ڈیزل کے بغیر پہلی اسمبلی!!!

ہمیں اپنے نوجوانوں کی سیاسی تربیت کرنے کی ضرورت ہے جو کہ اس طرح کی محاذ آرائی اور ناروا زبان کے استعمال سے مزید تشدد اور غیر رواداری کا رویہ اپنانے لگے ہیں۔

وزیر اعظم کی محفلوں میں شرکت کرنے والے بھی یہی تاثر  لے کر آتے ہیں کہ آپ جس قدر وزیر اعظم کے مخالفین کو ان کے سامنے برا بھلا کہیں گے،  آپ کو اسی قدر وزیر اعظم کے قریب کرسی ملے گی (اے ایف پی)

یہ ہیں ہمارے محترم، آکسفورڈ کے فارغ التحصیل، سپورٹسمین سپرٹ والے وزیر اعظم کے الفاظ کہ ’یہ پہلی اسمبلی ہے جو بغیر ڈیزل کے چل رہی ہے۔‘ یہ الفاظ نوجوانوں کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ادا کیے گئے۔ جواب میں نوجوانوں نے بھی جوش وخروش اور مست عالم میں ’ڈیزل، ڈیزل‘ کے نعرے لگانے شروع کر دیے۔

ان الفاظ سے وزیر اعظم ہمارے نوجوانوں کو کیا پیغام دے رہے تھے؟ جواب جاننے کے لیے ذہن پر زور دینے یا کسی قیاس آرائی کی ضرورت نہیں ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ ان کا مقصد اپنے مخالفین کی تضحیک کرنا اور ان کا تمسخر اڑانا تھا اور یہی پیغام اپنے نوجوان چاہنے والوں کے لیے تھا کہ تحریک انصاف کے کسی مخالف کو نہ بخشیں اور جتنی نازیبا اور ناشائستہ زبان استعمال کر سکتے ہیں، کریں۔ وزیر اعظم کی محفلوں میں شرکت کرنے والے بھی یہی تاثر  لے کر آتے ہیں کہ آپ جس قدر وزیر اعظم کے مخالفین کو ان کے سامنے برا بھلا کہیں گے،  آپ کو اسی قدر وزیر اعظم کے قریب کرسی ملے گی۔

ان مغلظ اور بے ہودہ القابات سے تحریک انصاف کیا حاصل کرنا چاہتی ہے؟ اس سے پہلے انہوں نے کرپشن کا مبالغہ آرائی پر مبنی ورد کر کے سیاسی قوتوں کو بدنام کیا اور اب رہی سہی کسر اس نئے حملے سے پوری کرنا چاہتے ہیں۔ مہذب معاشروں کی طرح پاکستان میں بھی سیاسی مسائل کو سیاسی طور سے حل کرنے کی ضرورت ہے نہ کے غیر شائستہ زبان کا استعمال کرکے۔

ہمیں اپنے نوجوانوں کی سیاسی تربیت کرنے کی ضرورت ہے جو کہ اس طرح کی محاذ آرائی اور ناروا زبان کے استعمال سے مزید تشدد اور غیر رواداری کا رویہ اپنانے لگے ہیں۔ یہ غیرسیاسی اور غیرمہذب سلسلہ نہ صرف جمہوری روایات کو ناقابل تلافی نقصان پہنچائے گا بلکہ مستقبل میں ہماری نوجوان نسل کی ترقی کے راستوں کو بھی مسدود کر دے گا۔

ہمارے ہاں سیاسی مخالفوں کو برا بھلا کہنا اور غیراخلاقی القابات سے نوازنے کا سلسلہ ذوالفقار علی بھٹو کی 1970 کی انتخابی مہم کے دوران عروج پر پہنچا جب انہوں نے اپنے سیاسی مخالفین کو ہتک آمیز ناموں سے پکارنا شروع کیا۔ خان عبدالقیوم خان کو ڈبل بیرل خان کہا گیا اور ممتاز دولتانہ کو چوہا قرار دیا گیا۔ اضغر خان کو الو خان پکارا گیا اور دوسرے مخالفین کو بھی اسی طرح کے مضحکہ خیز ناموں سے یاد کیا گیا۔ مولانا مودودی خاص طور پر بھٹو اور مولانا کوثر نیازی کے زیر نشانہ رہے اور انہیں ’سو یہودیوں‘ کے برابر گردانا گیا۔ مولانا کوثر نیازی نے تو کوئی کسر ہی نہ چھوڑی۔ انہوں نے اپنے اخبار کو پیپلز پارٹی کے سیاسی مخالفین کے خلاف غلیظ ذاتی پروپیگینڈے کے لیے استعمال کیا اور وہ اس طرح پاکستان میں زرد صحافت کے بانی کے طور پر ابھر کر سامنے آئے۔

ان نازیبا حرکات کے ساتھ ساتھ اقتدار میں آنے کے بعد سیاسی انتقام کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا جس نے مخالف جماعتوں کو متحد کرنے میں اہم کردار ادا کیا جو آخر کار پیپلز پارٹی کی حکومت کے خاتمے پر منتج ہوا۔ سیاسی ناشائستہ پن اور غیر رواداری بھٹو کو پھانسی کے تختے پر لے جانی کی ایک بڑی وجہ بنی۔ یہی نقصان دہ سلسلہ بعد کی سیاسی جماعتوں میں بھی پروان چڑھا۔ اس دوران سب سے معروف لقب ’مسٹر ٹین پرسنٹ‘ ٹھہرا جس نے بعد میں مسٹر ٹونٹی اور تھرٹی پرسنٹ وغیرہ میں بھی ترقی پائی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

موجودہ دور میں سیاسی قیادت کے علاوہ سیاسی پارٹیوں اور اداروں کی سوشل میڈیا ٹیمیں اس کار خیر میں اپنا حصہ بقدر توفیق و حیثیت ڈال رہی ہیں۔ سوشل میڈیا میں سیاسی مخالفین کے لیے ننگی گالیاں معمول کی بات ہوگئی ہے۔

بلاتفریق عمر و جنس، ان کی فوٹوشاپ کی گئی ایسی ایسی تصویریں دیکھنے کو ملتی ہیں کہ شیطان بھی پناہ مانگے۔ اب اس سلسلے میں مخالفین کی حب الوطنی پر شک کرنا اور مذہبی انتہا پسندی کو ہوا دینا ایک عام بات سمجھی جاتی ہے۔ اس منفی رویے نے نوجوانوں کو اس راہ پر لگا دیا ہے کہ آپ کے جی میں جو کچھ ہے بغیر کسی کا لحاظ کیے کہہ دیں چاہے وہ گالی ہی کیوں نہ ہو۔ صد افسوس کہ حکمران جماعت تحریک انصاف نے خاص طور پر اس مہم میں سب سے آگے ہونے کا امتیاز حاصل کیا ہے۔ ردعمل کے طور پر مخالف جماعتوں نے بھی شائستگی اور دید لحاظ ایک طرف رکھ کر وزیر اعظم اور حکومتی پارٹی کے چن چن کر برے نام رکھنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا۔

یہ طرزعمل سیاسی جماعتوں کے کارکنوں میں ایک جھوٹا اور بےبنیاد احساس برتری پیدا کرتا ہے اور معاشرے میں دور رس اثرات پیدا کرتا ہے۔ جرمنی اور اٹلی میں نازی اور فسطائی جماعتوں نے ایک ایسا ہی ماحول پیدا کیا تھا۔ وہ مخالف جماعتوں کے کارکنوں یا ان کے سیاسی خیالات کو حقیر سمجھنے لگے تھے۔ نتیجے میں جو تباہی ہوئی اس سے کوئی نابلد نہیں۔

ہمارے کچھ سیاسی گروہوں کے اس جھوٹے احساس برتری، عدم برداشت اور انتہا پسندی والے رویے کی وجہ سے عوام اپنے سیاسی و سماجی حق اختلاف سے محروم ہو رہے ہیں اور یہ ہماری آنکھوں کے سامنے ہو رہا ہے۔ اس رویے کو اگر ابھی سے نہ روکا گیا تو یہ ہمارے قومی اتحاد پر کاری ضرب لگا سکتا ہے۔ خدشہ ہے کہ سوچ کا یہ انداز سیاسی میدان سے نکل کر معاشرے کے دوسرے اہم ستونوں کو بھی کمزور کرنا شروع کر دے گا۔

ہمارے پاس بحثیت قوم وقت کی شدید کمی ہے اس لیے ضروری ہے کہ اس منفی معاشرتی رویے کو درست کرنے کو اولین فوقیت دی جائے۔ اس سلسلے میں ہماری سیاسی قیادتیں کلیدی کردار ادا کرسکتی ہیں۔ چونکہ ہر سیاسی جماعت کے بہت چاہنے والے اور سننے والے ہوتے ہیں، قیادت کے لیے ان کے رویے میں تبدیلی لانا مقابلتاً آسان ہوتا ہے۔ یہ پیروکار جس طرح آسانی سے سیاسی رہنما کے کہنے پر غلیظ زبان کا استعمال کر سکتے ہیں اسی طرح ان کے کہنے پر ایک مہذب رویہ اور برداشت پر مبنی سلوک بھی اختیار کر سکتے ہیں۔

ہمارے ہاں کافی منظم سیاسی جماعتیں بھی ہیں جن کے کارکن بھی جماعتی نظم و ضبط کی پابندی کرتے ہیں۔ ان جماعتوں میں جماعت اسلامی اور جمعیت علما اسلام سرفہرست ہیں۔ دوسری جماعتیں اپنے رہنماؤں کے شخصی سحر کے ذریعے اپنے پیروکاروں کو نظم و ضبط میں لاسکتی ہیں۔ لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ یہ جماعتیں ایک ضابطہ اخلاق طے کریں اور اپنے کارکنوں سے اس پر سختی سے عمل کروائیں۔ انڈونیشیا میں تقریباً ساری سیاسی جماعتیں اپنے کارکنوں کے لیے سالانہ تربیت کا انتظام کرتی ہیں جس میں انہیں سیاسی اخلاقیات اور جماعتی منشور کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کیا جاتا ہے۔ اس سیاسی عمل سے معاشرے میں نہ صرف مہذب انسان بلکہ باشعور سیاسی کارکن بھی پیدا ہوتے ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنے تعلیمی نصاب میں اصلاحات لانے کی ضرورت ہے۔ اخلاقیات اور فلسفہ کے مضامین کو مناسب تعلیمی درجوں پر متعارف کرایا جانا لازم ہے۔ ان مضامین سے طالب علموں میں رواداری اور خوش گفتاری کی صلاحیت پیدا ہوگی جو کہ کسی بھی جمہوری معاشرے کا ایک بنیادی جز ہے۔

مزید برآں، ملک میں قوانین کو بھی سختی سے اور انصاف کی بنیادوں پر روبہ عمل لانے کی ضرورت ہے۔ نفرت پھیلانے اور عدم برداشت کا پرچار کرنے والوں کے لیے، چاہے وہ خود سیاسی رہنما ہی کیوں نہ ہوں، مناسب تعزیری اقدامات ہونے چاہیں اور قانونی عمل تیز اور شفاف ہونا چاہیے۔ اس سلسلے میں میڈیا پر بھی اس قسم کے انتہا پسند رجحانات روکنے کے لیے سخت نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔

لیکن یہ تمام اقدامات صرف اس وقت کامیاب ہوں گے جب ان پر عمل درآمد میں کسی قسم کی جانبداری نہ ہو۔ معاشرے میں توازن لانے کے لیے ادارہ جاتی مفادات اور سیاسی چپقلش سے بالآتر رہ کر یہ اقدامات اشد ضروری ہیں۔ بصورت دیگر موجودہ بحران کے مزید شدت اختیار کرنے کا خطرہ ہمارے سروں پر منڈلاتا رہے گا۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ