرآباد ڈویژن کے کمشنر چوہدری امتیاز احمد نے انڈپینڈنٹ اردو سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ مارچ کے شرکا کا تحفظ ان کی ترجیح بھی ہے اور ذمہ داری بھی۔ کمشنر کا کہنا تھا: ’انہیں ایسی جگہ نہیں جانے دیں گے جہاں ان کی جان کو خطرہ ہو۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’بھارتی فوج اس علاقے میں پہلے بھی مظاہرین پر فائرنگ کر چکی ہے۔ اب بھی خدشہ موجود ہے۔ اس لیے ہر ممکن کوشش کریں گے کہ مظاہرین یہاں سے آگے نہ جائیں۔‘

ایک سوال کے جواب میں چوہدری امتیاز احمد نے کہا: ’طاقت کا استعمال کوئی آپشن نہیں۔ ہماری کوئی باہمی لڑائی نہیں۔ کوئی بھی تصادم نہیں چاہتا۔ ہم نے مظاہرین سے درخواست کی ہے کہ انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے ہمارے ساتھ تعاون کیا جائے۔ اس کے باوجود اگر وہ آگے بڑھیں گے تو ہم پاؤں پکڑلیں گے۔‘

مظاہرین کو روکنے کے لیے پولیس کی ایک بڑی تعداد جسکول میں موجود ہے جن کے پاس آنسو گیس، اسلحہ اور ڈنڈے موجود ہیں۔ کمشنر مظفرآباد ان پولیس اہلکاروں کی تعداد پانچ سو بتاتے ہیں تاہم انڈپینڈنٹ اردو کو دستیاب ایک سرکاری مکتوب کے مطابق یہ تعداد آٹھ سو کے لگ بھگ ہے۔

مارچ کے ساتھ موجود ایک نوجوان کارکن فیصل کشمیری کے مطابق نوجوان بہت پرجوش ہیں۔ وہ ہر صورت آگے بڑھنا چاہتے ہیں تاہم ابھی تک جے کے ایل ایف کے قائدین نے انہیں روک رکھا ہے۔

شدید سردی کے باوجود لوگ کہیں جانے کا نام نہیں لے رہے۔ کھانے کا انتظام ارد گرد کے لوگوں نے کر دیا مگر روشنی اور سایہ نہ ہونے کہ وجہ سے بارش میں زیادہ دیر نہیں رکا جا سکے گا۔

فیصل نے مزید کہا: ’اب یہ قائدین کا امتحان ہے۔ نوجوان جس مقصد کے لیے آئے ہیں وہ اس سے پیچھے ہٹنا نہیں چاہ رہے۔ اگر جلد فیصلہ نہ ہوا تو نوجوان قابو سے باہر بھی ہو سکتے ہیں۔‘

فیصل کشمیری کا خیال ہے کہ اگرچہ پولیس بڑی تعداد میں موجود ہے، مگر مظاہرین ان سے کئی گنا زیادہ ہیں اور اگر تصادم کی نوبت آ گئی تو پولیس کے لیے نوجوانوں کو روکنا ناممکن ہو جائے گا۔

اس سے قبل گذشتہ ماہ جے کے ایل ایف کے ایک اور دھڑے نے تیتری نوٹ کے قریب ایل او سی پر تین روز تک دھرنا دیا تھا۔ اس دوران پولیس کے ساتھ تصادم میں 18 کے قریب مظاہرین اور آٹھ پولیس اہلکار زخمی ہوئے تھے۔ پولیس نے لگ بھگ 38 مظاہرین کو گرفتار بھی کیا تھا تاہم انہیں چند دن بعد غیر مشروط طور پر چھوڑ دیا گیا۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان