پاکستان کی وزارت خارجہ نے اتوار کو انڈین وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے صوبہ سندھ سے متعلق بیان پر کہا کہ وہ اور دیگر انڈین رہنما اشتعال انگیز بیانات سے گریز کریں۔
انڈین نیوز ویب سائٹ ٹائمز آف انڈیا کے مطابق راج ناتھ سنگھ نے آج ایک تقریب میں خطاب کرتے ہوئے کہا ’آج چاہے سندھ کی سرزمین انڈیا کا حصہ نہ ہو، لیکن تہذیبی طور پر سندھ ہمیشہ انڈیا کا حصہ رہے گا اور جہاں تک زمین کا تعلق ہے تو سرحدیں بدل سکتی ہیں۔ کون جانتا ہے کہ کل سندھ دوبارہ انڈیا کا حصہ بن جائے۔ ‘
اس پر اسلام آباد میں دفتر خارجہ نے ایک بیان جاری کیا ہے جس کے مطابق ’پاکستان انڈین وزیر دفاع کے صوبہ سندھ سے متعلق وہم و گمان پر مبنی اور خطرناک حد تک تاریخ کو مسخ کرنے والے بیانات کی سختی سے مذمت کرتا ہے۔
"Sindh may return to India again," says Defence Minister Rajnath Singh
— ANI Digital (@ani_digital) November 23, 2025
Read @ANI Story l https://t.co/ACkYK8T73F#RajnathSingh #Sindh pic.twitter.com/PRDm5pOtnl
’ایسے بیانات ایک توسیع پسند ہندوتوا ذہنیت کو ظاہر کرتے ہیں جو مستحکم حقائق کو چیلنج کرنے کی کوشش کرتی ہے اور بین الاقوامی قانون، تسلیم شدہ سرحدوں کی حرمت اور ریاستوں کی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی ہے۔‘
بیان میں مزید کہا گیا ’ہم راج ناتھ سنگھ اور دیگر انڈین رہنماؤں پر زور دیتے ہیں کہ وہ ایسے اشتعال انگیز بیانات سے گریز کریں جو خطے کے امن اور استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
’انڈین حکومت کے لیے زیادہ تعمیری راستہ یہ ہوگا کہ وہ اپنے ہی شہریوں، خصوصاً کمزور اقلیتی برادریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے پر توجہ دے۔
’اسے چاہیے کہ وہ اُن عناصر کا محاسبہ کرے جو ان کے خلاف تشدد کو ہوا دیتے ہیں یا اس میں ملوث ہوتے ہیں اور مذہبی تعصبات اور تاریخی مسخ شدگی پر مبنی امتیاز کا ازالہ کرے۔‘
بیان میں مزید کہا گیا کہ ’انڈیا کے شمال مشرقی خطے کے عوام کے دیرینہ مسائل بھی توجہ کے مستحق ہیں جو اب بھی منظم محرومی، شناخت کی بنیاد پر ظلم و ستم اور ریاستی سرپرستی میں جاری تشدد کے چکر کا سامنا کر رہے ہیں۔‘
دفتر خارجہ کا کہنا تھا ’ہم انڈیا پر زور دیتے ہیں کہ وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور زیر قبضہ کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق جموں و کشمیر کے تنازعے کے حقیقی اور پُرامن حل کے لیے قابلِ اعتماد اقدامات کرے۔
’پاکستان انصاف، مساوات اور بین الاقوامی قانونی ضابطوں کی بنیاد پر انڈیا کے ساتھ تمام تنازعات کے پُرامن حل کے لیے پرعزم ہے۔
’تاہم، ماضی کی طرح پاکستان اپنی سلامتی، قومی خودمختاری اور آزادی کے تحفظ کے لیے بھرپور اور غیر متزلزل عزم رکھتا ہے۔‘