پولینڈ کے نائب وزیراعظم رادوسواف سکورسکی کا انڈیا کا ایک کشیدہ دورہ منگل کو اختتام پذیر ہوا، جس کے دوران پاکستان اور روس نمایاں موضوعات رہے۔
رادوسواف سکورسکی، جو پولینڈ کے وزیر خارجہ بھی ہیں، کا انڈیا کا یہ پہلا دورہ تھا۔ 2024 میں وزیراعظم نریندر مودی کے وارسا کے دورے کے دوران پولینڈ اور انڈیا نے اپنے دوطرفہ تعلقات کو سٹریٹجک شراکت داری کی سطح تک بلند کیا تھا۔
رادوسواف سکورسکی کے تین روزہ دورے کا مقصد اس شراکت داری کو مضبوط بنانا تھا، تاہم یہ دورہ انڈین وزیر خارجہ ایس جے شنکر کے وارسا کے پاکستان کے ساتھ تعلقات پر اعتراض اور پولینڈ کی جانب سے نئی دہلی کے روس سے تیل کی درآمدات پر تشویش کے اظہار کے باعث کشیدہ رہا۔
پیر کو اپنے ہم منصب کے ساتھ ٹیلی وژن پر نشر ہونے والی ملاقات میں ایس جے شنکر نے روسی تیل کی خریداری پر تنقید اور تعزیری اقدامات کے لیے انڈیا کو نشانہ بنائے جانے پر مایوسی کا اظہار کیا اور اسلام آباد کے ساتھ پولینڈ کے دوبارہ روابط پر خدشات ظاہر کیے۔
انڈین وزیر نے کہا کہ وہ رادوسواف سکورسکی کے ’خطے کے حالیہ دوروں‘ پر بات کرنا چاہتے ہیں، جس سے مراد گذشتہ برس اکتوبر میں ان کا پاکستان کا دورہ تھا۔ یہ دورہ اس وقت ہوا تھا جب اس سے چند ماہ قبل جنوبی ایشیا کے دو حریف ہمسایہ ممالک (انڈیا اور پاکستان) کے درمیان چار روزہ محدود جنگ ہوئی تھی، جس نے خطے کو ایٹمی تصادم کے دہانے تک پہنچا دیا تھا۔
ایس جے شنکر نے کہا: ’پولینڈ کو دہشت گردی کے لیے زیرو ٹالرنس کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور ہمارے پڑوس میں دہشت گردی کے ڈھانچے کو تقویت دینے میں مدد نہیں کرنی چاہیے۔‘
Today’s meeting with DPM & FM @sikorskiradek of Poland provided an opportunity for an open conversation on our bilateral ties and global developments.
— Dr. S. Jaishankar (@DrSJaishankar) January 19, 2026
Discussed advancing our economic, technology, defence, mining, P2P and multilateral cooperation. Appreciate Poland’s support… pic.twitter.com/tW889ULcUo
انڈین نیوز ویب سائٹ ’دی ہندو‘ نے رپورٹ کیا کہ وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے رادوسواف سکورسکی کو یاد دلایا کہ وہ ’خطے سے ناواقف نہیں‘ اور ’سرحد پار دہشت گردی کے دیرینہ چیلنج سے بخوبی آگاہ‘ ہیں۔
رادوسواف سکورسکی ایک سابق صحافی ہیں اور 1980 کی دہائی میں افغان جنگ کی کوریج اور پاکستان میں وقت گزار چکے ہیں،
ایس جے شنکر نے انڈیا کی جانب سے روسی تیل خریدنے پر تنقید کے حوالے سے بھی مہمان سفارت کار کو آڑے ہاتھوں لیا اور کہا: ’ماضی قریب میں یعنی گذشتہ ستمبر میں نیویارک میں اور رواں برس جنوری میں پیرس میں، میں نے یوکرین تنازع اور اس کے مضمرات پر اپنے خیالات آپ کے ساتھ کھل کر شیئر کیے ہیں۔ ایسا کرتے ہوئے میں نے بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ انڈیا کو منتخب کر کے ہدف بنانا نہ منصفانہ ہے اور نہ ہی جائز۔ میں آج ایک بار پھر یہی بات دہراتا ہوں۔‘
رادوسواف سکورسکی نے جواب میں کہا کہ وہ اس بات سے متفق ہیں کہ ’منتخب کر کے ہدف بنانا صرف محصولات تک محدود نہیں‘ اور یہ کہ ’منتخب کر کے ہدف بنانے کی دیگر صورتیں بھی رہی ہیں۔‘
ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں رادوسواف سکورسکی نے کہا کہ ایس جے شنکر کے ساتھ ان کی بات چیت ’صاف گو‘ تھی۔ تاہم ان کے بقول، ان کی جانب سے بھی خدشات موجود تھے۔ انہوں نے کہا: ’انڈیا نے روس میں زاپاد مشقوں میں حصہ لیا، جنہیں ہم خطرناک سمجھتے ہیں۔‘
— Military Observer (@TheMilObserverr) January 20, 2026
After meeting EAM Dr. S. Jaishankar in New Delhi, Polish Foreign Minister Radosław Sikorski was questioned by NDTV on Pakistan’s cross-border terrorism against India.
Instead of responding, Sikorski abruptly walked away… pic.twitter.com/tQ7qBkI0xD
زاپاد 2025 روس اور بیلاروس کی مشترکہ سٹریٹجک فوجی مشقیں تھیں، جو گذشتہ برس 12 سے 16 ستمبر تک بیلاروس میں منعقد ہوئیں۔
تاہم پولش وزیر اس وقت ناگواری کا شکار نظر آئے جب ایک رپورٹر نے ان سے ’پاکستان سے سرحد پار دہشت گردی‘کے بارے میں سوال کیا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
رادوسواف سکورسکی یوکرین جنگ پر مقامی نشریاتی ادارے این ڈی ٹی وی سے گفتگو کر رہے تھے، مگر پاکستان سے متعلق سوال پر گفتگو ناخوشگوار رخ اختیار کر گئی اور انہوں نے اچانک انٹرویو ختم کر دیا۔
انڈیا کے غیر معمولی طور پر دوٹوک بیانات اور دونوں وزرائے خارجہ کے درمیان کشیدہ تبادلۂ خیال ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پولینڈ نئی دہلی کی جانب سے روسی تیل کی خریداری پر مایوسی کا اظہار جاری رکھے ہوئے ہے، جسے وہ ’ولادی میر پوتن کی جنگی مشین کی مالی معاونت‘ قرار دیتا ہے۔
انڈیا اس وقت امریکی درآمدات پر 50 فیصد ٹیرف کا سامنا کر رہا ہے، جس میں 25 فیصد جوابی محصول اور مزید 25 فیصد روسی تیل کی خریداری سے منسلک ہے اور ساتھ ہی تجارتی معاہدے پر مذاکرات کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے مزید چیلنجز بھی درپیش ہیں۔
رادوسواف سکورسکی کے دورے کے دوران سامنے آنے والی کشیدگی کے باوجود، انڈیا اور پولینڈ کے تعلقات نسبتاً مستحکم ہیں، گذشتہ دہائی میں دوطرفہ تجارت میں 200 فیصد اضافہ ہوا ہے اور دونوں فریق براہ راست پروازوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ تجارت اور ٹیکنالوجی میں تعاون بڑھانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
پولینڈ کے وزیرِ خارجہ کا دورہ رواں ماہ نئی دہلی کے ساتھ یورپی اعلیٰ سطح کے روابط کے متعدد سلسلوں میں سے ایک ہے۔ جرمنی کے چانسلر اور فرانس کے قومی سلامتی کے مشیر پہلے ہی انڈیا کا دورہ کر چکے ہیں، جبکہ یورپی یونین کی اعلیٰ قیادت کے آئندہ ہفتے یومِ جمہوریہ کی پریڈ اور یورپی یونین۔انڈیا سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے پہنچنے کی توقع ہے۔
© The Independent