سعودی عرب کے وزیر دفاع نے بدھ کو بتایا کہ ریاض یمن میں ترقیاتی منصوبوں میں 50 کروڑ ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کرنے والا ہے۔
سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ 10 یمنی گورنریٹس میں 1.9 ارب ریال (506 ملین ڈالر) کی لاگت سے ’اہم شعبوں میں ترقیاتی منصوبے اور اقدامات‘ شروع کیے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ یمن کے لیے سعودی ترقیاتی اور تعمیر نو کے پروگرام کے ذریعے فراہم کیے جانے والے منصوبوں میں یمن کے پہلے ڈی سیلینیشن پلانٹ کی تعمیر، جنوبی شہر عدن میں ہوائی اڈے کی بحالی، سوکوترا جزیرے پر ایک ہسپتال کا افتتاح اور 30 سکولوں کی تعمیر شامل ہیں۔
پروگرام کے ایک اہلکار، جو 2018 سے جزیرہ نما عرب کے غریب ترین ملک میں کام کر رہے ہیں، نے تصدیق کی کہ فنڈز جنوبی یمنی گورنریٹس میں ’نئے پروجیکٹس‘ کا احاطہ کرتے ہیں جہاں متحدہ عرب امارات کی حمایت یافتہ علیحدگی پسند جنوبی عبوری کونسل (ایس ٹی سی) سرگرم تھی۔
تیل کی دولت سے مالا مال متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے خلاف لڑنے والے اتحاد کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں، حوثیوں نے 2014 میں دارالحکومت صنعا پر قبضہ کر لیا تھا اور اب بھی ملک کے بیشتر حصے پر کنٹرول ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
سعودی عرب نے دسمبر کے آخری ہفتے میں یمن کے بندرگاہی شہر المکلا پر ایک محدود فضائی حملہ کیا تھا جس کا ہدف ہتھیاروں کی وہ کھیپ تھی جو متحدہ عرب امارات سے یہاں پہنچائی گئی تھی۔
سعودی عرب نے متحدہ عرب امارات پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ یمنی علیحدگی پسند گروہ سدرن ٹرانزیشنل کونسل (STC) پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ مملکت کی سرحدوں کی طرف پیش قدمی کرے، جسے سعودی عرب نے اپنی قومی سلامتی کے لیے ’سرخ لکیر‘ قرار دیا۔
یو اے ای کی وزارت نے منگل کو ایک بیان میں کہا تھا کہ نشانہ بننے والی کھیپ میں کوئی ہتھیار نہیں تھا اور یہ کہ جو گاڑیاں اتاری گئیں وہ کسی یمنی فریق کے لیے نہیں، بلکہ یمن میں کام کرنے والی متحدہ عرب امارات کی افواج کے استعمال کے لیے بھیجی گئی تھیں۔
متحدہ عرب امارات نے بعد ازاں اعلان کیا کہ وہ یمن سے اپنی فورسز واپس بلا لے گا۔