پنجاب پولیس کے ایک سینیئر افسر نے ہفتے کو کہا کہ تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے کارکنوں کے ساتھ مختلف مقامات پر تصادم میں اس کے تقریباً 100 اہلکار زخمی ہو گئے ہیں۔
خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق ٹی ایل پی کے حامی فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کے لیے لاہور سے اسلام آباد تک مارچ کرنا چاہتے ہیں۔
تاہم حکام کا کہنا ہے کہ انہیں دارالحکومت میں مظاہرے کی اجازت نہیں دی گئی۔
جمعے سے لاہور میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں، جنہیں منتشر کرنے کے لیے پولیس نے آنسو گیس اور لاٹھی چارج کا استعمال کیا، جب کہ مظاہرین نے پتھراؤ کیا۔
ہفتے کو پارٹی کارکنوں اور پولیس کے درمیان کالاشاہ کاکو اور مرید کے میں جھڑپیں ہوئیں اور پولیس نے مظاہرین کو رکاوٹیں توڑنے سے روکنے کے لیے آنسو گیس کے شیل اور ربڑ کی گولیاں فائر کیں۔
لاہور کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل (آپریشنز) کامران فیصل نے آج پریس کانفرنس میں بتایا کہ مظاہرین نے تشدد کیا۔
’انہوں نے سرکاری گاڑیاں قبضے میں لے لیں، کئی کو نقصان پہنچایا اور ایک پولیس کی گاڑی کو مکمل طور پر جلا دیا۔‘
ان کے مطابق اب تک 112 پولیس اہلکار زخمی ہو چکے ہیں جبکہ متعدد لاپتہ ہیں جن کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے مزید بتایا کہ 100 سے زیادہ افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ تاہم ٹی ایل پی کا دعویٰ ہے کہ پولیس نے اس کے 700 کارکنوں کو حراست میں لیا ہے۔
ترجمان پنجاب حکومت کے مطابق مظاہرین نے متعدد مقامات پر پولیس وینز پر حملے کیے، جن سے لاکھوں روپے مالیت کی سرکاری گاڑیاں اور دیگر املاک کو نقصان پہنچا۔
پولیس کا کہنا ہے ’ٹی ایل پی کے مشتعل گروہوں نے نہ صرف پولیس پر حملے کیے بلکہ دیگر سرکاری اداروں کی گاڑیوں اور عمارتوں کو بھی نشانہ بنایا، جس سے قومی خزانے کو نقصان پہنچا۔‘
ادھر ٹی ایل پی کے ترجمان علی اعوان نے دعویٰ کیا ہے کہ اب تک ان کے 25 کارکن مارے گئے ہیں جبکہ 200 سے زائد کارکنان زخمی ہیں جن میں سے 50 کی حالت تشویش ناک ہے۔
ترجمان کے مطابق زخمیوں کو طبی امداد بھی مارچ کے شرکا ہی دے رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ پولیس نے پارٹی کے سربراہ سعد رضوی کے گھر میں گھس کر ان کے اہل خانہ کو بھی حراست میں لے لیا ہے۔
علی ایوان نے بتایا کہ مارچ آج رات کو مرید کے سے آگے قیام کرنے کے بعد اتوار کی صبح اسلام آباد کے لیے روانہ ہو گا۔
صوبائی حکومت نے مارچ کو اسلام آباد پہنچنے سے روکنے کے لیے گجرات، کھاریاں، سرائے عالم گیر اور جہلم پل کے قریب خندقیں کھود کر راستے بلاک کر رکھے ہیں۔
لاہور اور اسلام آباد آنے والے موٹر وے اور جی ٹی روڑ بند ہے جس سے شہریوں جو آمدورفت میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
موٹر وے پولیس کے مطابق لاہور سے اسلام آباد موٹر وے، ملتان سے لاہور موٹروے، ملتان سے اسلام آباد موٹر وے، پشاور سے اسلام آباد موٹر وے اور اسی طرح لاہور سے اسلام آباد جی ٹی روڈ بھی ٹریفک کے لیے بند ہیں۔
جڑواں شہروں اسلام آباد اور راولپنڈی میں بھی سکیورٹی ہائی الرٹ ہے اور فیض آباد سمیت اسلام آباد کے داخلی و خارجہ راستوں پر کنٹنیرز لگا کر راستے بند کیے گئے ہیں، جس کی وجہ سے شہریوں کو آمدورفت میں مشکلات کا سامنا ہے۔
ٹی ایل پی کے امیر سعد رضوی نے غزہ پر اسرائیلی حملوں کے خلاف جمعے (10 اکتوبر) سے لاہور سے اسلام آباد کی طرف ’لبیک یا اقصیٰ‘ مارچ کی کال دے رکھی تھی، لیکن پولیس اور انتظامیہ نے آٹھ اکتوبر کی رات ہی ٹی ایل پی کے مرکز مسجد رحمت اللعالمین کا گھیراؤ کر کے کنٹینر لگا کر کئی کارکن گرفتار بھی کر لیے۔
تاہم ٹی ایل پی کی قیادت نے مارچ ملتوی کرنے کی بجائے شیدول کے مطابق لاہور سے نکلنے کا فیصلہ کیا۔