یونانی ساحل پر انسان نما دانتوں والی زہریلی مچھلیاں پکڑنے پر انعام کا اعلان

حکومت کا کہنا ہے کہ انسان نما دانتوں والی مچھلیاں پکڑنے کے لیے فی کلوگرام پانچ یورو سے زیادہ رقم دی جائے گی۔

سلور پفر فش جسے ایک ماہی گیر نے دو جون 2026 کو جزیرہ کریٹ پر ایراپیٹرا کی بندرگاہ پر پکڑا (اے ایف پی)

یونان میں ماہی گیروں کو ایک زہریلی مچھلی پکڑنے پر انعام دیا جا رہا ہے، جو شمال کی جانب بحیرہ روم کا رخ کر کے ماہی گیروں کے لیے مسائل کا سبب بن رہی ہے۔

سلور چیکڈ ٹوڈ فش تارپیڈو کی شکل کی ایک مچھلی ہے، جس کے دانت نمایاں اور انسانوں جیسے ہوتے ہیں۔ اس مچھلی کی جلد اور اعضا میں ایک طاقتور اعصابی زہر پایا جاتا ہے جسے کھانے کی صورت میں انسان کا دل کام کرنا بند کر سکتا ہے۔

ماہی گیروں کی جانب سے شیئر کی گئی آن لائن ویڈیوز نے یونان میں عوامی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے، جن میں مقامی طور پر لاگوکیفالوس کے نام سے جانی جانے والی اس مچھلی کو ڈبوں یا لکڑی کے ٹکڑوں میں اپنے دانت گاڑتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

یونانی ریڈ کراس نے اس مچھلی کے حوالے سے صحت عامہ کا انتباہ جاری کیا ہے، جس میں اس کے ممکنہ طور پر کاٹنے سے خون بہنے کی صورت میں ابتدائی طبی امداد کے طریقہ کار بتائے گئے ہیں اور مچھلی کے اعضا میں موجود جان لیوا اعصابی زہر کے حوالے سے خبردار کیا گیا ہے۔

یونانی ذرائع ابلاغ کے مطابق ایتھنز کے قریب وارکیزا کے ساحل پر تیراکی کے دوران مچھلی کے کاٹنے سے ایک خاتون زخمی ہو گئیں۔ انہیں ہسپتال لے جایا گیا اور اس حملے کے نتیجے میں انہیں ٹانکے لگانے پڑے۔

خیال کیا جاتا ہے کہ یہ مچھلیاں گرم پانیوں کی کشش کے باعث نہر سویز سے ہوتی ہوئی بحیرہ روم میں داخل ہوئی ہیں۔ اس یلغار کے بعد قبرص نے بھی قبل ازیں رواں سال انہیں پکڑنے کا ایسا ہی پروگرام شروع کیا تھا۔

حکام کا کہنا ہے کہ ان مچھلیوں کو یونانی جزائر کے ریزورٹس میں تیراکی کے مقامات پر نہیں دیکھا گیا لیکن حالیہ ہفتوں میں ان مچھلیوں نے جال کاٹ کر کریٹ اور کئی دیگر یونانی جزائر کے ساحلوں پر ماہی گیروں کے لیے تباہی مچا دی ہے۔

کریٹ کے ماہی گیروں کی تنظیم سے تعلق رکھنے والے جیورجوس کیریاکاکس نے جمعے کو یونان کے سرکاری نشریاتی ادارے ای آر ٹی کو بتایا: ’بات یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ ہو سکتا ہے ہم ایک دن مچھلی پکڑنے نکلیں اور پھر اگلے تین دن اپنے جال ٹھیک کرنے میں گزار دیں۔‘

ان کا کہنا تھا: ’وہ ہمارا شکار کھا جاتی ہیں اور ہمارے جالوں کو نقصان پہنچاتی ہیں، جو بہت مہنگا پڑتا ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جمعے سے یونان کی حکومت اس مچھلی کو پکڑنے پر 5.33 یورو فی کلوگرام (تقریباً 2.75 ڈالر فی پاؤنڈ) دے رہی ہے جو عام طور پر استوائی پانیوں میں پائی جاتی ہے۔

یورپی کمیشن کے سابق نائب صدر اور وزیر زراعت مارگرائٹس سکناس نے پروگرام کے آغاز سے قبل کہا کہ ’یونان میں پہلی بار ایسا اقدام کیا گیا ہے۔‘

مارگرائٹس سکناس نے کہا کہ پفر فش خاندان سے تعلق رکھنے والی اس مچھلی کو مقامی حکومتی تنصیبات میں منجمد کر کے جلا دیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس اقدام کا دائرہ کار ممکنہ طور پر موجودہ متاثرہ جزائر سے بڑھا کر تمام یونانی سمندری حدود تک پھیلایا جائے گا۔

جزیرہ کریٹ کے حکام اور کاروباری حلقوں نے ساحل سے دور اس مچھلی کی موجودگی پر ضرورت سے زیادہ ردعمل ظاہر کرنے سے خبردار کیا ہے۔

کریٹ میں 16 طبی اور سیاحتی تنظیموں کی جانب سے جمعے کو جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا کہ ’بحیرہ روم میں ان مچھلیوں کی موجودگی کا برسوں سے علم ہے۔‘

بیان کے مطابق: ’تاہم، تیراکوں کے لیے کوئی ’پوشیدہ‘ یا فوری خطرہ نہیں۔ سمندری شکاری مچھلی سیاحوں اور رہائشیوں کی سلامتی کے لیے خطرہ نہیں ہیں۔ مبالغہ آرائی اکثر عوامی بحث کا حصہ ہوتی ہے۔‘

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی ماحولیات