پشاور: سماجی دباؤ سے لڑتی خواتین فٹ بالرز ایکشن میں

پشاور میں منعقدہ آل پاکستان انٹر یونیورسٹی ویمن فٹ بال چیمپیئن شپ میں نو یونیورسٹیوں کی کھلاڑی اپنے خوابوں کی تعبیر کے لیے میدان میں اتری ہیں۔

دنیا بھر میں فیفا فٹ بال ورلڈ کپ کا جوش و خروش عروج پر ہے اور اس کھیل کی دیوانگی پاکستان کے تاریخی شہر پشاور میں بھی نمایاں نظر آ رہی ہے، جہاں اسلامیہ کالج یونیورسٹی آل پاکستان انٹر یونیورسٹی ویمن فٹ بال چیمپیئن شپ کی میزبانی کر رہی ہے۔

ٹورنامنٹ میں کراچی، لاہور اور اسلام آباد سمیت نو شہروں سے یونیورسٹیوں کی ٹیمیں کھیل رہی ہیں۔

یہ خواتین کھلاڑی صرف ٹرافی کے لیے نہیں بلکہ اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کے عزم کے ساتھ میدان میں اتری ہیں۔

یونیورسٹی آف مینیجمنٹ کی کھلاڑی ماریہ غضنفر نے کہا کہ ایک طرف فیفا ورلڈ کپ کی عالمی سطح پر رونقیں ہیں تو دوسری طرف اس طرح کے ایونٹس پاکستان میں خواتین کے لیے حوصلہ افزائی کا باعث بنتے ہیں۔

ان کے مطابق خواتین کھلاڑیوں کے بارے میں یہ تاثر غلط ہے کہ وہ جسمانی طور پر کمزور ہیں اور میدان میں ان کی کارکردگی اس سوچ کو رد کرتی ہے۔

ماریہ کا کہنا تھا کہ خواتین کو سب سے بڑا چیلنج معاشرتی رویے اور محدود سہولیات کا سامنا ہے۔

’پاکستان میں خواتین کے لیے فٹ بال کی سہولیات ناکافی ہیں جبکہ مجموعی طور پر ملک میں مردوں کے کھیلوں کو بھی مکمل سپورٹ حاصل نہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پنجاب یونیورسٹی کی کھلاڑی ندا مظہر نے بتایا کہ پشاور میں آ کر اس ایونٹ میں حصہ لینا ان کے لیے حوصلہ افزا تجربہ ہے۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ معاشرتی دباؤ اور تنقید، خصوصاً کھیل کے دوران لباس پر تبصرے، خواتین کھلاڑیوں کے لیے بڑا مسئلہ ہیں۔

دوسری جانب پشاور کے میزبان ہونے کے باوجود خیبر پختونخوا کی کوئی یونیورسٹی ٹیم اس چیمپیئن شپ میں شریک نہیں۔

اسلامیہ کالج یونیورسٹی کے ڈائریکٹر سپورٹس علی ہوتی کے مطابق مالی مشکلات کے باعث مقامی ٹیم مقابلے میں حصہ نہ لے سکی، تاہم صوبے میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں بلکہ سہولیات کا فقدان بڑا مسئلہ ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی فٹ بال