انڈین تین بچے لازمی پیدا کریں: سربراہ آر ایس ایس

آر ایس ایس کی بنیاد کے 100 سال مکمل ہونے پر ایک لیکچر سے خطاب کرتے ہوئے بھاگوت نے تجویز دی کہ ’قومی مفاد میں ہر خاندان کے تین بچے ہونے چاہییں اور اس سے زیادہ نہیں۔‘

آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت 14 اپریل 2023 کو احمد آباد میں سماج شکتی سنگم کے دوران خطاب کر رہے ہیں (سیم پنتھاکی/ اے ایف پی)

انڈیا کی طاقتور ہندو قوم پرست تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ موہن بھاگوت نے کہا ہے کہ انڈین خاندانوں کو لازمی تین بچے پیدا کرنے چاہئیں، اور خبردار کیا کہ شرحِ پیدائش میں کمی کے موجودہ رجحان کے طویل مدتی خطرات ہو سکتے ہیں۔

خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق ایک ارب 46 کروڑ آبادی کے ساتھ انڈیا دنیا کا سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے، لیکن اقوام متحدہ کے پاپولیشن فنڈ کی 2025 کی رپورٹ کے مطابق اگرچہ معاشی ترقی تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے مگر ملک کی کُل شرحِ تولید دو بچوں فی عورت سے کم ہو چکی ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی کی نظریاتی اساس رکھنے والے آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے کہا کہ آبادی کو ’قابو میں بھی رہنا چاہیے اور اتنی بھی ہونی چاہیے کہ کافی ثابت ہو۔‘

جمعرات کو آر ایس ایس کی بنیاد کے 100 سال مکمل ہونے پر ایک لیکچر سے خطاب کرتے ہوئے بھاگوت نے تجویز دی کہ ’قومی مفاد میں ہر خاندان کے تین بچے ہونے چاہییں اور اس سے زیادہ نہیں۔‘

ان کی بڑے خاندانوں کی اپیل اس بے چینی کی عکاسی کرتی ہے جو قوم پرست رہنماؤں اور کچھ علاقائی سیاستدانوں میں موجود ہے۔ یہ بے چینی طویل المدتی آبادیاتی استحکام، قومی صلاحیت اور ثقافتی شناخت سے متعلق ہے۔

سخت گیر ہندو گروہ طویل عرصے سے اقلیتوں، خصوصاً مسلمانوں، میں بلند شرح پیدائش کو تشویش کی وجہ قرار دیتے رہے ہیں، حالانکہ اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ انڈین مسلمان بھی پہلے کے مقابلے میں کم بچے پیدا کر رہے ہیں۔

بھاگوت نے بھی تسلیم کیا کہ شرح پیدائش تمام مذہبی گروہوں میں کم ہو رہی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اگرچہ آر ایس ایس باضابطہ طور پر خود کو ایک ثقافتی تنظیم قرار دیتی ہے جو ہندو اقدار کو فروغ دیتی ہے، لیکن اپنی وسیع تنظیمی ڈھانچے اور لاکھوں رضاکاروں کے ذریعے یہ زبردست اثرورسوخ رکھتی ہے۔

مودی کے کئی سینیئر وزرا، بشمول خود وزیر اعظم، طویل عرصے تک آر ایس ایس کے رکن رہے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بی جے پی کی پالیسی ترجیحات چاہے وہ ثقافتی و تعلیمی اصلاحات ہوں یا شہریت کے قوانین — اکثر آر ایس ایس کے مؤقف کی عکاسی کرتی ہیں، جس کی وجہ سے یہ ادارہ دنیا کی سب سے طاقتور سول سوسائٹی تنظیموں میں شمار ہوتا ہے۔

بھاگوت نے ان الزامات کو مسترد کیا کہ آر ایس ایس مسلمانوں (جو انڈیا کی آبادی کا تقریباً 14 فیصد ہیں) اور دیگر اقلیتوں کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ تنظیم ان سب کو انڈین ہی سمجھتی ہے۔

انہوں نے کہا: ’ہمارے آباؤاجداد اور ہماری تہذیب ایک ہی ہیں۔ عبادت کے طریقے مختلف ہو سکتے ہیں لیکن ہماری شناخت ایک ہے۔ مذہب تبدیل کرنے سے کسی کی برادری نہیں بدلتی۔ باہمی اعتماد ہر طرف سے قائم ہونا چاہیے۔ مسلمانوں کو یہ خوف ختم کرنا ہوگا کہ دوسروں کے ساتھ ہاتھ ملانے سے ان کا اسلام ختم ہو جائے گا۔‘

whatsapp channel.jpeg
مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا