لارڈ ماؤنٹ بیٹن کی 72 سال پرانی تقریر اور آج کا مسئلہ کشمیر

لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے 25 جولائی 1947 کو دہلی میں ہندوستانی ریاستوں اور راجواڑوں کے سربراہان سے خطاب کو آج کے مسئلہ کشمیر کے تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔

 اپریل  1947 کو  لی گئی  اس تصویر میں لارڈ ماؤنٹ بیٹن (بائیں) اور ان کی بیوی ایڈوینا ماؤنٹ بیٹن (دائیں) بھارتی فلاسفر اور قوم پرست لیڈر موہن داس گاندھی کے ساتھ کھڑے ہیں (اے ایف پی)

یہ تقریر لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے 25 جولائی 1947 کو دہلی میں ہندوستانی ریاستوں اور راجواڑوں کے سربراہان سے خطاب کرتے ہوئے کی تھی۔

اگر ان کی تقریر کو بغور پڑھا جائے تو اسے آج مسئلہ کشمیر سے جوڑا جا سکتا ہے۔

سردار پٹیل نے پانچ جولائی 1947 کو اپنی تقریر میں برصغیر کی ریاستوں کے حکمرانوں کو ہندوستانی ڈومینین میں شامل ہونے کی دعوت دی، جس کا حوالہ لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے اپنی اس تقریر میں بھی دیا ہے۔

لیکن اس وقت تک بھی متعدد حکمران اس صورت حال سے نجات کے لیے تاج برطانیہ اور اس کے ہندوستان میں نمائندے لارڈ ماؤنٹ بیٹن کی طرف دیکھ رہے تھے۔

اس اجلاس میں تقریباً 150 کے قریب مہاراجے، نواب اور دیوان اپنی قسمت کا فیصلہ سننے کے لیے موجود تھے۔ 565 ریاستوں میں سے محض چھ ریاستیں مجوزہ پاکستان کے علاقے کے اندر تھیں۔

کشمیر، جودھ پور، جیسلمیر اور بیکانیر جیسی چند ایک ریاستوں کی سرحدیں دونوں ممالک کے ساتھ تھیں، جبکہ باقی تمام ریاستیں مجوزہ ہندوستان کی حدود کے اندر تھیں۔

ماؤنٹ بیٹن نے ان ریاستوں کے سربراہوں کو یہی تجویز دی کہ کسی ایک مجوزہ ریاست کے ساتھ الحاق کرلیں کیونکہ اس کے بغیر ان کی بقا ناممکن ہے۔

اس تقریر سے ان ریاستوں کے سربراہان کی آخری امید بھی ختم ہو گئی۔ 15 اگست 1947 تک تین ریاستوں کشمیر، حیدرآباد اور جوناگڑھ کے علاوہ تمام ریاستیں الحاق کے معاہدے پر دستخط کر چکی تھیں۔

ماؤنٹ بیٹن پر یہ بھی الزام تھا کہ انہوں نے جون 1947 میں کشمیر کا دورہ مہاراجہ کشمیر کو پاکستان کے ساتھ الحاق پر قائل کرنے کے لیے کیا۔

آزادی اور بٹوارے کے دوران ریاستوں کے حوالے سے برطانوی پالیسی کو سمجھنے میں یہ تقریر خاصی معاون ہے۔ اس تقریر سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ 1947 میں باقی ریاستوں کے ساتھ ساتھ کشمیر کے پاس کون سے آپشنز تھے۔

لارڈ ماؤنٹ بیٹن کی مکمل تقریر کا متن کچھ یوں ہے:

یہ میرے لیے باعث انبساط و تکریم ہے کہ میں اس تاریخی ایوان سلاطین میں ہندوستانی ریاستوں کے متعدد فرماں رواؤں، حکمرانوں، دیوانوں اور نمائندگان سے خطاب کر رہا ہوں۔

یہ میرا تاج برطانیہ کے نمائندے کی حیثیت سے پہلا اور آخری موقع ہے کہ مجھے آپ سے خطاب کا شرف حاصل ہو رہا ہے۔

یہاں پر رہتے ہوئے ریاستوں کے بارے میں جو مذاکرات میں نے کیے اور جو نقطہ نظر میں نے اختیار کیا، میں چاہوں گا کہ اس کا مختصر پس منظر آپ کے گوش گزار کرنے سے آغاز کروں۔

دو مختلف مسائل تھے جن کا مجھے سامنا کرنا پڑا۔ پہلا تھا کہ برطانوی ہند کو اقتدار کیسے منتقل کیا جائے اور دوسرا یہ کہ اس منظرنامے میں ہندوستانی ریاستوں کو کیسے اس طریقے سے فٹ کیا جائے جو تمام فریقین کے لیے معقول و منصفانہ ہو۔

میں نے پہلے برطانوی ہند والا معاملہ نمٹایا کیوں کہ آپ سمجھ سکتے ہیں کہ جب تک یہ مسئلہ حل نہ ہو تب تک ریاستوں کے مسئلے کا حل ڈھونڈنا بالکل بیکار تھا۔ چنانچہ میں نے اسی کے مطابق اپنا ذہن بنایا۔

ریاستوں کے مابین 12 مئی کے کیبنٹ مشن میمورنڈم کی ایک ہمہ گیر قبولیت تھی۔ جب فریقین نے میرے تین جون کا اعلامیہ قبول کیا تو انہیں (اس بات کا) احساس تھا کہ فرماں روائی سے دست برداری ریاستوں کو مکمل اقتدارِ اعلیٰ ازسرنو حاصل کرنے کے قابل بنا دے گی۔

اسی (بات) نے مجھے بنیاد فراہم کی جہاں سے ریاستوں کے ساتھ انصاف سے معاملہ کیا اور پرکھا جا سکے۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

لیکن اس سے پہلے کہ میں ریاستوں کے ساتھ معاملہ کرنے کا آغاز کرتا، ایک اور کام تھا جو مجھے واضح طور پر کرنا تھا۔

مجھے خود کو بٹوارے کے طریقہ کار کے مسئلے کی طرف متوجہ کرنا تھا۔ جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں، برما (میانمار) کو انڈیا سے علیحدہ کرنے میں تین سال لگے، اس حقیقت کے باوجود (میں حلفاً بیان کرسکتا ہوں، جیسا کہ بوندی کے عزت مآب اور دوسرے بھی کرسکتے ہیں) کہ انڈیا اور برما کے درمیان کوئی سڑک نہیں چلتی، اس کے باوجود بٹوارے پر سمجھوتہ کرنے میں تین سال لگے۔

صوبہ سندھ کو بمبئی سے علیحدہ کرنے میں دو سال لگے، صوبہ اوڑیسہ کو بہار سے علیحدہ کرنے میں دو سال لگے۔ ہم نے فیصلہ کیا تھا کہ اڑھائی مہینوں سے کم (عرصے) میں ہمیں 40 کروڑ باشندوں کے ساتھ دنیا کے سب سے بڑے ممالک میں سے ایک کی تقسیم کے مرحلے سے گزرنا پڑے گا۔

عجلت کا ایک کارن یہ تھا۔ مجھے مکمل یقین تھا کہ برطانوی حکمرانی کے ہوتے ہوئے، فریقین کے درمیان نفسیاتی طور پر کسی بھی اطمینان بخش سمجھوتے پر نہیں پہنچا جا سکتا۔ لہٰذا ایک دفعہ جب ہم دو حکومتوں کو تشکیل دے کر علیحدہ کرلیں گے، تو وہ خیر خواہی کے ماحول میں جزئیات پر کام کرنے کے قابل ہو جائیں گی۔ 

قانون آزادی ہند ریاستوں کو تاج سے متعلقہ فرائض سے آزاد کرتا ہے۔ تکنیکی اعتبار سے ریاستیں مکمل آزاد اور قانونی طور پر خود مختار ہیں۔

میں بیان کروں گا کہ آپ کی اپنی ریاستوں کے بارے میں ہم کس درجہ خودمختاری محسوس کرتے ہیں لیکن برطانوی انتظامیہ کے دور میں، اس حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ تاج کا نمائندہ اور وائسرائے واحد اور ایک ہی شخص ہے۔

مشترکہ اغراض کے معاملات پر ایک انتظامی ہم آہنگی کا نظام، جس کا مطلب ہے کہ برصغیر ہند ایک معاشی وجود کے طور پر روبہ عمل ہے۔ اسی کڑی کو اب توڑنا پڑے گا۔

اگر ایسا نہ کیا گیا تو نتیجہ صرف ابتری ہی ہو گا اور میں عرض کروں، یہ ابتری سب سے پہلے ریاستوں کو نقصان پہنچائے گی، جتنی ریاستیں بڑی ہوں گی اتنا نقصان کم ہو گا اور اتنا ہی وقت لگے گا اسے محسوس ہونے میں، لیکن ریاستوں میں سب سے بڑی بھی اپنے زیاں کو ویسے ہی محسوس کرے گی جیسے کوئی چھوٹی ریاست۔

پہلا قدم ایسی مشینری تشکیل دینا ہے جس سے یہ ممکن ہو کہ ہندوستان کی دو آئندہ حکومتوں، پاکستانی اور ہندوستانی ڈومینینز، کو ریاستوں کے ساتھ براہ راست تعلق میں رکھا جا سکے۔

 ہم نے آئندہ حکومتوں میں دو سٹیٹ ڈیپارٹمنٹس تشکیل دینے کا منصوبہ بنایا ہے۔ برائے مہربانی یہ نوٹ کرلیں کہ یہ سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ پولیٹیکل ڈیپارٹمنٹ کے قائم مقام نہیں ہوں گے۔

انہیں بیک وقت اور ساتھ ساتھ تشکیل دیا جائے گا۔ جب پولیٹیکل ڈیپارٹمنٹ نمائندگان تاج کی طرف سے فرماں روائی سے متعلقہ امور ادا کر رہا ہو گا، اسی دوران سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ ان موضوعات کو بتدریج ٹیک اوور کر رہا ہوگا جن کا فرماں روائی کے ساتھ کوئی سروکار نہیں لیکن جو ہمسایہ ریاستوں کے ساتھ تعلقات سے متعلقہ ہوں گے اور ایسے معاملات پر گفت و شنید کی مشینری مہیا کریں گے۔

ہندوستان میں سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ، سردار ولبھ بھائی پٹیل کی قابل تحسین رہنمائی کے ساتھ ساتھ بطور سیکرٹری میرے اپنے ریفارم کمشنر مسٹر وی آر مینن کے ماتحت ہوگا۔

پاکستان میں ڈیپارٹمنٹ، سردار عبدالرب نشتر کے ساتھ بطور سیکرٹری اکرام اللہ کے ماتحت ہو گا۔ یہ ضروری تھا کہ دو ڈیپارٹمنٹس تشکیل دیے جائیں، کیونکہ نظری اعتبار سے ریاستیں آزاد ہیں کہ وہ جس بھی ڈومینین کے ساتھ چاہیں اپنا مستقبل وابستہ کر لیں۔

لیکن جب میں یہ کہتا ہوں کہ وہ کسی بھی ڈومینین کے ساتھ وابستہ ہونے کے لیے آزاد ہیں، تو کیا میں یہ نشاندہی کر سکتا ہوں کہ یہاں کچھ جغرافیائی مجبوریاں بھی ہیں جن سے پہلو نہیں بچایا جا سکتا۔

جیسا کہ اس میں 565 ریاستوں کی بڑی اکثریت ناقابل تنسیخ طور پر جغرافیائی اعتبار سے انڈین ڈومینین کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں۔ لہٰذا پاکستان کی نسبت انڈین ڈومینین کے ساتھ مسئلہ بہت زیادہ گھمبیر ہے۔ 

پاکستان کے معاملے میں ریاستیں اگرچہ اہم ہیں لیکن بہت زیادہ نہیں اور مسڑ جناح، پاکستان کے آئندہ گورنر جنرل، ہر ریاست کے کیس میں فرداً فرداً اور جداگانہ معاملہ طے کرنے کی تیاری کر چکے ہیں۔

لیکن ہندوستان کے کیس میں جہاں ریاستوں کی غالب اکثریت کا معاملہ ہے، واضح طور پر ہر ریاست کے ساتھ جداگانہ معاملہ طے کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ 

یہ کہنا کوئی مبالغہ آرائی نہیں کہ زیادہ تر حکمران اور دیوان اندیشوں میں مبتلا ہیں کہ جب فرماں روائی ختم ہو جائے گی، تو ان کا مستقبل کیا ہوگا۔

ایک وقت میں یہ لگتا ہے کہ بجز اس کے کہ وہ دستور ساز اسمبلی میں شامل ہوں اور آئین کو تسلیم کریں، جب وہ مرتب کیا جائے، (تب تک) وہ نظام سے باہر ہوں گے اور ایسی پوزیشن میں گھرے ہوں گے جہاں، میں عرض کرتا ہوں، اگر آپ اس پر ہوش مندی سے غور فرمائیں کہ کوئی بھی ریاست سکون سے سوچ بچار نہیں کر سکتی کہ وہ کسی بھی ایک ڈومینین حکومت کے ساتھ اطمینان بخش روابط اور تعلقات کے بغیر علیحدہ رہ لے گی۔

اگر میں ایسا کہہ سکوں، آپ تصور کرسکتے ہیں کہ مجھے کتنا سکون ملا ہوگا اور مجھے یقین ہے کہ آپ کو خود بھی اتنا ہی سکون ملا ہوگا جب سردار ولبھ بھائی پٹیل نے سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کا اختیار لیتے ہوئے ایک سٹیٹس مین کی طرح اعلامیہ جاری کیا کہ وہ ریاستوں اور انڈین ڈومینین کے مابین معاہدے کے لوازم کیا ہوں گے، کے بارے کیا سوچتے ہیں۔ 

پورا ملک ایک نازک دور سے گزر رہا ہے۔ میں کسی ریاست کو یہ نہیں کہہ رہا کہ وہ اپنی اندرونی خودمختاری یا آزادی کی ناقابل برداشت قربانی دے۔ میری سکیم آپ کو مکمل عملی آزادی کے ساتھ چھوڑتی ہے، جس پر آپ ممکنہ طور پر عمل کرسکیں اور آپ کو ان تمام موضوعات کے لیے آزاد رکھتی ہے جن کو ممکنہ طور پر آپ خود سے انجام نہیں دے سکتے۔

آپ ڈومینین گورنمنٹ جو کہ آپ کی ہمسایہ ہے، سے فرار حاصل نہیں کر سکتے اور نہ ہی آپ اپنی رعایا سے بھاگ سکتے ہیں جن کی فلاح و بہبود کے آپ ذمہ دار ہیں۔

آپ کا فیصلہ جو بھی ہو، مجھے امید ہے کہ آپ یہ محسوس کریں گے کہ میں نے کم از کم ریاستوں کے حوالے سے اپنا فرض پورا کر دیا ہے۔‘ 

زیادہ پڑھی جانے والی تاریخ