کویت میں حملوں پر شدید تشویش، امید ہے اسلام آباد ایم او یو پر مکمل عملدرآمد ہو گا: وزیر خارجہ کویت

پاکستانی وزیر خارجہ نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت جنگ بندی کے وعدوں کی پاسداری اور کسی بھی ایسی کارروائی سے گریز کی اہمیت پر بھی زور دیا جو مزید کشیدگی کا باعث بن سکتی ہو۔

پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق (بائیں) اور کویتی وزیر خارجہ شيخ جراح جابر الأحمد الصباح (دائیں) کے درمیان 18 جولائی 2026 کو خطے کی تازہ ترین صورت حال پر گفتگو ہوئی(تصاویر کولاج: اے ایف پی)

پاکستان کے دفتر خارجہ نے ہفتے کو بتایا ہے کہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار اور ریاستِ کویت کے وزیر خارجہ شيخ جراح جابر الأحمد الصباح کے درمیان ٹیلی فونک گفتگو ہوئی ہے۔

دفتر خارجہ کے مطابق دونوں وزرائے خارجہ نے خطے کی تازہ ترین صورت حال پر تبادلۂ خیال کیا۔

بیان کے مطابق کویتی وزیر خارجہ شیخ جراح نے کویت کی سرزمین پر جاری حملوں کے حوالے سے اپنی شدید تشویش کا اظہار کیا اور امید ظاہر کی کہ تمام فریق تحمل کا مظاہرہ کریں گے اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت  پر مکمل عملدرآمد کیا جائے گا۔

گفتگو کے دوران کویتی وزیر خارجہ شیخ جراح نے مکالمے کے فروغ اور علاقائی استحکام کے لیے پاکستان کے تعمیری اور ثالثی پر مبنی کردار کو بھی سراہا۔

بیان کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے کشیدگی میں فوری کمی کی ضرورت پر زور دیا، تمام ریاستوں کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام کی اہمیت کو اجاگر کیا، اور اس بات پر زور دیا کہ علاقائی امن و سلامتی کا تحفظ سب سے اولین ترجیح رہنا چاہیے۔

 پاکستانی وزیر خارجہ نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت جنگ بندی کے وعدوں کی پاسداری اور کسی بھی ایسی کارروائی سے گریز کی اہمیت پر بھی زور دیا جو مزید کشیدگی کا باعث بن سکتی ہو۔

دونوں رہنماؤں نے باہمی دلچسپی کے امور پر قریبی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔

ادھر کویت کی وزارتِ خارجہ نے آج صبح ملک کے علاقوں کو نشانہ بنانے والی ایران کی ’مجرمانہ جارحیت‘ کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے جس میں ریاستِ کویت کے ایک اور بجلی گھر اور پانی صاف کرنے کے پلانٹ کو نشانہ بنایا گیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وزارت نے کہا کہ ان اہم تنصیبات کو بار بار نشانہ بنایا جان بوجھ کر اختیار کیے گئے ایک جارحانہ طرزِ عمل کی عکاسی کرتا ہے، جس کا مقصد شہری اثاثوں اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچانا ہے، اور جو شہریوں کی جان و سلامتی کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔

وزارت کے مطابق یہ کارروائیاں بین الاقوامی قانون، بین الاقوامی انسانی قانون، اقوامِ متحدہ کے منشور اور سلامتی کونسل کی قرارداد 2817 کی صریح خلاف ورزی ہیں۔

وزارت نے مزید کہا کہ وہ اس ’غدارانہ جارحیت‘ اور اس کے نتائج کی مکمل ذمہ داری ایران پر عائد کرتی ہے اور مطالبہ کرتی ہے کہ وہ فوری طور پر اپنے حملے بند کرے۔

وزارتِ خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ ریاستِ کویت اپنی سلامتی کے تحفظ اور اپنی سرزمین اور اہم تنصیبات کے دفاع کے لیے کسی بھی جارحیت یا خطرے کے مقابلے میں تمام ضروری اقدامات کرنے کا مکمل حق محفوظ رکھتی ہے۔

وزارت نے کہا کہ یہ حق اقوامِ متحدہ کے منشور کے آرٹیکل 51 کے تحت حاصل شدہ حقِ دفاعِ اور بین الاقوامی قانون کے اصولوں کے مطابق استعمال کیا جائے گا۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا