ٹی ایل پی سربراہ، دیگر رہنماؤں پر دہشت گردی، اقدام قتل کا مقدمہ

لاہور میں درج مقدمے کے مطابق سعد رضوی اور انس رضوی کی فائرنگ سے ایک شخص مارا گیا جب کہ مظاہرین کے پتھراؤ سے ایک اور شخص جان سے گیا۔

لاہور میں پولیس نے جمعے کو تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے سربراہ سعد رضوی، انس رضوی اور دیگر رہنماؤں کے خلاف دہشت گردی، اقدام قتل اور کار سرکار میں مداخلت سمیت مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا۔

یہ مقدمہ نواں کوٹ تھانے میں پولیس کی مدعیت میں درج کیا گیا، جو یتیم خانہ چوک پر پولیس اور ٹی ایل پی کارکنان کے درمیان تصادم کے بعد سامنے آیا۔
 
ایف آئی آر میں سعد رضوی سمیت 11 معلوم اور 400 نامعلوم افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔
 
مقدمے کے متن کے مطابق سعد رضوی اور انس رضوی کی فائرنگ سے ایک شخص مارا گیا جب کہ مظاہرین کے پتھراؤ سے ایک اور شخص سیف اللہ جان سے گیا۔
 
پولیس کے مطابق ملزمان کے حملے میں ایس ایچ او سمیت سات پولیس اہلکار زخمی ہوئے جب کہ دو راہگیر بھی متاثر ہوئے۔
 
ایف آئی آر میں یہ بھی کہا گیا کہ ملزمان نے ملتان روڈ بلاک کر کے ریاست اور ریاستی اداروں کے خلاف نعرے بازی کی اور ریاستی املاک کو نقصان پہنچایا۔
 
پولیس کے مطابق واقعے کے بعد مزید ملزمان کی شناخت اور گرفتاری کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔

ٹی ایل پی کے لاہور میں میڈیا ونگ نے ایک بیان میں دعویٰ کیا کہ مارچ کے قیام کے اعلان کے فوراً بعد فائرنگ اور شیلنگ کی گئی۔

بیان میں الزام عائد کیا گیا کہ مینار پاکستان پل کے اوپر سے کارکنان پر سیدھی گولیاں فائر کی گئیں، جس سے متعد کارکنان جان سے گئے اور زخمی ہوئے۔

ادھر وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے آج اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کسی جتھے، گروہ یا انتہاپسند کے ہاتھوں بلیک میل نہیں ہوگی اور قانون ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف آہنی ہاتھوں سے کارروائی کی جائے گی۔

انہوں نے خبردار کیا کہ ملک میں جتھے بازی، انتشار اور ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔

ان کا کہنا تھا کہ ٹی ایل پی سے نمٹنے کے لیے بلوہ پولیس بغیر اسلحے کے موجود ہے۔

طلال چوہدری نے کہا کہ پرامن احتجاج سب کا حق ہے لیکن قانون شکنی، تصادم اور سرکاری املاک پر حملے برداشت نہیں کیے جائیں گے۔

’ماضی گواہ ہے کہ ٹی ایل پی نے جتھوں کی صورت میں قومی املاک پر حملے کیے اور شہری زندگی کو مفلوج کیا، مگر اب ریاست ان عناصر کے سامنے نہیں جھکے گی۔‘

انہوں نے کہا کہ حکومت نے اسلام آباد اور راولپنڈی کے داخلی راستوں پر سکیورٹی سخت کر دی ہے، عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے رکاوٹیں لگائی گئی ہیں جبکہ صوبائی حکومتوں کے ساتھ مسلسل رابطہ رکھا جا رہا ہے۔

’کچھ شرپسند عناصر کو گرفتار کیا گیا ہے جن کے خلاف ٹھوس شواہد اور ویڈیوز موجود ہیں۔‘

وزیر مملکت نے کہا کہ مظاہرین کے پاس ڈنڈے، کیمیکل، کیل اور فورسز کے ماسک جیسا سامان پایا گیا جو ’تصادم کے عزائم‘ کی نشاندہی کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سیف سٹی کے کیمرے توڑے گئے، پولیس اہلکاروں کو زخمی کیا گیا اور مسجد کے تقدس کا بھی خیال نہیں رکھا گیا۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت حالات کو دیکھ رہی ہے تاکہ عام شہریوں کو نقصان نہ پہنچے، لیکن جہاں قانون شکنی ہوگی وہاں کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

وزیر مملکت نے کہا کہ مذہب یا انتہاپسندی کے نام پر تشدد اور ذاتی ایجنڈے کی سیاست ناقابل قبول ہے، ان کے ذمے داروں کو قانون کے مطابق کٹہرے میں لایا جائے گا۔

طلال چوہدری کے مطابق ٹی ایل پی نے احتجاج کے لیے کوئی درخواست نہیں دی۔

ٹی ایل پی نے جمعہ (10 اکتوبر) کو ’لبیک اقصیٰ‘ کے نام سے لاہور سے اسلام آباد تک مارچ کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔

تاہم مارچ کو روکنے کے لیے گذشتہ روز پنجاب میں پولیس نے کریک ڈاؤن کیا، جس میں اب تک دو افراد کی موت جبکہ کارکنوں سے جھڑپوں میں متعدد پولیس اہلکاروں کے زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

جمعے کو بھی لاہور میں صورت حال کشیدہ ہے اور ٹی ایل پی کارکنان اور پولیس آمنے سامنے ہیں۔

لاہور میں ٹی ایل پی مرکز کے باہر کی صورت حال یہاں دیکھیے:

 

 

اسلام آباد میں سکیورٹی سخت، کنٹینرز لگ گئے

وفاقی دارالحکومت کی انتظامیہ نے جمعے کو ٹی ایل پی کے لاہور تا اسلام آباد مارچ کے پیش نظر شہر بھر میں سکیورٹی سخت کردی اور شہر کے مختلف داخلی و خارجی راستوں پر کنٹینرز رکھ کر راستے فل الحال جزوی بند کر دیے گئے ہیں جبکہ پنجاب بھر میں دفعہ 144 نافذ ہے۔

 جمعے کو اسلام آباد کی مختلف سڑکوں پر کنٹینرز رکھے نظر آئے۔ پولیس کی جانب سے راولپنڈی اور اسلام آباد کے درمیان فیض آباد کے مقام پر امن و امان کی صورت حال کے باعث ٹریفک کا متبادل پلان بھی جاری کیا گیا جبکہ شہر میں ہر قسم کی ہیوی ٹریفک کا داخلہ اگلے حکم تک بند کر دیا گیا ہے۔

بڑی سڑکوں پر تین لینز میں سے دو بند کر دی گئی ہیں جبکہ ایک کھلی رکھی گئی ہے۔

اسلام آباد میں سڑکوں کی صورت حال یہاں جانیے:

 

 

 

گذشتہ روز سینیئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) آپریشنز اسلام آباد محمد شعیب خان نے فیض آباد کا دورہ کیا اور سیکورٹی انتظامات کا جائزہ لیا۔

اسلام آباد پولیس کے ایکس اکاؤنٹ پر جاری بیان کے مطابق ایس ایس پی آپریشنز نے ہدایت دی کہ ’قانون کی بالادستی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔‘

 

دوسری جانب لاہور میں اورنج لائن میٹرو ٹرین بھی دو روز کے لیے بند کر دی گئی ہے۔

لاہور ٹریفک پولیس کی جانب سے شہر کے بند راستوں کی اطلاع دیتے ہوئے متبادل ٹریفک پلان دیا گیا ہے۔

 

ڈپٹی کمشنر راولپنڈی ڈاکٹر حسن وقار چیمہ نے بھی ضلعے بھر میں 8 سے 11 اکتوبر تک دفعہ 144 نافذ کرنے کا حکم دے رکھا ہے۔

کمشنر آفس سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ ضلعی انٹیلی جنس کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق ’بعض گروہ اور عناصر امن و امان میں خلل ڈالنے کے ارادے سے احتجاج یا دیگر سرگرمیوں کی تیاری کر رہے تھے۔‘

ڈپٹی کمشنر کے حکم نامے کے تحت راولپنڈی میں تمام احتجاجی مظاہروں، دھرنوں، ریلیوں، جلسوں، لاؤڈ سپیکر کے استعمال، ڈبل سواری اور ہتھیاروں یا خطرناک اشیا لے جانے پر مکمل پابندی ہوگی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدامات عوامی سلامتی اور امن عامہ کے تحفظ کے لیے کیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔

اس سے قبل محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے 8 اکتوبر 2025 کو جاری کیے گئے نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ قانون نافذ کرنے والے اور انٹیلی جنس اداروں کی رپورٹس کے مطابق صوبے میں دہشت گردی کے خطرات موجود ہیں۔

نوٹیفکیشن کے مطابق: ’دشمن عناصر جن میں را (انڈین خفیہ ایجنسی)، ٹی ٹی پی (کالعدم تحریک طالبان پاکستان)، بی ایل اے (بلوچستان لبریشن آرمی) اور داعش شامل ہیں، مذہبی رہنماؤں اور اقلیتوں کو نشانہ بنانے کے منصوبے بنا رہے ہیں، جس سے فرقہ وارانہ کشیدگی پھیلنے کا خدشہ ہے۔‘

لہذا ’ایسے حالات میں عوامی اجتماعات، جلسے، جلوس اور دھرنے دہشت گردوں کے لیے آسان ہدف بن سکتے ہیں، اس لیے صوبے بھر میں چار یا اس سے زائد افراد کے کسی بھی اجتماع پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔‘

محکمہ داخلہ کے مطابق اس دوران اسلحہ لے جانے اور نمائش کرنے، لاؤڈ اسپیکر کے استعمال اور نفرت انگیز یا اشتعال انگیز مواد کی اشاعت و تقسیم پر بھی مکمل پابندی ہوگی۔

یہ حکم فوری طور پر نافذ العمل ہوگا اور 10 روز تک برقرار رہے گا۔

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان