مولانا کو فیس سیونگ دینے کا فیصلہ حکومتی کمیٹی کرے گی: شیخ رشید

وزیر ریلوے نے کہا کہ جے یو آئی (ف) کا دھرنا دھندلایا ہوا ہے، مولانا فضل الرحمان جن کے اشاروں پر کھیلنے جا رہے ہیں، ان کی سیاست بھی تباہ ہو جائے گی۔

جب بھی علما نے تحریک چلائی ملک میں مارشل لا لگا: شیخ رشید(اے ایف پی(

وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کا دھرنا دھندلایا ہوا ہے اور مولانا فضل الرحمان کو فیس سیونگ دی جا سکتی ہے لیکن اس کا فیصلہ حکومت کی مذاکراتی پارلیمانی کمیٹی کرے گی۔

ہفتے کو لاہور میں پریس سے گفتگو میں شیخ رشید نے کہا ’گاؤں کے سارے سیاسی چوہدری بھی مرجائیں تو مولانا فضل الرحمان کو اقتدار نہیں مل سکتا۔‘ انہوں نے کہا کہ دھرنا ابھی گرے لسٹ میں ہے، جے یو آئی (ف) نے ابھی دھرنے کی بات نہیں کی۔

انہوں نے مزید کہا کہ مولانا فضل الرحمان جن کے اشاروں پر کھیلنے جا رہے ہیں، ان کی سیاست بھی تباہ ہو جائے گی۔

شیخ رشید کے مطابق، بڑا نازک وقت ہے اور ایسے وقت پر مذاکرات نہ کرنا جمہوریت پر شب خون مارنے کے مترادف ہے۔

ان کا کہنا تھا سیاست میں ٹائمنگ کی بہت اہمیت ہے، جب بھی علما نے تحریک چلائی ملک میں مارشل لا لگا ہے۔ ’نیشنل ایکشن پلان اِن ایکشن ہے۔اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ اسلام آباد پر چڑھائی کرنے سے مسئلے حل ہو جائیں گے تو وہ عقل کا اندھا ہے۔‘

وفاقی وزیر نے یہ بھی دعوی ٰکیا کہ دھرنے کے حوالے سے مذاکرت کے لیے بننے والی کمیٹی ان کی بدولت بنی اور انہوں نے اس پر وزیر اعظم عمران خان کا شکریہ بھی ادا کیا۔

انہوں نے مولانا فضل الرحمان کو یاد دلایا کہ یہ وہی نواز شریف ہیں کہ جب 36 جماعتوں نے الیکشن کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا تھا تو وہ انتخابات میں کود پڑے تھے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ انہیں مولانا فضل الرحمان سے زیادہ دینی مدرسوں اور علما کی فکر ہے۔ ’یہ سارے سیاستدان ایک این آر او کی مار ہیں جو وزیراعظم عمران خان کسی قیمت پر دینے کے لیے تیار نہیں۔‘

 انہوں نے کہا وزیراعظم اور آرمی چیف ایک ہی جمہوری گاڑی کے دوپہیے ہیں جس کو پٹری سے اتارنے کے لیے مولانا فضل الرحمان کو استعمال کیا جا رہا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دوسری جانب، آزادی مارچ کے معاملے پر مذاکرات کے لیے حکومتی کمیٹی کے سربراہ اوروفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک نے پوری اپوزیشن سے بات کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اسلام آباد میں وزیرتعلیم شفقت محمود کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں پرویز خٹک نے امید ظاہر کی کہ مسائل بات چیت سے حل کرلیں گے۔ ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا ’ ہم نے پوری زندگی جلسے جلوس دیکھے ہیں، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ قانون کی عمل داری یقینی بنائی جائے گی۔‘

انہوں نے یاد دلایا کہ پی ٹی آئی نے دھرنے کے دوران بات چیت سے انکار نہیں کیا تھا۔ ’ہم جمہوری لوگ ہیں، مسائل بات چیت سے حل کرنا چاہتے ہیں، بات چیت نہیں ہو گی تو افراتفری کا ماحول پیدا ہو گا، ذمہ داری ان پر عائد ہو گی، کوئی ہم سے شکایت نہ کرے۔ ‘

انہوں نے واضح کیا عمران خان کے استعفے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا،اسلام آباد پر چڑھائی کرنے کی کوشش کی گئی تو ہم اپنا راستہ اپنائیں گے۔

مذاکراتی ٹیم کے سربراہ کا کہنا تھا ،حکومت اپنی رٹ بحال کرائے گی۔’ ہم دھمکی نہیں دے رہے، اگر قانون کی خلاف ورزی کی گئی تو حکومت حرکت میں آئے گی۔‘

پرویز خٹک نے کہا کمیٹی میں ان لوگوں کو شامل کیا جو سیاست کو سمجھتے ہیں، سپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الہیٰ ور چیئر مین سینیٹ صادق سنجرانی پر اعتراضات بلا جواز ہیں۔

اس موقعے پر وفاقی وزیر شفقت محمود کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان اداروں کو اپنی بات چیت میں نشانہ بنا رہے ہیں، اس قسم کی چیزیں برداشت نہیں کی جائیں گی۔

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست