نوبیل انعام کے بارے میں جاننے والی پانچ باتیں

رواں ہفتے نوبیل کے نئے فاتحین کا اعلان متوقع ہے۔ آج طب کے شعبے کے ایوارڈ کا اعلان ہو گا۔

2014 میں امن کے لیے نوبیل انعام جیتنے والی  ملالہ یوسفزئی (اے ایف پی)

1901 کے بعد سے نوبیل انعام اُن مردوں، عورتوں اور تنظیموں کو دیا جاتا ہے جن کے کام الفریڈ نوبیل کی خواہشات کے مطابق انسانوں کے لیے بڑی ترقی کا سبب بنے ہیں۔ یہاں انعامات اور ان کے خالق کے بارے میں جاننے کے لیے پانچ چیزیں درج ہیں۔

نوبیل بحیثیت شاعر

الفریڈ نوبیل ڈائنامائٹ کے موجد کے طور پر تاریخ میں جانے جاتے ہیں لیکن وہ بھی انگریزی شاعری خصوصاً شیلی اور بائرن کے پرستار تھے۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی شاعری کی، بعض اوقات اپنی مقامی زبان سویڈش میں لیکن اکثر بارڈ (شیکسپیئر) کی زبان میں۔ ایک دوست کو ایک خط میں انہوں نے لکھا: ’میں اپنی تحریر کو شاعری نہیں کہوں گا۔ میں کبھی کبھی لکھتا ہوں اپنے ڈپریشن کو دور کرنے یا اپنی انگریزی کو بہتر بنانے کے لیے۔‘

1882 میں 29 سال کی عمر میں انہوں نے ایک نوجوان عورت کو خط بھیجا تو انہوں نے جواب میں کہا: ’طبیعیات میرا میدان ہے، تحریر نہیں۔‘

جس سال ان کی موت ہوئی یعنی 1896 میں، انہوں نے سکینڈل سے بھرپور سانحے پر مبنی ڈرامہ ’نیمیسس‘ لکھا جس کی آمد انہیں شیلی کے کھیل ’دا سینسی‘ سے ہوئی جس میں ایک عورت سولہویں صدی کے روم میں اپنے جنسی استحصال کرنے والے والد کا قتل کرتی ہیں۔

خاندانی معاملہ

پہلی مرتبہ نوبیل انعام دیے جانے کے بعد سے چھ بچے اپنے والدین کے نقش قدم پر چلتے ہوئے خود اس انعام کے حقدار پاچکے ہیں، جبکہ ساتویں نے اپنے والد کے ساتھ مل کر 1915 میں کم عمری یعنی 25 سال میں انعام جیتا۔

کیوری خاندان نے پانچ ایوارڈز حاصل کیے ہیں کیونکہ ہر کامیاب شخص ایک انعام کا حقدار بنتا ہے۔ دو میری کیوری کو ملے جن میں سے پہلا انہوں نے 1903 میں طبیعیات میں اپنے شوہر پیری اور ہنری بیکوریل کے ساتھ جیتا جبکہ دوسرا 1911 میں کیمسٹری میں جیتا۔

ان کی بڑی بیٹی آئرین نے اپنے شوہر پیری جولیو کے ہمراہ 1935 میں کیمسٹری میں ایوارڈ حاصل کیا۔ آئرین کی ایک چھوٹی بہن نے ہینری رچرڈسن لیبوسی سے شادی کی جنہوں نے یونیسیف کے سربراہ کے طور پر 1965 میں نوبیل انعام حاصل کیا۔

دیگر جوڑوں نے بھی یہ انعام جیتا ہے۔ 1974 میں سویڈن کے گنر مردل نے معاشیات کے شعبے میں اور آٹھ سال بعد ان کی بیوی ایلوا نے امن کا نوبیل انعام جیت لیا۔

غائبانہ ایوارڈ

1901 سے لے کر اب تک امن کا انعام جیتنے والی پانچ شخصیات اوسلو میں منعقد ہونے والی تقسیمِ ایوارڈ تقریب میں حصہ نہیں لے سکی ہیں۔

1936 میں نامزد جرمن صحافی کارل ون اوسٹزکی نازی کیمپ میں قید تھے۔

1975 میں روسی منحرف آندرے سخاروف کی نمائندگی ان کی بیوی یلینا بونر نے کی۔

1983 میں پولینڈ کے یونین رہنما لیچ ولیسا نے اوسلو آنے کی دعوت اس خوف سے رد کر دی کہ انہیں واپس پولینڈ نہیں آنے دیا جائے گا۔

میانمار(برما) کی اپوزیشن رہنما آنگ سان سوچی 1991 میں اپنے گھر میں نظر بند تھیں جب انہیں اس انعام سے نوازا گیا تھا۔ انہوں نے بھی ولیسا جیسے خوف سے سفر سے انکار کیا۔

2010 میں چینی منحرف لیو ژیاباؤ جیل میں تھے۔ ان کی کرسی خالی رہی جہاں انعام رکھا گیا۔

ریاضی کے لیے نوبیل انعام کیوں نہیں ہے؟

1980 میں محققین طویل عرصے سے جاری ان افواہوں کو ختم کرنے میں ناکام رہے کہ الفریڈ نوبیل کو ریاضی دان گوسٹا مٹگ لیفلر کے ساتھ محبت تھی۔ اس افواہ کے حق میں کچھ بھی نہیں ہے اور سب کچھ اسے غلط ثابت کرتا ہے تو کیوں ریاضی کے لیے کوئی انعام نہیں ہے؟ اس کی دو ممکنہ وضاحتیں موجود ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پہلی یہ کہ جب 1895 میں نوبیل نے اپنی وصیت لکھی تو اُس وقت سویڈن میں ریاضی میں ایک انعام پہلے سے موجود تھا لہذا انہوں نے ایک اور انعام کی ضرورت محسوس نہیں کی۔

اور دوسری یہ کہ بیسویں صدی کے آغاز پر اپلائیڈ سائنسز عوامی اور سائنسی محبوب شعبے تھے۔ اُس وقت ریاضی کی انسانیت کے لیے خدمات اتنی واضح نہیں تھیں جتنی آج ہیں۔

بعد از مرگ ایوارڈز

نوبیل فاؤنڈیشن کے 1974 کے قانون کے مطابق کسی کو یہ ایوارڈ بعد از مرگ نہیں دیا جائے گا، لیکن یہ انعام اُس صورت میں دیا جاسکتا ہے اگر وہ شخص اکتوبر میں اعلان اور دسمبر میں تقسیم کی تقریب کے دوران فوت ہو جاتے ہیں۔

اس قانون میں تبدیلی سے قبل محض دو افراد نے بعد از مرگ ایوارڈ جیتا ہے۔

ان میں سے ایک سویڈن کے ایرک ایکسل تھے جن کو ادب کے شعبے میں انعام موت کے بعد دیا گیا تھا جبکہ دوسرے بھی سویڈن سے تعلق رکھنے والے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل ڈگ ہیمرسکجولڈ تھے جو طیارے کے ایک حادثے میں 1961 میں ہلاک ہوئے۔ انہیں اسی برس امن کا انعام دیا گیا تھا۔

2011 میں کینیڈا کے رالف سٹئنمین ادویات میں انعام کے اعلان سے تین روز قبل فوت ہوگئے تھے۔ نوبیل کی کمیٹی کو اس کا علم نہیں تھا لیکن انہوں نے پھر بھی انہیں یہ انعام دے دیا۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا