کشمیر سے کرتارپور تک کے خواب

یہ خواب ہی تو ہے کہ سکھوں کو سات دہائیوں کے منقسم پنجاب میں اب آنے جانے پر کوئی پابندی نہیں۔ یہ خواب ہی تو ہے جب برلن کی دیوار مسمار کر دی گئی اور یہ خواب ہی تو ہے جب انگریزی سامراج نے ہندوستان اور پاکستان کو آزاد کر دیا تھا۔

اگر کرتارپور کا خواب حقیقت ہوسکتا ہے تو کشمیر کا کیوں نہیں؟ (اے ایف پی)

بھارت اور پاکستان کے بیچ کشیدہ حالات کے باوجود کرتارپور راہداری کھولنے پر جہاں دنیا بھر کے سکھ مسرت و شادمانی کا اظہار کر رہے ہیں وہیں کئی عالمی ایوانوں میں یہ امید بھی جتائی جا رہی ہے کہ دونوں ملکوں کے مابین باعث کشیدگی ’مسئلہ کشمیر‘ کو حل کرنے کا ایک سنہری موقع بھی حاصل کیا جاسکتا ہے۔

ایسا بھی معجزہ ہو سکتا ہے کہ مودی لاہور میں یا عمران دلی میں آ کر باضابطہ اعلان کریں گے کہ کشمیری عوام کے ساتھ اب تک جو زیادتیاں ہوئی ہیں ان کی تلافیوں کا وقت آ گیا ہے اور انسانیت کا تقاضا ہے کہ انہیں بھی آزادی سے زندہ رہنے کا حق دیا جائے۔

ظاہر ہے کہ اس معجزاتی اعلان سے نہ صرف لاکھوں افراد کی زندگیاں بچائی جا سکتی ہیں بلکہ اپنے کروڑوں عوام کو احساس عدم تحفظ، غیریقینی صورت حال اور افلاس کی دلدل سے  نکالا جا سکتا ہے۔ دفاعی بجٹ کی موٹی رقوم اپنے عوام کے بہبود، صحت اور تعلیم کے لیے مختص کی جا سکتی ہیں جو اب بھی دو وقت کی روٹی کو ترستے ہیں، بنیادی علاج سے محروم ہیں اور جوہری جنگ کے خطرات سے لرز رہے ہیں۔

امرتسر سے ننکانہ صاحب جانے والے سکھوں کے قافلوں کو دیکھ کر شاید یہ خواب دیکھا جا سکتا ہے کہ جب دونوں رہنما بغل گیر ہو کر دونوں کشمیر کے تقریباً دو کروڑ عوام کے ہاتھ میں انہیں ان کا پرچم دے کر بہ بانگ دہل یہ کہہ دیں گے کہ ’جا ہم نے تمہیں آزاد کیا ہے۔‘

یہ خواب ہی تو ہے کہ سکھوں کو سات دہائیوں کے منقسم پنجاب میں اب آنے جانے پر کوئی پابندی نہیں۔ یہ خواب ہی تو ہے جب برلن کی دیوار مسمار کر دی گئی اور یہ خواب ہی تو ہے جب انگریزی سامراج نے ہندوستان اور پاکستان کو آزاد کر دیا تھا۔

ہوسکتا ہے کہ گورونانک دیو جی کی پانچ سو پچاسویں برسی پر کوئی معجزہ ہوگا ورنہ یہ کیسے ممکن ہوا کہ ہندوستان کے لاکھوں سکھ بغیر ویزا کے پاکستان میں داخل ہو کر ننکانہ صاحب میں گرنتھ صاحب پڑھ رہے ہیں اور قریب میں مساجد سے اذانیں بھی بلند ہو رہی ہیں۔

کیا یہ وہی پاکستان ہے جہاں 2007 میں، میں نے ننکانہ صاحب میں حاضری دے کر محض پانچ یا چھ سکھوں کا ایک خاندان دیکھا تھا جو تنہائی، اپنے رشتوں سے دور اور خوف کے عالم میں جی رہا تھا۔

یہ وہی پاکستان ہے جب میں نے ایک پتھر پر گرو نانک جی کے ہاتھوں کے نقش پر اپنا ہاتھ رکھ کر سکون کے چند لمحے حاصل کے تھے اور دعا کی تھی کہ دونوں ملکوں کے لیڈروں کو فہم و فراست عطا ہو۔ اس روز مجھ پر عجیب سی کیفیت طاری ہوئی تھی اور خود سے پوچھ رہی تھی کہ سکھوں کے اس مقدس مقام پر شردھالو کیوں نہیں؟

میں نے اس گردوارے کے گرنتھی سے لمبی بات کر کے ان کی بےبسی کو محسوس کیا تھا۔ وہ مطمئن نظر آ رہے تھے مگر آنکھیں تنہائی کا احساس دلا رہی تھیں۔ گردوارے کے اندر باہر چند سکھ اور مسلمان بچے سیاسی شعبدہ بازی سے دور کھیل میں مصروف تھے،گرنتھی کی اہلیہ نے توے پر تازی روٹی بنا کر اور پرشاد کھلا کر میری بھوک مٹا دی تھی۔

میں نے گرنتھی سے پاکستان میں سکھ یاتریوں کی تعداد کے بارے میں پوچھا تھا تو وہ لمبی آہ لے کر بولے تھے ’پاکستان میں تو بہت کم سکھ رہتے ہیں، افغانستان سے چند سکھ درشن کے لئے آتے ہیں، اس گردوارے کی شان، رفتہ تب بحال ہوتی جب بھارت کے سکھوں کو یہاں ماتھا ٹیکنے کی اجازت دی جاتی، وہ دن کبھی آ جائے، شاید واحی گرو کوئی معجزہ دکھائے۔‘

شاید وہ لمحہ ایسا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے گرنتھی کی بات سن کر اسی وقت نئی صبح کی تاریخ رقم کی تھی۔

عمران خان کی ہمت کی داد بھی دینی پڑے گی کہ انہوں نے ایسے وقت یہ اتنا بڑا چیلنج قبول کیسے کیا جب ان کے ملک کے چاروں طرف عدم تحفظات کے سائے منڈلا رہے ہیں، دشمنوں کی للچائی ہوئی نظریں تاک رہیں ہیں اور اندر باہر بیشتر عناصر ملک کی سالمیت کو زک پہنچانے میں حسب عادت مصروف ہیں۔ ہزاروں سکھوں کو بغیر ویزا اور روک ٹوک کے پاکستان میں داخلے کا یہ فیصلہ صرف دل گردے والا یا باایمان شخص ہی کرسکتا ہے۔

جس شخص نے سکھوں کے جذبات کی ترجمانی کر کے انہیں زندگی کی ایک عظیم نعمت سے نوازا ہے وہ کشمیریوں کے لیے بھی ایک نئی صبح کی امید دلا سکتے ہیں اور جس کی شروعات کرتارپور کی راہداری نے کی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ارتقاء کا اپنا ایک عمل ہوتا ہے اس عمل کے دوران بہت کچھ بدلتا ہے تاریخ نئے موڑ اختیار کرتی ہے اور جغرافیہ نئے زاویئے بناتی ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ مستقبل قریب میں برصغیر کا ایک نیا نقشہ ہوگا یا پھر مذاہب کی ہم آہنگی کی ایک نئی داستان رقم ہوئی ہوگی۔

ممکن ہے کہ واہگا کے سامنے امن کی آشا کی ایک یادگار ہوگی جس کے میناروں پر مودی اور عمران کی تصویریں آویزاں ہوں گی، نوبیل انعام کے کتبوں کے سامنے لوگوں کی لمبی قطاریں ہوں گی، دنیائے سیاست کے نئے رہنما یادگاری حروف لکھ کر یہاں کے عوام سے کہہ رہے ہوں گے کہ برصغیر کی اس خوش حالی کے ضامن اور امن کے علم بردار صرف مودی اور عمران ہی تو تھےجنہوں نے کشمیر جیسے پیچیدہ مسئلے کو سلجھا کر نہ صرف کشمیر کو آزادی دی تھی بلکہ ہندوستان اور پاکستان کو صیح معنوں میں غربت، جہالت، ہتھیار، دہشت گردی اور دشمنی سے آزاد کر دیا تھا۔ اس خطے کی معاشی ترقی اور سائنسی ایجادات کا سبب بھی ہتھیاروں سے پاک علاقہ قرار دینا تھا۔

اس بات کا اعتراف کرنا بھی میں ضروری سمجھتی ہوں کہ سکھ قوم میں انکساری، انسان دوستی، قومیت اور کار سیوا کی جو عظیم روایات پائی جاتی ہیں ان کی وجہ سے وہ دنیا کے مختلف ملکوں میں اپنا اعلی مقام بنا چکے ہیں۔ یہ لوگ عہدوپیماں کے پکے اور بات رکھنے کے قائل ہیں۔ انہوں نے کشمیریوں کے درد کو بخوبی سمجھ لیا ہے۔ بھارت کے مختلف علاقوں میں ہندتوا کی وجہ سے جہاں کہیں بھی کسی بھی کشمیری کو مدد درکار ہوتی ہے تو وہ پہلے سکھ بھائیوں سے رابطہ کرتے ہیں جس کے لیے کشمیری ان کے مرہون منت ہیں۔ ان کی اس خوشی میں کشمیری قوم آج دل و جان سے شامل ہے۔

دنیا کو یقین ہوگیا ہے کہ کرتارپور کی راہداری نے کئی اور راہداریوں کی بنیاد ڈالی ہے جو ننکانہ صاحب سے گزر کر پٹھان کوٹ سے ہوتے ہوئے کشمیر اور وسط ایشیا تک پہنچ جائےگی - اور یہ خطہ واپس وہ شکل اختیار کرے گا جس کی پیش گوئی حضرت نعمت اللہ شاہ ولی نے کئی صدیاں پہلے کر رکھی ہے۔

خواب ضرور دیکھیں ہر خواب حقیقت کا ضامن ہوتا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ