عامر لیاقت معافی مانگیں، پانچ ارب جرمانہ بھی ادا کریں: جے یو آئی

قانونی نوٹس کے مطابق، عامر لیاقت کو جے یو آئی (ایف) کے قائدین اور ورکرز سے معافی مانگنے کے علاوہ 15 دن کے اندر پانچ سو کروڑ روپے جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔

قانونی نوٹس کے مطابق ڈاکٹرعامر لیاقت نے جے یو آئی ایف کے خلاف ٹوئٹر پرشق چھ کا ہیش ٹیگ بنانے والوں کو مبارک باد دی تھی(اے ایف پی)

جمعیت علمائے اسلام ف کے جنرل سیکرٹری مولانا عبدالغفور حیدری نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رکن قومی اسمبلی اور مشہور ٹی وی میزبان ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کو ٹوئٹر پر پارٹی سے منسوب ایک جعلی ہدایت نامہ شیئر کرنے اور اس میں درج شق نمبر چھ کا ہیش ٹیگ استعمال کرنے پر پانچ ارب روپے کا قانونی نوٹس بھیج دیا۔

یہ قانونی نوٹس عامر لیاقت کے ذاتی ٹوئٹر اکاؤنٹ سے مختلف اوقات پر کی جانے والی چار ٹویٹس پر بھیجا گیا۔

 نوٹس میں کہا گیا کہ ان ٹویٹس کی وجہ سے جمعیت علمائے اسلام ف کی سیاسی ساخت، قائدین، عہدے دار، کارکنان اور حامیوں کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا ہے۔

قانونی نوٹس کے مطابق، سات اکتوبر2019 کی رات عامر لیاقت نے اپنی ٹویٹ میں چار اکتوبر کو سوشل میڈیا پر جاری ہونے والے جعلی ہدایت نامے سے متعلق ’شق چھ‘ کا ہیش ٹیگ بنانے والے افراد کو مبارک باد دی۔

نوٹس میں مزید کہا گیا کہ اسی طرح جے یو آئی ایف کے خلاف اپنی دوسری ٹویٹ میں انہوں نے اس ہدایت نامے کے جعلی ہونے کا اعتراف تو کیا لیکن اس کے باوجود اپنی ٹویٹ کو ٹرینڈ کرنے کے لیے وہی ہیش ٹیگ استعمال کیا جو جے یو آئی ایف کے مخالفین نے ان کے پارٹی کارکنوں کو نشانہ بنانے کے لیے جاری کیا۔

قانونی نوٹس میں یہ بھی کہا گیا کہ عامر لیاقت نے ضلعی مجسٹریٹ، آئی سی ٹی، اسلام آباد کا بھی ایک نوٹیفکیشن شیئر کیا جو جعلی تھا اور ان تمام ٹویٹس کی وجہ سے پارٹی کی سیاسی ساخت کو شدید نقصان پہنچا۔

نوٹس میں مزید کہا گیا کہ ان وجوہات کی بنا پر عامر لیاقت حسین کو پارٹی کے قائدین، عہدے داران اور ورکرز سے معافی مانگنی ہو گی اور ’اس ناقابلِ تلافی نقصان کے لیے 15 دن کے اندر پانچ سو کروڑ روپے جرمانہ ادا کرنا ہو گا۔‘

جمعیت علمائے اسلام کے جنرل سیکرٹری مولانا عبدالغفور حیدری نے بدھ کو انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی معلومات کے مطابق عامر لیاقت کو نوٹس بھیج دیا گیا۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

متنازع شق نمبر چھ کے اصل ہونے کی تردید پارٹی پہلی ہی کر چکی ہے تاہم جب مولانا حیدری سے اس کے حوالے سے سوال کیا گیا تو وہ برہم ہو گئے اور کہا: ’ہدایت نامہ ہم نے جاری کیا تھا لیکن دوسرے لوگوں نے اس میں یہ شق شامل کی، یہ جعلی ہے اور کوئی ذمہ دار لیڈر اپنے ورکروں کو تحریری طور پر ایسی ہدایات نہیں جاری کرے گا۔‘

انڈپینڈنٹ اردو نے عامر لیاقت سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تاہم ان کی جانب سے جواب موصول نہیں ہوا۔ 

جے یو آئی ایف سے منسوب جعلی ہدایت نامہ ایک ایسے وقت پر وائرل ہوا جب پارٹی کے لیڈر مولانا فضل الرحمان 27 اکتوبر کو اسلام آباد میں پی ٹی آئی کی مرکزی حکومت کے خلاف آزادی مارچ کا اعلان کر چکے ہیں۔

اس اعلان کے بعد دونوں اطراف سے پارٹی رہنماؤں کی بیان بازی شروع ہو گئی تھی۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان