باڑہ: پی ٹی آئی مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں، متعدد زخمی

صوبائی انتظامیہ کی ترجمان ثمر ہارون بلور نے روئٹرز کو تحریری جواب میں پولیس کی جانب سے براہ راست فائرنگ کے الزامات کو ’بے بنیاد اور لغو‘ قرار دیا۔

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقے باڑہ میں 14  اکتوبر 2026  کو جھڑپوں کے بعد نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی کے دفتر کے قریب سڑک پر لوگ جمع ہیں (اے ایف پی)

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر کے علاقے باڑہ میں منگل کو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے حامیوں کے مظاہرے کے دوران پولیس کی فائرنگ اور آنسو گیس کے استعمال سے متعدد افراد زخمی ہو گئے، جب کہ حکام نے احتجاج کے دوران توڑ پھوڑ کے الزام میں 50 افراد کو گرفتار کر لیا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق عمران خان کی جماعت کے رہنماؤں نے الزام عائد کیا کہ پولیس نے مظاہرین پر براہ راست فائرنگ کی، تاہم صوبائی انتظامیہ نے پولیس کی جانب سے براہ راست فائرنگ کے الزامات کو مسترد کر دیا۔

خیبر پختونخوا میں پولیس کے ایک انٹیلی جنس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اے ایف پی کو بتایا کہ باڑہ میں 200 سے زائد افراد نے مظاہرہ کیا، جسے منتشر کرنے کے لیے سکیورٹی اہلکاروں نے آنسو گیس، لاٹھیوں اور گولیوں کا استعمال کیا۔

پولیس افسر کے مطابق آنسو گیس اور لاٹھی چارج کے بعد مظاہرین دوبارہ جمع ہوئے، پولیس اہلکاروں کو پکڑا اور ان پر تشدد کیا۔

ان کے بقول: ’دیگر اہلکاروں نے اپنے ساتھیوں کو چھڑانے کے لیے ہوائی فائرنگ کی، جب کہ مظاہرین کی جانب سے پولیس کے ہتھیار چھیننے کی کوشش پر مزید وارننگ شاٹس بھی فائر کیے گئے۔‘

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)

اے ایف پی نے پولیس افسر کے حوالے سے بتایا کہ فائرنگ اور پتھراؤ کے واقعات میں 11 مظاہرین زخمی ہوئے۔

دوسری جانب پی ٹی آئی کے مقامی رہنما خورشید آفریدی نے اے ایف پی کو بتایا کہ پولیس نے مظاہرین کے ہجوم پر براہ راست فائرنگ کی، جس سے جماعت کے ایک درجن سے زائد کارکن شدید زخمی ہوئے۔

صوبائی انتظامیہ کی ترجمان ثمر ہارون بلور نے روئٹرز کو تحریری جواب میں پولیس کی جانب سے براہ راست فائرنگ کے الزامات کو ’بے بنیاد اور لغو‘ قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ پولیس نے ہنگامہ آرائی اور توڑ پھوڑ کے واقعات پر متناسب انداز میں کارروائی کی اور سوشل میڈیا پر مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ویڈیوز کے ذریعے غلط معلومات پھیلائی گئیں۔

روئٹرز کے مطابق پی ٹی آئی کے سیکریٹری اطلاعات اکرام کھٹانہ نے بتایا کہ نامعلوم افراد نے باڑہ میں نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کے مرکز کو آگ لگا دی اور قریبی دفاتر میں داخل ہو گئے۔

ثمر ہارون بلور نے کہا کہ نادرا مرکز کے واقعے کی ذمہ داری کا تعین تحقیقات، ویڈیو فوٹیج اور عینی شاہدین کے بیانات کی مدد سے کیا جائے گا۔

مقامی پولیس کے مطابق باڑہ میں دہشت گردی، تخریب کاری اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے شبہے میں 50 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے، جب کہ چار مقدمات انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت درج کیے گئے ہیں۔

خیبر پختونخوا میں ہنگامی اقدامات

وفاقی حکومت نے اتوار کو خیبر پختونخوا میں ہنگامی اقدامات نافذ کرتے ہوئے صوبے کا انتظام براہ راست اپنے کنٹرول میں لے لیا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

حکام نے اس اقدام کا جواز صوبے میں عسکریت پسندوں کے بڑھتے ہوئے تشدد کو قرار دیا، جب کہ پی ٹی آئی نے اسے سیاسی اقتدار پر قبضے کی کوشش قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔

وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے پیر کو کہا تھا کہ سہیل آفریدی کو تحویل میں لیا گیا ہے، تاہم وہ گرفتار نہیں ہیں۔

پی ٹی آئی کے ترجمان ذوالفقار بخاری نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر باڑہ بازار میں تشدد سے متعلق ویڈیوز شیئر کرتے ہوئے ہنگامی اقدامات اور گورنر راج کو ’مارشل لا‘ قرار دیا تھا۔

روئٹرز نے واضح کیا کہ وہ ویڈیوز کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا اور نہ ہی فائرنگ سے متعلق متضاد دعوؤں کی آزادانہ تصدیق ممکن ہو سکی۔

عمران خان اگست 2023 سے جیل میں ہیں اور انہیں بدعنوانی سمیت متعدد مقدمات کا سامنا ہے۔ ان پر فوجی تنصیبات پر حملوں سمیت مختلف واقعات میں اشتعال دلانے کے الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں، جنہیں وہ اور ان کی قانونی ٹیم سیاسی محرکات پر مبنی قرار دیتے ہیں۔

پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا میں ہنگامی اقدامات کا مقصد جماعت کی واحد صوبائی حکومت کو کمزور کرنا اور وفاقی حکومت کے لیے سیاسی طور پر راستہ ہموار کرنا ہے، جب کہ وفاقی حکومت نے صوبے میں عسکریت پسندی پر قابو پانے میں صوبائی انتظامیہ کی ناکامی کو اس اقدام کی وجہ قرار دیا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان