اپوزیشن لیڈر کے گرد گھومتی پاکستانی سیاست

پاکستان میں قائد حزب اختلاف کی تبدیلی کی روایت وزیراعظم کو برطرف کرنے سے زیادہ پرانی ہے۔

پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین اور حزب اختلاف کے سینیئر رہنما محمود خان اچکزئی 16 نومبر 2025 کو اسلام آباد میں انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کر رہے ہیں (انڈپینڈنٹ اردو)

پاکستانی سیاست کے بارے میں کوئی بات یقین سے کہی جا سکتی ہے تو وہ یہ ہے کہ ہر وقت غیر یقینی صورت حال رہتی ہے۔ کسی بھی لحمہ یہ ہوسکتا ہے کہ وزیراعظم یا پھر قائد حزب اختلاف اپنے عہدے پر نہ رہیں یا ان میں کسی ایک یا دونوں کو عہدے سے الگ ہونا پڑ جائے۔ 

ماضی میں  قومی اسمبلی کی ایک معیاد کے دوران جہاں وزرائے اعظم کو گھر جانا پڑا وہی قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف بھی تبدیل ہوئے۔

البتہ قائد حزب اختلاف کی تبدیلی کی روایت وزیراعظم کو برطرف کرنے سے پرانی ہے۔ موجودہ قومی اسمبلی کا شمار بھی ان ہی اسمبلیوں میں ہوتا ہے جہاں اپوزیشن لیڈر تبدیل ہوئے۔

محمود خان اچکزئی کو عمر ایوب خان کی جگہ اپوزیشن لیڈر کا عہدہ ملا کیونکہ عمر ایوب خان نو مئی کے مقدمے میں سزا کی وجہ سے قومی اسمبلی کی نشست سے نااہل ہو گئے تھے۔ 

اپوزیشن لیڈر کی تبدیلی کا سلسلہ 1970 کے انتخابات کے بعد اُس وقت شروع ہوا جب خان عبدالولی خان اپنی جماعت نیشنل عوامی پارٹی پر پابندی کی وجہ سے اپوزیشن لیڈر نہیں رہے۔ قومی اسمبلی میں ذوالفقار علی بھٹو وزیراعظم تھے جبکہ ولی خان کے پاس اپوزیشن لیڈر کا عہدہ تھا۔ 

ولی خان کے بعد اپوزیشن لیڈر کا عہدہ سینیئر سیاست دان سردار شوکت حیات کے پاس چلا گیا جو قومی اسمبلی کی تحلیل تک فرائض ادا کرتے رہے۔

یہ روش آگے چل کر بھی برقرار رہی اور 1985 کی غیر جماعتی بنیادوں پر قائم ہونے والی قومی اسمبلی کو اُس وقت کے فوجی صدر جنرل ضیا الحق نے 58 ٹو بی یعنی اسمبلی توڑنے کے اختیار کے تحت تحلیل کر دیا۔

وزیراعظم محمد خان جونیجو کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا، لیکن اس سے پہلے اپوزیشن لیڈر کی تبدیلی ہوئی۔

قومی اسمبلی کے وجود میں آنے کے بعد جہاں محمد خان جونیجو وزیراعظم منتحب ہوئے تو جنوبی پنجاب کے شہر رحیم یار خان سے رکن قومی اسمبلی حاجی سیف اللہ خان کو قائد حزب اختلاف کا عہدہ ملا۔

لیکن جب سپیکر قومی اسمبلی سید فخر امام کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کامیاب ہوئی تو سبکدوش ہونے والے سپیکر یعنی سید فخر امام  اپوزیشن لیڈر بن گئے۔ 

1988 میں قائم ہونے والی قومی اسمبلی لگ بھگ 18 ماہ تک برقرار رہی۔ اس اسمبلی کے وزیراعظم کو گھر جانا پڑا لیکن اس سے پہلے اپوزیشن لیڈر کے عہدے پر تبدیلی رونما ہوئی۔ 

اپوزیشن لیڈر کا عہدہ غلام حیدر وائیں کے حصے میں آیا۔ اسی دوران بینظیر بھٹو حکومت کی مخالف جماعتوں کا سی او پی کے نام سے پارلیمان کے اندر اتحاد بنا اور سابق وزیر اعلیٰ سندھ اور رکن قومی اسمبلی غلام مصطفی جتوئی اپوزیشن لیڈر بن گئے۔

بینظیر بھٹو کی حکومت کی برطرفی کے بعد اپوزیشن لیڈر یعنی غلام مصطفی جتوئی کو ہی نگران وزیراعظم بنا دیا گیا۔ 

1990 اور 1997 میں بینظیر بھٹو اپوزیشن لیڈر رہیں جبکہ 1993 نواز شریف قائد حزب مخالف کے فرائض ادا کرتے رہے۔

2002 کی قومی اسمبلی نے تین وزرا اعظم دیکھے لیکن اپوزیشن لیڈر ایک ہی رہے، البتہ اپوزیشن لیڈر کی نامزدگی خاصی دیر سے ہوئی۔

جب میر ظفر اللہ خان جمالی نے جون 2004 میں وزیراعظم کا عہدہ چھوڑا تو اُس وقت تک اپوزیشن لیڈر کا منصب خالی تھا۔

پھر اس وقت کے سپیکر قومی اسمبلی چوہدری امیر حسین نے اگست 2004 میں متحدہ مجلس عمل (ایم ایم اے) کے سیکریٹری جنرل مولانا فضل الرحمٰن کو اپوزیشن لیڈر نامزد کیا اور پارلیمان میں دوسرے سیاسی اتحاد اے آر ڈی یا اتحاد بحالی جمہوریت کے نامزد رکن اسمبلی کو اپوزیشن لیڈر کے لیے نامزد نہیں کیا گیا۔

اس پر اے آر ڈی میں شامل پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ ن نے اے آر ڈی کو اپوزیشن لیڈر کا عہدہ نہ دینے پر شدید احتجاج بھی کیا۔ 

سپیکر قومی اسمبلی چوہدری امیر حسین کا موقف تھا کہ ایم ایم اے نے 2002 کے انتخابات ایم ایم اے پیلٹ فارم سے لڑا جبکہ اے آر ڈی میں شامل جماعتیں اپنے اپنے نشان سے انتخابی معرکے میں اتری تھیں۔ 

2008 کے انتخابات میں پی پی پی نے حکومت بنائی اور دوسری بڑی جماعت مسلم لیگ اس کی اتحادی تھی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اسی وجہ سے اپوزیشن لیڈر کا عہدہ سابق حکمران جماعت مسلم لیگ ق کے پاس چلا گیا اور پرویز الہی قائد حزب اختلاف بن گئے۔

مسلم لیگ ن کا اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کو بحال نہ کرنے پر پیپلز پارٹی سے اختلاف ہوا اور وہ حکومت چھوڑ کر اپوزیشن بنچز پر بیٹھ گئی۔

یوں اپوزیشن لیڈر تبدیل ہو گئے۔ مسلم لیگ ق کے پرویز الہٰی کی جگہ ن لیگ کے چوہدری نثار علی خان کو اپوزیشن لیڈر کا عہدہ مل گیا۔

بعد میں سبکدوش ہونے والے اپوزیشن لیڈر ڈپٹی پرائم منسٹر بن کر وفاقی کابینہ میں شامل ہو گئے۔ 

ن لیگ حکومت میں آئی تو قائد حزب مخالف کا عہدہ پیپلز پارٹی کے پاس چلا گیا اور سید خورشید شاہ اپوزیشن لیڈر بنے۔

2013 کی اسمبلی میں صرف وزیراعظم کی تبدیلی ہوئی جب نواز شریف کی نااہلی کے بعد شاہد خاقان عباسی وزیراعظم بنے، تاہم اسمبلی کی تحلیل تک اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ ہی رہے۔

2018 کے انتخابات کے نتیجے میں قائم ہونے والی واحد قومی اسمبلی ہے جس میں وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر دونوں ہی تبدیل ہوئے۔

عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے پر اپوزیشن لیڈر شہباز شریف وزیراعظم بن گئے جبکہ تحریک انصاف کے ناراض دھڑے کے راجہ ریاض احمد خان کو اپوزیشن لیڈر بنایا گیا جو بعد میں ن لیگ میں شامل ہو گئے۔ 

اس کے بعد سپیکر قومی اسمبلی گوہر ایوب خان کے بیٹے عمر ایوب خان اپوزیشن لیڈر بنے، لیکن 2025 میں نو مئی کے واقعات پر درج مقدمے میں سزا کی وجہ سے انہیں اپوزیشن لیڈر کا عہدہ چھوڑنا پڑا۔

کچھ تاخیر کے بعد آخر کار 2026 میں محمود خان اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر مان لیا گیا۔ 2002 کی نسبت اس مرتبہ کم تاخیر ہوئی۔

نوٹ: یہ تحریر بلاگر کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، انڈپینڈنٹ اردو کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ