انڈیا: کئی بھائیوں سے ایک خاتون کی مشترکہ شادی کا مقصد کیا ہے؟

شمالی انڈیا میں ’جوڈی دارا‘ رسم کی انوکھی روایت آج بھی قائم ہے جس میں ایک خاتون بیک وقت کئی بھائیوں سے شادی کرتی ہے تاکہ خاندان متحد رہے اور زمین کے حصے نہ ہوں۔

دو بھائیوں پردیپ اور کپل نیگی نے ہماچل پردیش کے علاقے شلائی میں سنیتا چوہان سے شادی کی (فیس بک اکاؤنٹ)

گذشتہ ماہ انڈین ہمالیہ کی بلندیوں پر واقع ایک   پرسکون گاؤں میں تین دن تک اس وقت لوک گیتوں اور ڈھول کی تھاپ گونجتی رہی جب سینکڑوں لوگ ایک انوکھی شادی کی خوشی منانے کے لیے اکٹھے ہوئے۔ لیکن ہماچل پردیش کے ضلع شلائی کے اس گاؤں میں زیادہ تر لوگوں اور بعد میں قومی سطح پر ملنے والی توجہ کی وجہ یہ تھی کہ سنیتا چوہان نامی خاتون کی شادی ایک نہیں بلکہ دو بھائیوں پردیپ اور کپل نیگی سے ہو رہی تھی۔

12  جولائی کو ہونے والی شادی’جوڈی دارا‘ رسم کے تحت ادا کی گئیں جو ہاٹی قبیلے کی ایک انوکھی روایت ہے جس میں ایک خاتون بیک وقت کئی بھائیوں سے شادی کرتی ہے تاکہ خاندان متحد رہے اور زمین کے حصے نہ ہوں۔

شادی کی ویڈیوز میں پردیپ کو اپنے بھائی اور دلہن کے ساتھ کھڑے دیکھا جا سکتا ہے۔ سرکاری ملازم پردیپ نے پریس ٹرسٹ آف انڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم نے یہ روایت سب کے سامنے نبھائی کیونکہ ہمیں اس پر فخر ہے اور یہ ہمارا مشترکہ فیصلہ تھا۔‘

ان کے چھوٹے بھائی کپل، جو بیرون ملک کام کرتے ہیں، نے کہا، ’ہم اپنی بیوی کو ایک متحدہ خاندان کے طور پر سہارا، استحکام اور محبت دے رہے ہیں۔ ہم ہمیشہ شفافیت پر یقین رکھتے ہیں۔‘

سنیتا، جو اسی ضلع کے گاؤں کنہٹ سے تعلق رکھتی ہیں، نے واضح کیا کہ ان پر اس روایتی شادی کے لیے کوئی دباؤ نہیں ڈالا گیا۔ انہوں نے ہندوستان ٹائمز کو بتایا: ’میں اس روایت سے واقف تھی اور میں نے اپنا فیصلہ بغیر کسی دباؤ کے کیا۔‘

جب دی انڈپینڈنٹ ان کے گھر پہنچی تو دروازہ میڈیا کے لیے بند تھا۔ پردیپ نے مختصراً کہا: ’یہ ہماری روایت ہے، ہماری ثقافت ہے۔ مجھے سمجھ نہیں آتا کہ سب کو ایک ذاتی معاملے میں کیوں دلچسپی ہے۔‘

سوشل میڈیا پر اس شادی کے وائرل ہونے کے باوجود مقامی لوگ کہتے ہیں کہ اس علاقے میں اس طرح کی شادیاں عام ہیں۔

شلائی کے رہائشی 55 سالہ رگھوبیر تومر نے کہا: ’یہ صدیوں پرانی روایت ہے، اس وقت کی جب یہاں کے لوگ پہلی بار آباد ہوئے۔ تب نہ سڑکیں تھیں نہ ذرائع آمد و رفت۔ سب سے نزدیک شہر 70 کلومیٹر دور تھا۔ قحط سالی نے ہی سب کچھ طے کیا کہ شادیاں کیسے ہوں گی، زندگی کیسے گزرے گی۔‘

انڈیا میں عموماً شادی شدہ بیٹے والدین کے ساتھ رہتے ہیں۔ قانون کے مطابق بیٹیوں کو بھی وراثت کا حق حاصل ہے لیکن عموماً زمین بیٹوں کو ملتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ زیادہ جوڑوں کا مطلب زیادہ زمین کی تقسیم اور تنازعات ہو سکتے ہیں۔

شلائی جیسے پہاڑی علاقوں میں زمین کم اور مہنگی ہے۔ ایسے میں ’جوڑی دارا‘ روایت ایک عملی حل کے طور پر سامنے آتی ہے۔ رگھوبیر تومر کے مطابق: ’اگر بھائی ایک ہی عورت سے شادی کریں تو زمین تقسیم نہیں ہوتی، خاندان متحد رہتا ہے۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ چار پانچ بھائی ایک ہی عورت سے شادی کرتے ہیں۔‘

اس روایت کو ہندو کتاب ’مہابھارت‘ سے جوڑا جاتا ہے جس میں پنچال کی بیٹی دروپدی نے پانچ بھائیوں سے شادی کی تھی جنہیں پانڈو کہا جاتا ہے۔ ہاٹی برادری خود کو انہی پانڈو کا وارث مانتی ہے، اسی لیے اس روایت دروپدی بیاہ یا پانڈو پراتھا بھی کہا جاتا ہے۔

رگھوبیر تومر کے والد کی شادی بھی اسی روایت کے تحت ہوئی تھی۔ ’میری ایک ہی ماں اور دو والد تھے۔ ہم انہیں بڑے بابا اور چھوٹے بابا کہتے تھے۔ حقیقی باپ کا تصور نہیں تھا، سب ایک ہی خاندان تھے۔‘

تومر کا کہنا ہے کہ اب بھی شلائی میں 30 سے 40 گھرانے اس روایت پر عمل کرتے ہیں لیکن سوشل میڈیا نے اسے خبروں میں لا کھڑا کیا ہے۔

سنیتا کا کہنا کہ انہوں نے دونوں بھائیوں سے شادی اپنی مرضی سے کی ہے اور یہ ایک ایسے پہلو کو بھی ظاہر کرتا ہے کہ اکثر اوقات اس روایت میں خاندان کا دباؤ بھی موجود رہتا ہے جیسا کہ ملک میں کئی دوسری روایتی شادیوں میں ہوتا ہے۔

شلائی کے ایک چائے خانے میں زیادہ تر مرد بیٹھے تھے، جو ’جوڑی دارا‘ روایت کی ممکنہ خامیوں پر بات کرنے سے کتراتے رہے لیکن بھیڑ سے دور، ایک 60 سالہ خاتون نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ کیسے ان کی شادی ان کی مرضی کے خلاف دو بھائیوں سے کر دی گئی تھی۔

انہوں نے کہا: ’میرا شوہر سات بھائیوں میں سے ایک تھا۔ شادی کے بعد جب میں یہاں آئی تو یہ بات چلی کہ کیا واقعی سات بیٹوں کے لیے سات بہوئیں چاہئیں؟ اگر ایسا ہوا تو گھر سات حصوں میں بٹ جائے گا۔ تو مجھ سے کہا گیا کہ شوہر تو تمہارا ایک ہی ہے لیکن دوسرے بھائی کو بھی قبول کرنا ہوگا ورنہ زمین تقسیم ہو جائے گی۔‘

انہوں نے کہا کہ اگرچہ ان کی شادی ایک شخص سے ہوئی تھی لیکن انہیں ’مجبور کر کے دوسرا بھائی بھی قبول کرنے کو کہا گیا اور یہ کہ انہیں اس بھائی کا بھی خیال رکھنا ہے، جو دوہرا ’جنسی تعلق‘ قائم کرنے کے لیے ایک اشارہ تھا۔

انہوں نے کہا: ’بیٹا، اس وقت ایسا ہی تھا، ہم مجبور تھے۔ کہا گیا یا تو روایت مانو یا واپس جاؤ۔ میں ان پڑھ تھی، اس لیے جو کہا گیا مان لیا۔‘ انہوں نے پھر وضاحت کی، ’نہیں، یہ زبردستی نہیں، بس دباؤ تھا۔‘

خاتون نے کہا کہ ان کے اپنے والدین نے بھی اس پر سوال نہیں اٹھایا۔ لیکن وہ سمجھ نہیں پاتیں کہ آج کی پڑھی لکھی لڑکیاں کیوں اس روایت میں شامل ہو رہی ہیں۔ ’یہ روایت کم ہو رہی ہے اور وہ لڑکی پڑھی لکھی ہے، تو اس پر کیا دباؤ تھا؟‘

جب ان سے مشکلات کے بارے میں پوچھا گیا تو وہ زیادہ نہیں بولیں۔ ’چھوڑو، یہ پرانی باتیں ہیں۔ ذمہ داری بہت ہوتی ہے، دو شوہروں کو خوش رکھنا آسان نہیں۔ کس کا خیال رکھو، کس کا نہیں؟‘

اپنے جوانی کے دنوں میں وہ سات بھائیوں میں تقسیم ہونے والی چار بیویوں میں سے ایک تھیں۔ ایسی شادیاں آج کم ہیں لیکن اب بھی شلائی اور ریاست اتراکھنڈ کے گاؤں کوٹا کوانو میں موجود ہیں۔

وہاں 62 سالہ کسان منا سنگھ چوہان نے بتایا کہ ان کی شادی بھی انہی حالات میں ہوئی تھی۔

ان کے بقول: ’میری شادی تب ہوئی جب میں بچہ تھا، دو تین سال کا۔ پہلے ہی رشتے طے کر لیے جاتے تھے کہ اگر بیٹی ہوئی تو ہماری بہو ہوگی۔‘

ان کی بیوی جب سسرال آئی تو ان کا چھوٹا بھائی ابھی پیدا بھی نہیں ہوا تھا لیکن یہ پہلے ہی طے تھا کہ اگر بھائی ہوا تو وہ بھی اسی بیوی کے ساتھ ہوگا۔ ایک بھائی کھیت سنبھالتا، دوسرا بکریاں چراتا، تیسرا گائیں سنبھالتا، اسی لیے یہ روایت چلتی رہی۔‘

33 سالہ سشیل تومر بھی اپنی بیوی اور دو بھائیوں کے ساتھ رہتے ہیں جو اسی بیوی سے شادی شدہ ہیں۔

ان کے بقول: ’یہاں تو یہ عام بات ہے،کئی گھروں میں تین، چار، چھ، سات بھائی ایک بیوی سے شادی کرتے ہیں۔ سرکاری افسر بھی اس پر عمل کرتے ہیں۔‘

وہ کہتے ہیں کہ یہ نظام سمجھ بوجھ پر چلتا ہے اور اس کے عملی فائدے بھی ہیں۔

سشیل نے کہا: ’میں باہر کام کرتا ہوں، مہینوں بعد آتا ہوں۔ جب میں ہوں تو باقی بھائی کھیتوں یا کاموں پر جاتے ہیں۔ جب وہ آتے ہیں تو میں باہر چلا جاتا ہوں۔ اس لیے ہمارے درمیان بیوی کو لے کر کوئی جھگڑا نہیں ہوتا۔‘

جب ان سے جنسی تعلق کے بارے میں پوچھا گیا تو ایک اور دیہاتی نے کہا: ’ایک دوسرے کو جگہ دی جاتی ہے، کوئی مسئلہ نہیں بنتا۔‘

کچھ لوگ بتاتے ہیں کہ جب بیوی کے ساتھ وقت گزارنا ہو تو کمرے کے باہر ٹوپی رکھ دی جاتی ہے تاکہ باقی بھائی نہ آئیں۔

ایک اور شخص نے کہا کہ اس روایت میں بچے کا ایک حیاتیاتی باپ نہیں ہوتا۔ دستاویز پر ایک باپ کا نام لکھا جاتا ہے لیکن سب بچے برابر سمجھے جاتے ہیں۔ بچے ہمیں پیشے کے حساب سے بلاتے ہیں جیسے ڈرائیور بابا یا ڈاکٹر بابا لیکن سب کو باپ مانتے ہیں۔

چوہان اس نظام میں اقدار دیکھتے ہیں۔ ان کے بقول: ’اب تو کوئی زمین کی دیکھ بھال نہیں کرتا، سب اپنی بیوی کے ساتھ الگ ہو جاتے ہیں۔ اس رواج میں اگر ایک بھائی مر جائے تو دوسرا بھائی بیوی اور بچوں کا خیال رکھتا ہے۔ ہمارے بزرگوں کی دور اندیشی تھی۔‘

لیکن اپنی اس یقین دہانی کے باوجود، انہوں نے اپنے بچوں کی شادیاں الگ الگ کی ہیں۔

انہوں نے کہا: ’میرا ایک بیٹا استاد ہے، ایک بینک میں ہے اور ایک نے بی اے کیا ہے۔ وہ سب کیسے اکٹھے گزارہ کریں گے؟ پہلے ہم پڑھے لکھے نہیں تھے۔ ہم میلوں پیدل سکول جاتے تھے اور زیادہ تر لوگ بارانی زمینوں کھیتی باڑی کا کام کرتے تھے۔ اب اگر زمین تقسیم ہو جائے تو کیا بچے گا؟‘

زیادہ تر مرد ایک اور ممکنہ مسئلے پر غور کرنے سے انکاری تھے، خاص طور پر جب شادی طے شدہ ہو اور دلہا دلہن ایک دوسرے کو پہلے سے اچھی طرح نہ جانتے ہوں۔ اگر دلہن کو صرف ایک ہی شوہر سے محبت ہو جائے، یا وہ کسی ایک بھائی کو دوسرے پر ترجیح دے تو کیا ہوگا؟

تومر کے مطابق: ’اگر ایسا ہوا تو یہ نہیں چل سکے گا، جوٹی دارا تبھی کام کرتا ہے جب سب اس میں برابر شریک ہوں۔ کوئی بھائی یہ نہیں کہہ سکتا کہ مجھے وہ صرف اپنے لیے چاہیے اور نہ ہی بیوی کسی ایک کے لیے پسندیدگی دکھا سکتی ہے۔ سب کی رضامندی ضروری ہے۔‘

چوہان کا اصرار ہے کہ ایسے جھگڑے عدالتوں یا طلاق تک نہیں پہنچتے۔

ان کے بقول: ’اگر بھائیوں میں لڑائی ہو جائے تو ہم یم راج (انصاف کے دیوتا) کے پاس جاتے ہیں، قسمیں کھاتے ہیں اور اس سے سمجھ بوجھ پیدا ہوتی ہے۔ یہاں ایسے ہی ہوتا ہے۔‘

ایک اور رہائشی کلیان سنگھ نیگی کہتے ہیں کہ ایسا کچھ ان کی جوڑی دارا شادی میں بھی ہوا جو کامیاب نہ ہو سکی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کے بقول: ’میری پہلے ایک جوڑی دارا شادی تھی، اپنے بھائی کے ساتھ، لیکن وہ ٹوٹ گئی اور میں نے دوبارہ شادی کر لی۔‘

جب ان سے علیحدگی کی وجہ پوچھی گئی تو نیگی نے بغیر مزید وضاحت دیے بتایا: ’صرف محبت کی وجہ سے،‘ لیکن ان کی دوسری شادی بھی جوڑی دارا ہے۔ مطلب ہم بھائی نئی بیوی کا بھی اشتراک کرتے ہیں۔ نئی شادی میں ہمیں بیوی کو بانٹنے میں کوئی مسئلہ نہیں۔ کوئی فرق نہیں ہے۔‘

نیگی کے گھرانے میں اس مشترکہ رشتے میں دونوں بھائیوں کے سات بچے شامل ہیں۔ انہوں نے کہا: ’بچے ہم دونوں کے ہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ بچے مجھے یا اسے چچا کہیں۔ ہم دونوں باپ ہیں۔ یہاں ایسا ہی ہوتا ہے۔ یہ ہمارے نظام کا حصہ ہے، جب ہم دلہن کے گھر والوں سے بات کرتے ہیں تو یہ سمجھا جاتا ہے کہ وہ دونوں بھائیوں کی بیوی ہوگی۔ کسی کو برا نہیں لگتا۔‘

کُندن سنگھ شاستری، جو مقامی کونسل کے جنرل سیکریٹری ہیں، پریس ٹرسٹ آف انڈیا کو بتاتے ہیں کہ جوڑی دارا ’ہزاروں سال پہلے بنائی گئی روایت ہے تاکہ خاندان کی زرعی زمین کو مزید تقسیم ہونے سے بچایا جا سکے۔‘

ایک ہی خاندان میں زیادہ مرد ہونے کا مطلب بہتر حفاظت، کام کے لیے زیادہ کام اور کم اندرونی جھگڑے تھا۔ اور اگرچہ یہ رواج ذات پات سے جڑا نہیں اور ہر طبقے میں پایا جاتا ہے لیکن یہ بتدریج جدیدیت، سکڑتی زمینوں، شہری ہجرت، تعلیم اور انفرادیت کے باعث ختم ہو رہا ہے۔

گاؤں کے بزرگوں کا ماننا ہے کہ یہ رواج مفید ہے اور جب تک کافی لوگ اسے آگے بڑھانے کے حامی رہیں گے، یہ چلتا رہے گا۔

کوٹا کوانو گاؤں کے رہائشی کے مطابق: ’آج کل معاشرے میں محبت کم ہو رہی ہے۔ لوگ تعلیم حاصل کر رہے ہیں، الگ الگ شادی کر رہے ہیں، شہروں کو جا رہے ہیں اور اپنی زمین اور لوگوں کو پیچھے چھوڑ رہے ہیں۔‘

ان کے بقول: ’ہم آپ سے کہتے ہیں کہ اس رواج کو پھیلائیں، یہ بھائیوں اور خاندانوں میں محبت قائم رکھتا ہے۔‘

© The Independent

whatsapp channel.jpeg
مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین