’کانسٹیبل زویا کو اس لیے قتل کیا کیونکہ وہ کافر تھی‘

گڈانی سینٹرل جیل میں 23 سالہ لیڈی کانسٹیبل زویا بنتِ یحییٰ کو تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کرنے والی تین روسی خواتین نے جرم کا اعتراف کر لیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ زویا کو اس لیے قتل کیا کیوں کہ وہ ’کافر‘ تھی۔

گڈانی پولیس سٹیشن کے اے ایس پی نوید عالم کے مطابق یہ خواتین پچھلے پانچ ماہ سے گڈانی جیل میں موجود تھیں۔ (سوشل میڈیا)

گڈانی سینٹرل جیل میں 23 سالہ لیڈی کانسٹیبل زویا بنتِ یحییٰ کو تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کرنے والی تین روسی خواتین نے جرم کا اعتراف کر لیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ زویا کو اس لیے قتل کیا کیوں کہ وہ ’کافر‘ تھی۔

انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے گڈانی پولیس سٹیشن کے اے ایس پی نوید عالم کا کہنا تھا کہ پولیس نے ان کے خلاف پاکستان پینل کوڈ (پی پی سی) کی دفعہ 302 کے تحت مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔

اے ایس پی نوید عالم نے بتایا کہ ان تینوں خواتین کی شناخت خدیجہ بنتِ عبداللہ، گُلینہ عرف زینب اور عائشہ بنتِ موسیٰ کے نام سے کی گئی ہے۔ ان تینوں روسی خواتین کو کوئٹہ بجلی روڈ پولیس سٹیش پر فارن ایکٹ کی تیسری اور چوتھی شق کے تحت ایک نوعمر لڑکے کے ساتھ گذشتہ سال غیر قانونی طور پر پاکستان داخل ہونے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔

ان کے پاس کسی قسم کے سفری دستاویزات موجود نہیں تھے۔ انہیں گڈانی جیل اس لیے شفٹ کیا گیا تھا تاکہ کراچی میں روسی قونصلیٹ سے رابطہ کیا جاسکے اور کونسلر رسائی آسانی سے حاصل ہو۔

گڈانی پولیس سٹیشن کے اے ایس پی نوید عالم کے مطابق یہ خواتین پچھلے پانچ ماہ سے گڈانی جیل میں موجود تھیں اور ایک ہفتے میں ان تینوں روسی خواتین کا قانونی عمل مکمل ہونا تھا اور انہیں اپنے ملک واپس جانا تھا لیکن اچانک سات اور آٹھ اکتوبر کی شب انہوں نے گڈانی جیل کی وارڈن کو قتل کر دیا۔

گڈانی سینٹرل جیل میں اس وقت 11 خواتین قیدی ہیں جس میں سے پانچ روسی، ایک چیچن اور چار پاکستانی خواتین ہیں۔ ابتدائی تفتیش کے مطابق خواتین وارڈ میں یہ تین روسی قیدی، وارڈن زویا کے علاوہ باقی پاکستانی قیدیوں کو بھی کافر کہتی تھیں۔ اب تک یہ بات سامنے نہیں آسکی ہے کہ وہ انہیں کافر کیوں بلاتی تھیں اور یہ معاملہ اتنی شدت کیوں اختیار کر گیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

البتہ، ایک ماہ قبل وارڈن زویا، جو اے ایس پی نوید عالم کے مطابق اِن روسی قیدیوں کا کافی خیال رکھتی تھیں، نے ان قیدیوں کو آنکھوں میں لگانے والا سرمہلاکر دیا تھا جو زویا کے مطابق مدینہ منورہ سے لایا گیا تھا، لیکن ان قیدویوں کو سرمہدینے کے بعد سے خواتین وارڈ کا ماحول کافی خراب تھا اور ہر روز کوئی نہ کوئی بدمزگی پیش آتی تھی۔

ایف آئی آر کے مطابق زویا اپنی شفٹ شروع کرنے کے لیے پیر کی شام پانچ بجے خواتین کی بیرک میں داخل ہوئیں جو منگل کی صبح آٹھ بجے ختم ہونا تھی۔

تاہم جب جیل کی ہیڈ وارڈن صبح چھ بجے خواتین کے بیرک کا گیٹ کھولنے گئیں تو انہیں ایک قیدی نے اطلاع دی کہ روسی خواتین قیدیوں نے زویا کو قتل کر دیا ہے۔

ایف آئی آر کے مطابق، ’قیدیوں نے پولیس کو بتایا کہ رات قریب 12:30 بجے، تین روسی خواتین قیدیوں نے زویا کا رسی سے گلا گھونٹا اور بار بار ان کے سر پر سیمنٹ کے بلاک اور ان کے چہرے پر پتھر مار کر انھیں زخمی کر دیا۔‘

مبینہ طور پر زویا نے موقع پر ہی دم توڑ دیا۔

اے ایس پی نوید عالم کے مطابق ان تین روسی خواتین کے ساتھ دو بچے بھی ہیں اور اس واردات کے بعد مجرموں کو الگ الگ بیرکوں میں رکھا گیا ہے۔ دوسرے قیدیوں یا جیل کے عملے کے ساتھ ان کا کوئی رابطہ نہیں ہے اور اس معاملے پر مزید تفتیش جاری ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان