’ہم دہشت گرد نہیں، اساتذہ ہیں‘

پےگریڈ پروموشن نہ ہونے اور سرکاری طریقہ کار ’ٹائم سکیل‘ پر عمل نہ کرنے کے خلاف احتجاج کرنے والے سندھ کے سرکاری کالجوں کے اساتذہ پر پولیس کا لاٹھی چارج اور گرفتاریاں۔

دھرنے میں شریک اساتذہ نے  اپنے مطالبات کے حق میں پلے کارڈز اٹھا رکھے ہیں۔ (تصویر: امر گرڑو)

سندھ پولیس نے بدھ کی شام کراچی میں وزیراعلیٰ ہاؤس کے سامنے احتجاج کرنے والے کالج اساتذہ پر ریڈ زون میں دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرنے پر لاٹھی چارج کرتے ہوئے خواتین سمیت متعدد اساتذہ کو گرفتار کرلیا۔

سندھ کے سرکاری کالجوں کے اساتذہ کی تنظیم سندھ پروفیسرز لیکچررز ایسوسی ایشن (سپلا) نے آج اساتذہ کی پےگریڈ پروموشن نہ ہونے اور پروموشن کے لیے بنائے گئے سرکاری طریقہ کار ’ٹائم سکیل‘ پرعمل نہ ہونے کے خلاف کراچی پریس کلب پر احتجاج کرنے کے بعد وزیراعلیٰ ہاؤس کی جانب ریلی نکالی اور بعد میں ریڈ زون میں دھرنا دیا۔

ریلی میں ایک ہزار سے زائد اساتذہ موجود تھے، جن میں خواتین اساتذہ کی بھی بہت بڑی تعداد شامل تھی۔

سندھ پولیس کی بھاری نفری کے دستوں نے وزیراعلیٰ ہاؤس جانے والے راستے کو رکاوٹیں لگا کر بلاک کردیا۔ بعدازاں پولیس افسران نے مظاہرین سے دھرنا ختم کرنے کو کہا مگر اساتذہ نے اپنے مطالبات پورے نہ ہونے تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا، جس کے بعد پولیس نے لاٹھی چارج کرکے ایک سو سے زائد اساتذہ بشمول خواتین کو گرفتار کرلیا۔

کراچی کے ریڈ زون میں وزیر اعلیٰ ہاؤس، گورنر ہاؤس، سندھ اسمبلی، کراچی پریس کلب اور شہر کے فائیو سٹار ہوٹل شامل ہیں۔ محکمہ داخلہ نے ریڈ زون میں مستقل طور پر دفعہ 144 نافذ کر رکھی ہے، جس کے تحت وہاں لوگوں کا جمع ہونا اور احتجاجی مظاہرے کرنا ممنوع ہے۔

سپلا کے رہنما ہوت خان جمالی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ پولیس نے ایک سو سے زائد مرد اور 20 خواتین اساتذہ کو گرفتار کیا جب کہ لاٹھی چارج کے باعث کئی اساتذہ شدید زخمی ہوئے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کا کہنا تھا سندھ میں کُل 300 سرکاری کالج ہیں، جن میں سے 140 کراچی میں اور 160 دیگر اضلاع میں ہیں۔ ان کالجوں میں لیکچرر اور پروفیسر کی 11 ہزار اسامیاں ہیں، جن پر اس وقت آٹھ ہزار چار سو اساتذہ مقرر ہیں، جنہیں کئی سالوں سے پے سکیل میں پرموشن نہیں دی جا رہی۔

ہوت خان کے مطابق: ’سرکاری طور پر پے سکیل پروموشن کے طریقہ کار کو ٹائم سکیل کہا جاتا ہے، جس کے تحت کوئی بھی استاد کالج میں 17 گریڈ میں لیکچرر مقرر ہونے کے بعد سات سال میں ترقی کرکے 18 گریڈ کے اسسٹنٹ پروفیسر بن جاتا ہے۔

پھر سات سال بعد وہ ترقی کرکے ایسوسی ایٹ پروفیسر اور اگلے سات سال کے بعد 20 گریڈ کا پروفیسر بن جاتا ہے، مگر سندھ میں سرکاری ٹائم سکیل پر عملدرآمد نہ ہونے کے باعث سرکاری کالجوں کے لیکچرر کئی سال گزرنے کے باجود اسی گریڈ میں کام کر رہے ہیں۔‘

(تصویر: امر گرڑو)


سپلا کے صدر انور منصور منگریو نے بتایا: ’سندھ حکومت نے 2010 میں سپلا سے ایک معاہدہ کیا تھا کہ انہیں ٹائم سکیل کے تحت پروموشنز دی جائیں گی مگر نو سال گزرنے کے باجود اس اعلان پر عمل نہ ہونے کے باعث ان کی تنظیم نے احتجاج کیا۔‘

’اس سال سندھ کے 70 کالج لیکچرر 30 سال سروس کے بعد 17 گریڈ میں ہی ریٹائر ہوگئے، یہ ایک ظلم ہے۔ ہم بانڈڈ لیبر نہیں، اساتذہ ہیں۔ بلوچستان جیسے صوبے میں بھی ٹائم سکیل کے تحت اساتذہ کو پے گریڈ وقت پر دیا جاتا ہے مگر سندھ میں ایسا کیوں نہیں؟ ابھی حال ہی میں سندھ حکومت نے پرائمری اور سیکنڈری کے دو لاکھ اساتذہ کو ٹائم سکیل کے تحت پے گریڈ میں پرموشن دی جبکہ ہم لیکچرر اور پروفیسر صرف آٹھ ہزار چار سو ہیں مگر ہمیں پروموشن نہیں دی جاتی۔ ہم نے جب احتجاج کیا تو ہم پر لاٹھیاں برسائی گئیں۔ ہم دہشت گرد نہیں اساتذہ ہیں۔‘

ریلی میں شریک ایک استاد سلمیٰ جونیجو نے بتایا کہ وہ 17 گریڈ کی لیکچرر ہیں اور ایک استاد جنہوں نے انہیں کالج میں پڑھایا تھا وہ بھی ابھی تک 17 گریڈ میں ہیں۔

پولیس کی لاٹھی چارج اور گرفتاریوں کے بعد یہ اساتذہ کراچی پریس کلب پہنچے اور دھرنا دے کر بیٹھ گئے۔ انہوں نے اعلان کیا ہے کہ جب تک گرفتار اساتذہ کو رہا نہیں کیا جائے گیا اور ٹائم سکیل کے تحت انہیں پے گریڈ میں پروموشن کے آرڈر تحریری طور پر نہیں دیے جائیں گے وہ احتجاج جاری رکھیں گے۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ ہاؤس سے جاری ایک اعلامیے کے مطابق سندھ حکومت کالج اساتذہ کی ناقص کارکردگی اور سرکاری کالجوں کے خراب امتحانی نتائج کے باوجود کالج اساتذہ کو باقاعدگی کے ساتھ ترقیاں دے رہی ہے۔

لاٹھی چارج اور اساتذہ کی گرفتاریوں کے حوالے سے اعلامیے میں کہا گیا کہ آج شہر میں نکالے جانے والے چپ تعزیہ جلوس کے باعث دفعہ 144 نافذ تھی، لیکن اس کے باوجود اساتذہ کے ایک گروپ نےاحتجاجی ریلی نکالی اور ضلع جنوبی میں اہم سڑکوں کو بلاک کرتے ہوئے شہر کے ریڈ زون میں پابندیوں کی خلاف ورزی کی۔

اعلامیہ میں مزید کہا گیا کہ اساتذہ کا گروپ ٹائم سکیل کے ذریعے ترقیوں کا مطالبہ کررہا ہے۔ ’ان کا مقدمہ پہلے ہی 2017 سے سندھ ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے، جہاں سندھ حکومت کو فریق بنایا گیا ہے۔‘

’کیس کی گذشتہ سماعت یکم نومبر 2019 کو ہوئی جس میں سندھ ہائی کورٹ نے 15 نومبر 2019 کو سماعت کی تاریخ مقرر کی اور محکمہ کالج ایجوکیشن سے کہا کہ وہ کالج اساتذہ کو2017 سے دیے جانے والی پروموشنز کی تفصیلات پیش کریں۔‘

سرکاری اعلامیے کے مطابق یکم نومبر 2019 کو سیکریٹری کالج ایجوکیشن نے 410 کالج اساتذہ کو گریڈ 17 سے گریڈ 18 میں ترقی دی۔ قبل ازیں2018 میں 600 کالج اساتذہ کو گریڈ 18 میں ترقی دی گئی تھی جبکہ گذشتہ تین سالوں میں 400 کالج اساتذہ کو گریڈ 18 سے گریڈ 19 میں ترقی دی گئی۔

’اسی طرح 59 کالج اساتذہ کو گریڈ 19 سے گریڈ 20 میں دو سالوں میں ترقی دی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ 150 کالج اساتذہ کےگریڈ 19 کی ترقیوں کے لیے کیس تیار ہیں اور 65 کالج اساتذہ کے گریڈ 20 میں ترقی دینے کے حوالے سے کاغذات تیاری کے مراحل میں ہیں جوآئندہ چند ہفتوں تک ہوں گے۔‘

اعلامیے میں مزید کہا گیا ’تعلیم کے وسیع تر مفاد میں وزیراعلیٰ سندھ پہلے ہی سیکریٹری کالج ایجوکیشن کے تحت ایک کمیٹی تشکیل دے چکے ہیں جو سندھ کے تمام سرکاری کالجز میں سینیئر کالج اساتذہ کی سیٹوں کی تعداد میں اضافے کے لیے غور کررہی ہے۔‘

کمیٹی نے29 اور 31 اکتوبر 2019 کو کالج اساتذہ کے نمائندوں کے ساتھ اجلاس بھی منعقد کیے۔

اعلامیے میں الزام لگایا گیا کہ احتجاج کرنے والے اساتذہ کا یہ گروپ کالجز میں ٹیچنگ اور پڑھائی کے عمل کو متاثر کررہا ہے اور وہ بھی اُس وقت جبکہ تعلیمی سرگرمیاں عروج پر ہیں۔

’اس موقعے پر جب تعلیم یا امتحانات سر پر ہوں تو احتجاج سے ظاہر ہوتا ہے کہ اساتذہ کے درمیان موجود چند عناصر تعلیم دوست نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان