کشمیر: معطل موبائل فون سروس میں نرمی کا اعلان

بھارتی حکومت نے کہا ہے کہ کشمیر میں پوسٹ پیڈ موبائل صارفین کے لیے سروس پیر کی دوپہر سے بحال کر دی جائے گی اور اس نرمی کا اطلاق تمام اضلاع پر ہو گا۔

پانچ اگست کو خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد سے بھارت کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں مسلسل کرفیو نافذ ہے(اے ایف پی)

بھارتی حکومت نے اپنے زیر انتظام جموں و کشمیر کے بیشتر علاقوں میں موبائل فون سروس بحال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق حکومتی ترجمان روہت کانسال نے ہفتے کو ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ پابندیوں میں نرمی کا فیصلہ بدامنی کے شکار خطے میں سکیورٹی کی صورتحال کا ازسرنو جائزہ لینے کے بعد کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پوسٹ پیڈ موبائل صارفین کے لیے سروس پیر کی دوپہر سے بحال کر دی جائے گی اور اس نرمی کا اطلاق کشمیر کے تمام اضلاع پر ہو گا۔

تاہم کنسال نے یہ واضح نہیں کیا کہ آیا حکومت پیر سے انٹرنیٹ سروس بھی بحال کرے گی یا نہیں۔

بھارتی حکومت نے بڑھتے ہوئے بین الاقوامی دباؤ کے بعد جمعرات کو تین سیاسی شخصیات کو رہا کر دیا تھا جبکہ وادی میں سیاحوں کی آمد پر پابندی بھی اٹھا لی تھی۔

کنسال نے مزید دعوی کیا کہ حراست میں لیے گئے افراد کو سکیورٹی کا جائزہ لینے کے بعد بتدریج رہا کیا جائے گا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

 واضح رہے کہ پانچ اگست کو بھارت کے زیر انتظام جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد سے وادی بھر میں مسلسل کرفیو نافذ ہے، ذرائع آمد و رفت معطل اور مواصلاتی نظام منقطع ہے جس کے باعث پوری وادی جیل میں تبدیل ہوگئی ہے۔

عالمی قوتوں کے بارہا تشویش کے اظہار کے باوجود بھارتی حکومت اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔

گذشتہ ماہ دی انڈپینڈنٹ کو حاصل ہونے والے سرکاری اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ پانچ اگست کو جموں و کشمیر کی آئینی حیثیت ختم کرنے کے بعد وادی میں مسلسل کرفیو نما صورتحال ہے اور ہزاروں افراد کو حراست میں لیا گیا تھا۔

زیر حراست افراد کے خاندانوں نے الزام لگایا کہ قیدیوں کو بھارتی جیلوں میں بدترین ہراسانی اور بدسلوکی کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

کئی برس سے انسانی حقوق کی تنظیمیں بھارتی فوج پر الزام لگا رہی ہیں کہ وہ کشمیر کی آبادی کو جسمانی اور جنسی استحصال اور بلاجواز گرفتاریوں سے ہراساں کر رہی ہے۔

بھارتی سرکاری حکام نے ان الزامات کو علیحدگی پسند پروپیگینڈا قرار دیتے ہوئے اس کی تردید کی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا