چار بھارتی قیدی پاکستان میں سزا پوری ہونے کے بعد رہائی کے منتظر

بھارتی ہائی کمیشن کے  وکیل کے مطابق دو قیدیوں کی سزا 2016 جبکہ باقی کی سزا 2017 میں مکمل ہوئی  تھی اور ان کی رہائی کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دے دی گئی ہے۔

چھ فروری 2019 کو  لی گئی اس تصویر میں کراچی کی ایک جیل میں گرفتار کیے گئے بھارتی ماہی گیر   موجود ہیں۔(اے ایف پی) 

ہر سال جنوری اور جولائی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان قیدیوں کی فہرست کا تبادلہ ہوتا ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستان کی تحویل میں کتنے بھارتی قیدی ہیں اور بھارت میں کتنے پاکستانی قید ہیں جن کی سزائیں مکمل ہو چکی ہیں۔ حال ہی میں بھارتی ہائی کمیشن کو دفتر خارجہ کے توسط سے چار بھارتی شہریوں تک قونصلر رسائی ملی جن کی سزا مکمل ہو چکی ہے لیکن ابھی تک رہائی نہیں ہوئی۔

انڈپینڈنٹ اردو نے بھارتی ہائی کمیشن کے وکیل شاہ نواز نون سے رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا کہ چاروں بھارتی شہریوں کو پاکستانی فوجی حکام نے گرفتار کیا تھا اور ملٹری کورٹ نے انہیں سزائیں سنائیں۔ دو قیدی ملیر جیل کراچی، ایک گوجرانوالہ جبکہ ایک سینٹرل جیل لاہور میں ہے۔

 شاہ نواز نون نے بتایا کہ دو قیدیوں کی سزا 2016 جبکہ باقی کے دو قیدیوں کی سزا 2017 میں مکمل ہوئی  تھی۔

 انہوں نے بتایا کہ بھارتی ہائی کمیشن کے مطابق جب 2018 اور 2019 میں قیدیوں کی فہرستوں کا تبادلہ کیا گیا تو ان چار قیدیوں کی سزاؤں کے مکمل ہونے کا علم ہوا اور بھارتی ہائی کمیشن نے پاکستانی دفتر خارجہ کے ذریعے ان قیدیوں تک قونصلر رسائی بھی حاصل کی۔

وکیل نے مزید بتایا کہ قونصلر رسائی کے موقع پر بھارتی ہائی کمیشن کی جب مذکورہ قیدیوں سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے معاملہ عدالت میں اُٹھانے کی استدعا کی۔ سزا یافتہ بھارتی قیدیوں میں جسپال کاکا، شمس الدین، محمد اسماعیل اور انیل چِمار شامل ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

شاہ نواز نون نے کہا کہ ملاقات کے بعد بھارتی ہائی کمیشن نے چاروں بھارتی شہریوں کی رہائی کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دے دی ہے اور عدالت سے استدعا کی کہ عدالت سزا مکمل کرنے والے چاروں قیدیوں کو رہا کرکے بھارت واپس بھجوانے کا حکم دے کیونکہ قید مکمل ہونے کے بعد کسی قانون کے تحت انہیں جیل میں نہیں رکھا جا سکتا۔

شاہ نواز نون نے بتایا: ’عدالت نے بھارتی ہائی کمیشن کی درخواست چار نومبر کو سماعت کے لیے مقرر کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔‘

دفتر خارجہ کے مطابق رواں برس جولائی میں بھارت کے حوالے کی گئی فہرست کے مطابق پاکستانی جیلوں میں 261 بھارتی قیدی ہیں۔ ان میں 52 سویلین اور 209 ماہی گیر شامل ہیں جبکہ بھارت کی جیلوں میں 355 پاکستانی قیدی ہیں جن میں 256 عام شہری جبکہ 99 ماہی گیر ہیں۔

 سفارتی ذرائع کے مطابق بھارت کی جیلوں میں بھی 88 ایسے پاکستانی قیدی ہیں جن کی سزا مکمل ہو چکی ہے لیکن ان کی ابھی تک پاکستان واپسی ممکن نہیں ہو سکی۔

پاکستان اور بھارت 2008 میں طے پانے والے معاہدے کے تحت ہر سال یکم جنوری اور یکم جولائی کو ایک دوسرے کے ساتھ قیدیوں کی تفصیلات کا تبادلہ کرتے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان