سینسر تنازع کا شکار پانچ پاکستانی فلمیں

پانچ ایسی فلموں کا احوال جو پاکستانی سینما کی بحالی کے بعد سینسر بورڈ میں کسی نہ کسی تنازع کا سبب بنیں۔

شمعون عباسی کی فلم ’دُرج‘ اپنی کہانی کی وجہ سے سینسر  بورڈ میں نمائش کا سرٹیفیکیٹ حاصل نہیں کرسکی تھی، لیکن بعد میں کچھ مناظر حذف کرنے پر اسے کلیئر کر دیا گیا(سکرین گریب)

پاکستان کے مرکزی فلم سینسر بورڈ نے فُل بورڈ ریویو کے بعد پاکستانی فلم دُرج کو سرٹیفیکیٹ جاری کردیا ہے جس کے بعد فلم کی نمائش کی راہ ہموار ہو گئی۔

سینسر بورڈ آف فلم سرٹیفیکیشن (سی بی ایف سی) کے چیئرمین دانیال گیلانی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ فلم کے چند مناظر حذف کرکے اسے نمائش کے لیے پیش کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

یاد رہے کہ اس سے پہلے سینسر بورڈ نے ’دُرج‘ کو نمائش کی اجازت دینے سے یہ کہہ کر انکار کردیا تھا کہ یہ فلم عوامی نمائش کے لیے کسی طور پر موزوں نہیں ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہوا کہ جب کسی فلم کو پہلے پہل نمائش کی اجازت نہ ملی ہو اور ابعدازاں پیل کے بعد نمائش کے لیے کلیئر قرار دے دیا گیا ہو یا پھر سینما میں چلتی ہوئی فلم کو کسی اعتراض پر اتارا گیا ہو اور پھر اسے دوبارہ لگا دیا گیا ہو۔

اگر ہم پاکستان میں فلموں کی نمائش کے حوالے سے حالیہ تاریخ پر نظر ڈالیں تو کچھ ایسی فلمیں ہیں جنہیں سینسر سرٹیفیکیٹ نہیں ملا یا پھر ملنے کے بعد منسوخ کردیا گیا۔

زیرِ نظر پانچ  فلمیں ایسی ہیں جو پاکستانی سینما کی بحالی کے بعد سینسر بورڈ میں کسی نہ کسی تنازع کا سبب بنیں۔

مالک

اداکار اور ہدایت کار عاشر عظیم کی فلم ’مالک‘ آٹھ اپریل 2016 کو نمائش کے لیے پیش کی گئی تھی۔

سینسر بورڈ نے اس فلم کو چند مناظر کاٹنے اور کچھ مقامات پر آواز دبانے کی شرط کے ساتھ نمائش کی اجازت دی، تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ سینسر بورڈ کی ہدایات کو نظر انداز کر دیا گیا تھا۔

فلم کی کہانی ایک سابق ایس ایس جی کمانڈو کی ہے جو ریٹائرمنٹ کے بعد ذاتی سکیورٹی کمپنی کھولتا ہے اور اسے ایک صوبے کے وزیرِاعلیٰ کی حفاظت کی ذمہ داری ملتی ہے مگر وہ وزیراعلیٰ نہ صرف انتہائی کرپٹ ہے بلکہ وہ خواتین کے ریپ میں بھی ملوث ہوتا ہے۔ اس لیے فلم کا ہیرو اسے قتل کرکے خود کو پولیس کے حوالے کردیتا ہے۔

فلم میں اس وزیرِاعلیٰ کو سائیں کہہ کر مخاطب کرنا بھی تنازع کی ایک بڑی وجہ بنا اور اس بارے میں خاص کر سیاست دانوں کی جانب سے ردِعمل سامنے آیا تھا جن میں پاکستان پیپلز پارٹی کی نفیسہ شاہ اور عوامی نیشنل پارٹی کے افراسیاب خٹک شامل تھے۔

پبلسٹی پوسٹر (تصویر: مالک فیس بک پیج)


پیپلز پارٹی کی رہنما اور اُس وقت کے وزیراعلیٰ سندھ کی بیٹی نفیسہ شاہ نے ٹویٹ کیا تھا کہ ’مالک بدنیتی سے بنائی گئی فلم ہے جو پاکستان کو تقسیم کرتی اور قومی اتحاد کو نقصان پہنچاتی ہے۔‘

عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما افراسیاب خٹک نے لکھا تھا: ’فلم مالک نیشنل ایکشن پلان کے بالکل خلاف ہے۔ یہ دکھاتی ہے کہ ہمارا ریاستی نظام دہشت گردی اور شدت پسندی سے نمٹنے میں کتنا غیر سنجیدہ ہے۔‘

پابندی لگنے کے بعد فلم ساز عاشر عظیم یہ معاملہ عدالت میں لے گئے جہاں وفاقی حکومت کا مؤقف تھا کہ فلم میں افغان جنگ کے ایک شدت پسند کو ہیرو کے طور پر پیش کیا گیا ہے اس لیے اسے پابندی کا سامنا ہے۔

بہرحال تقریباً سوا چار ماہ کی قانونی جنگ کے بعد سندھ کی عدالتِ عالیہ نے فلم کو نمائش کی اجازت دے دی اور یوں یہ فلم چھ ستمبر کو سینما میں لگا دی گئی۔

نامعلوم افراد 2

پاکستان کی فلم ساز جوڑی پروڈیوسر فضّہ علی میرزا اور ہدایت کار نبیل قریشی کی فلم ’نامعلوم افراد 2‘ کو پنجاب فلم سینسر بورڈ نے ریلیز کے 36 دن کے بعد مزید نمائش سے روک دیا تھا۔

یہ فلم 2017 میں بقرعید پر نمائش کے لیے پیش کی گئی تھی اور اس پر عارضی پابندی کی وجہ اس میں موجود ایک گانا ’چل ہگ لے‘ تھا جو جنوبی افریقہ کے ساحلِ سمندر پر جاوید شیخ، محسن عباس حیدر اور فہد مصطفٰی پر فلمایا گیا تھا، جس میں بہت سی لڑکیاں تیراکی کے لباس میں نظر آرہی تھیں۔

فلم کے خلاف پنجاب اسمبلی میں ایک قرارداد بھی پیش کی گئی، جس کے بعد اس کی نمائش ایک دن کے لیے معطّل ہو گئی مگر میڈیا اور عوام کے اصرار پر نمائش دوبارہ شروع ہو گئی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پنجاب سینسر بورڈ کا اطلاق پنجاب کے کنٹونمنٹ علاقوں پر نہیں ہوتا، اس لیے اس فلم کی وہاں نمائش جاری رہی۔

پبلسٹی پوسٹر (تصویر: نامعلوم افراد 2 فیس بک پیج)


دراصل اس فلم پر اعتراض حکومتِ پنجاب کے شعبہ اطلاعات اور وزارتِ داخلہ کی جانب سے کیے گئے تھے جس کے بعد اس فلم کی نمائش روکی گئی۔

تاہم اُس وقت پنجاب سینسر  بورڈ کے وائس چیئرمین عثمان پیرزادہ نے موقف اپنایا کہ یہ معاملہ سینسر بورڈ کا ہے جو ایک آزاد ادارہ ہے لیکن پنجاب اسمبلی کی قرارداد کے بعد پنجاب سینسر بورڈ نے اس فلم کو ایک بار پھر دیکھا اور اس مرتبہ بھی اسے سینسر سرٹیفیکیٹ جاری کردیا۔

ورنہ

ماہرہ خان کی فلم ’ورنہ‘ جس کی ہدایات شعیب منصور نے دی تھیں اپنی پہلی اور دوسری کوشش میں سینسر بورڈ سے نمائش کے لیے سرٹیفیکیٹ حاصل کرنے میں ناکام رہی۔ فلم پر اعتراض تھا کہ اس میں ایک صوبے کے گورنر کو خاص طور پر نشانہ بنایا گیا ہے جبکہ اسی صوبے کے ایک گورنر کو ماضی میں قتل کیا جا چکا تھا۔

اس کے علاوہ فلم میں ڈی جی ایف آئی اے اور وفاقی وزیرِ داخلہ کو بھی منفی کردار میں دکھائے جانے کی اطلاعات تھیں۔ ’ورنہ‘ گورنر کے بیٹے کی جانب سے ریپ کا شکار ہونے والی ایک شادی شدہ عورت کی کہانی ہے جس پر سینسر بورڈ کے شدید اعتراضات تھے یہاں تک کے فُل بورڈ ریویو میں بھی یہ فلم پاس نہیں ہوسکی تھی۔

پبلسٹی پوسٹر (تصویر: فلم ورنہ  فیس بک پیج)


سٹار ہدایت کار اور سٹار اداکارہ کی وجہ سے اس فلم کو بہت زیادہ توجہ ملی۔ سوشل میڈیا پر بھی ردعمل کافی شدید تھا جس کے بعد اُس وقت کی وزیرِ مملکت برائے اطلاعات مریم اورنگزیب نے ذاتی دلچسپی لیتے ہوئی فلم کو وزارتِ اطلاعات کی ایپلٹ کمیٹی میں پیش کیا جس کے بعد اس فلم کی نمائش ممکن ہوسکی۔

’ورنہ‘ اس لحاظ سے خوش قسمت رہی کہ جس دن اسے ریلیز ہونا تھا، اس سے ایک دن پہلے شام کو اسے سینسر سرٹیفیکیٹ مل گیا اور اس طرح اس کا کوئی مالی نقصان نہیں ہوا۔

پرواز ہے جنون

2018 میں بڑی عید پر پیش کی جانے والی حمزہ علی عباسی اور ہانیہ عامر کی یہ فلم پاکستانی فضائیہ کے میڈیا افیئرز اور ہم فلمز کے باہمی اشتراک سے بنائی گئی تھی۔

یہ فلم بھی مرکزی سینسر بورڈ سے پہلی مرتبہ سرٹیفیکیٹ حاصل کرنے میں ناکام رہی جس کی وجہ بہت ہی دلچسپ ہے۔ مرکزی سینسر بورڈ میں اس فلم کو جن ارکان نے دیکھا ان میں سے کوئی بھی پشتو زبان نہیں جانتا تھا اور فلم میں ایک سین ایسا تھا جس میں ولن حملے سے پہلے پشتو میں کچھ بات کررہا تھا۔

پبلسٹی پوسٹر (تصویر: فلم پرواز ہے جنون فیس بک پیج)


سینسر بورڈ کے ارکان نے یہ کہہ کر فلم کو سرٹیفیکیٹ جاری کرنے سے انکار کر دیا کہ فلم میں سب ٹائٹل بھی نہیں، تو کیا پتہ کیا کہا گیا ہے۔ اسی وجہ سے فلم کا پریمیئر شو بھی منسوخ کرنا پڑا۔ تاہم پھر فُل بورڈ از سرِ نو بیٹھا اور اس بار اس فلم کو سینسر  سرٹیفیکیٹ مل گیا۔

دُرج

شمعون عباسی کی فلم ’دُرج‘ سینسر بورڈ میں نمائش کا سرٹیفیکیٹ حاصل نہیں کرسکی تھی۔

فلم کو مرکزی سینسر بورڈ نے متفقہ طور پر نمائش کے لیے ناموزوں قرار دیا جس کی وجہ تھی اس کی کہانی۔

’دُرج‘ دراصل آدم خور انسانوں کی کہانی ہے اور اس میں مبینہ طور پر چند افراد کو آدم خوری کرتے دکھایا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق فلم میں قبروں سے مردے نکال کر انہیں کھائے جانے کے عمل نے سینسر بورڈ کے ارکان کو کافی پریشان کیا۔

سینسر بورڈ کے کئی ارکان نے ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا: ’اس طرح کی فلمیں پاکستان کی عالمی ساکھ کو سخت خراب کرتی ہیں اور اس فلم سے یہ گمان ہوتا ہے جیسے یہ معاملہ پاکستان میں بہت عام ہے کہ لوگ قبروں سے مردے نکال کر کھاتے ہیں۔‘

پبلسٹی پوسٹر (تصویر: فلم دُرج فیس بک پیج)


تاہم بعد میں فلم کے مصنّف، ہدایت کار اور پروڈیوسر شمعون عباسی نے حکومتِ پاکستان سے اپیل کی اور اس فلم کو ایک بار پھر فُل بورڈ میں دیکھنے کی استدعا منظور ہوگئی۔ بورڈ ریویو کے بعد فلم کو چند مناظر ہٹا کر ریلیز کے لیے موزوں قرار دے دیا گیا۔

تاہم اب اس فلم کی ریلیز کی تاریخ جو 18 اکتوبر تھی، نکل چکی ہے اور اب یہ 25 اکتوبر کو ریلیز کی جائے گی۔

پاکستانی فلم ایگزیبیٹرز ایسوسی ایشن کے سابق چیئرمین ندیم مانڈوی والا نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا سینسر بورڈ میں قانون کے مطابق پہلے مرحلے میں سکریننگ کے وقت موجود تمام اراکان کا فلم کی نمائش کے لیے متفق ہونا ضروری ہوتا ہے اور ایک شخص بھی فلم کی نمائش کو ویٹو کرسکتا ہے۔ تاہم اپیل کے مرحلے میں جسے فُل بورڈ ریویو کہا جاتا ہے صرف سادہ اکثریت سے فیصلہ ہوجاتا ہے۔ اکثر فلمیں دوسرے مرحلے میں سرٹیفکیٹ حاصل کر لیتی ہیں۔

پاکستان میں تین فلم سینسر بورڈز ہیں۔ سندھ اور پنجاب کے اپنے اپنے سینسر بورڈ ہیں جبکہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا مرکزی بورڈ کی ہدایات پر عمل کرتے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی فلم