نیوز اینکرز کو ہدایات جاری کرنے پر پیمرا کو نوٹس

پیمرا کی جانب سے ٹاک شوز میں پڑھے لکھے مہمانوں کو مدعو کیے جانے کی ہدایت پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے ریمارکس دیے کہ پیمرا کیسے کسی کے پڑھے لکھے یا اَن پڑھ ہونے کا تعین کر سکتی ہے؟

اسلام آباد ہائی کورٹ  نے  26 اکتوبر کو سماعت کے دوران صحافیوں محمد مالک، حامد میر، کاشف عباسی، عامر متین اور سمیع ابراہیم پر اعتراض کیا کہ انہوں نے دو مختلف ٹاک شوز میں مبینہ ڈیل کا تذکرہ کیا۔ 

اسلام آباد ہائی کورٹ نے ٹی وی اینکرز پر اپنے ٹاک شوز کے علاوہ دوسرے پروگراموں میں شرکت سے متعلق پابندی لگانے پر پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی ( پیمرا) کو نوٹس جاری کر دیا۔

ہفتہ (26 اکتوبر) کو سابق وزیراعظم نواز شریف کی درخواست ضمانت پر سماعت کے دوران اسلام آباد ہائی کورٹ نے پانچ ٹی وی اینکرز کو طلب کیا تھا، جہاں عدالت نے صحافیوں محمد مالک، حامد میر، کاشف عباسی، عامر متین اور سمیع ابراہیم پر اعتراض کیا کہ انہوں نے دو مختلف ٹاک شوز میں مبینہ ڈیل کا تذکرہ کیا۔

اس سلسلے میں چیف جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل بنچ نے ہفتے کو سمیع ابراہیم اور بول ٹی وی کے چیف ایگزیکٹو کو توہین عدالت کے نوٹس جاری کرتے ہوئے دیگر چار صحافیوں کو 29 اکتوبر کو جواب داخل کرنے کی ہدایت کی تھی۔

ہفتے کی سماعت کے بعد پیمرا نے ایک حکم نامے کے ذریعے ٹی وی اینکرز پر اپنے ٹاک شو کے علاوہ دوسرے پروگراموں میں شرکت پر پابندی لگا دی تھی اور مزید ہدایت دی کہ ٹاک شوز میں متعلقہ پڑھے لکھے مہمانوں کو مدعو کیا جائے۔

ہائی کورٹ نے پیمرا کے نئے حکم نامے کے باعث اتھارٹی کے چیئرمین کو بھی عدالت میں حاضر ہونے کا حکم دیا تھا۔

پیمرا کی طرف سے پابندی کے بعد کچھ اینکرز کی جانب سے اعلامیہ جاری کیا گیا جس میں کہا گیا تھا کہ ’اینکرز اور صحافیوں پر ایک دوسرے کے ٹاک شوز میں جانے پر پابندی من مانی، آمرانہ اور آئین میں شامل آزادی اظہار رائے کی صریحا خلاف ورزی ہے۔‘ اعلامیہ حامد میر، عاصمہ شیرازی، محمد مالک، کاشف عباسی، مہر عباسی، نسیم زہرا، اویس توحید، ارشد شریف، عامر متین، رؤف کلاسرا، مظہر عباس اور شاہ زیب خانزادہ کی جانب سے جاری کیا گیا تھا۔

اینکرز کے اعلامیہ کے بعد پیمرا نے تصحیح جاری کی تھی اور کہا تھا کہ صحافیوں کی ٹاک شوز میں جانے پر کوئی پابندی نہیں لگائی گئی۔

منگل کے روز چیف جسٹس اطہر من اللہ پر مشتمل بینچ نے مقدمے کی سماعت کی۔ عدالت میں چیئرمین پیمرا کے علاوہ مذکورہ پانچ صحافی بھی عدالت میں موجود تھے۔

سماعت کی ابتدا میں چیئرمین پیمرا سے استفسار کیا گیا کہ اینکرز پر پابندی سے متعلق حکم نامہ کس قانون کے تحت جاری کیا گیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس موقع پر چیئرمین پیمرا اور ان کے وکیل نے عدالت کے سامنے پیمرا ایکٹ کی کئی شقوں کا حوالہ دیا، تاہم چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ان کے دلائل کو مسترد کر دیا۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ اس حکم نامے سے ایسا تاثر ملتا ہے جیسے یہ عدالت کی ایما پر جاری کیا گیا ہو۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایگزیکٹو کام نہیں کرتی اور چاہتی ہے کہ عدالتیں ان کے پیدا کردہ مسائل کا حل نکالیں۔

جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ ملک میں بری گورننس کے باعث عدالتوں میں مقدمات کی تعداد بڑھ رہی ہی۔

ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ حکم صرف حکومت دے سکتی ہے اور پیمرا حکومت کی ہدایت کے بغیر کوئی حکم نامہ نہیں جاری کر سکتی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ہدایات جاری کرنے کی بجائے پیمرا کو قانون شکنی کی صورت میں ایکشن لینا چاہیے۔

عدالت کے استفسار پر چیئرمین پیمرا نے بتایا کہ اگست سے اب تک پیمرا 70 شو کاز نوٹس جاری کر چکی ہے۔

چیف جسٹس نے ایک موقع پر کہا کہ پیمرا کے قانون کا ابتدائیہ آئین کے آرٹیکل 19 کے تحت ہے اور پیمرا کا کام رائے کی آزادی کو مزید بہتر بنانا ہے، نہ کہ آرٹیکل 19 کے تحت دی گئی آزادیوں کو کم کرنا۔

ایک موقع پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’پیمرا کیسے کسی کے پڑھے لکھے یا اَن پڑھ ہونے کا تعین کر سکتی ہے؟ بعض اوقات مزدوری کرنے والا شخص زیادہ عقل مند ہو سکتا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ پیمرا اور دوسرے حکومتی اداروں کو عدلیہ کا نام استعمال نہیں کرنا چاہیے۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے مزید ریمارکس دیے کہ ’عدالت پیمرا کے قانون پر بحث کی اجازت دے گی تاکہ اس میں موجود کنفیوژن کی وضاحت ہو سکے اور تمام سٹیک ہولڈرز کی موجودگی میں پیمرا کے قانون پر بحث مباحثہ کیا جائے گا۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’ٹی وی ٹاک شوز کو عدالت میں سنا اور دیکھا جائے گا تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ ان میں توہین عدالت کا مواد موجود تھا۔

سماعت کے آخر میں عدالت نے پیمرا کو اظہارِ وجوہ کا نوٹس جاری کردیا۔

عدالت نے پانچ صحافیوں کے علاوہ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) اور پاکستان براڈ کاسٹنگ ایسوسی ایشن (پی بی اے) کو بھی مقدمے میں فریق بنانے کا فیصلہ کیا۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان