دفاعی معاہدے کے تحت پاکستان فوج اور جنگی طیارے سعودی عرب میں تعینات: سعودی وزارت دفاع

سعودی وزارت نے ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ اس تعیناتی کا مقصد مشترکہ دفاعی تعاون کو مضبوط بنانا اور علاقائی و عالمی سطح پر سکیورٹی اور استحکام کی حمایت کرنا ہے۔

کثیر القومی فضائی جنگی مشق ’سپیئرز آف وکٹری 2025‘ میں شرکت کے لیے پاکستان ایئر فورس کا دستہ، جس میں جے ایف17 تھنڈر بلاک-تھری لڑاکا طیارے شامل ہیں، فضائی اور زمینی عملے کے ساتھ سعودی عرب کے کنگ عبدالعزیز ایئر بیس پر پہنچا تھا (فائل فوٹو/آئی ایس پی آر)

سعودی عرب نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ پاکستان کی ملٹری فورس، جس میں لڑاکا طیارے بھی شامل ہیں، دونوں ممالک کے درمیان دفاعی معاہدے کے تحت کنگ عبدالعزیز ایئر بیس پہنچ گئی ہے۔

سعودی وزارت نے ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ اس تعیناتی کا مقصد مشترکہ دفاعی تعاون کو مضبوط بنانا اور علاقائی و عالمی سطح پر سکیورٹی اور استحکام کی حمایت کرنا ہے۔

بیان میں کہا گیا: ’برادر اسلامی جمہوریہ پاکستان کی ایک ملٹری فورس مشترکہ سٹریٹجک دفاعی معاہدے کے تحت مشرقی سیکٹر میں واقع کنگ عبدالعزیز ایئر بیس پر پہنچ گئی ہے۔‘

بیان کے مطابق: ’پاکستانی فورس میں پاکستان فضائیہ کے لڑاکا اور معاون طیارے شامل ہیں اور اس کا مقصد دونوں ممالک کی مسلح افواج کے درمیان عسکری ہم آہنگی کو فروغ دینا، آپریشنل تیاری کی سطح کو بلند کرنا اور علاقائی و بین الاقوامی سطح پر سکیورٹی و استحکام کی حمایت کرنا ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

رواں سال فروری میں سعودی دارالحکومت ریاض میں منعقدہ ’عالمی دفاعی نمائش‘ میں پاکستان کے جے ایف-17 تھنڈر لڑاکا طیارے میں شرکا نے غیر معمولی دلچسپی ظاہر کی تھی۔

پاکستان نے جے ایف-17 کو ایک ’کم لاگت اور مؤثر ملٹی رول لڑاکا طیارے‘ کے طور پر پیش کیا ہے جسے مہنگے مغربی طیاروں کے متبادل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے اور اب اسے پاکستان کی دفاعی برآمدات کی حکمت عملی میں مرکزی حیثیت حاصل ہو گئی ہے۔

پاکستان اور سعودی عرب گذشتہ سال 17 ستمبر کو مشترکہ سکیورٹی معاہدہ کرنے کے بعد ایران میں جنگ کے دوران قریبی رابطے میں رہے، جس کے تحت ایک پر حملہ دونوں کے لیے خطرہ تصور کیا جاتا ہے۔

سعودی عرب نے پاکستان کی معیشت کو مالی معاونت اور سرمایہ کاری کے ذریعے سہارا دینے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے، جبکہ دونوں ممالک نے معاشی، دفاعی اور سیاسی شعبوں میں تعاون کو بتدریج وسعت دی ہے۔

پاکستان نے جمعے کو سعودی عرب کے ساتھ مزید گہرے معاشی تعاون پر زور دیا، جب مملکت کے وزیرِ خزانہ محمد بن عبداللہ الجدعان اعلیٰ پاکستانی قیادت سے مذاکرات کے لیے اسلام آباد پہنچے۔

یہ دورہ جو امریکہ اور ایران کے درمیان عارضی جنگ بندی کے بعد کسی سینیئر سعودی عہدیدار کا پہلا دورہ تھا، ایسے وقت میں ہوا جب اسلام آباد میں ایرانی اور امریکی حکام کے درمیان امن مذاکرات جاری ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا