امریکی صدر کے خلاف مواخذے کی کارروائی براہ راست دیکھی جا سکے گی

ہاؤس کی انٹیلی جنس کمیٹی کی سماعت مواخذے کی تفتیش کا دوسرا حصہ ہے جو ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے 2020 کے امریکی صدارتی انتخابات میں یوکرائن سے مدد طلب کرنے اور اپنے اختیارات کے ناجائز استعمال کی تفتیش پر مبنی ہوگا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ابھی کافی مراحل باقی ہیں لیکن جنوری کے اختتام تک یہ معاملہ اپنے اختتام کو پہنچ سکتا ہے (اے ایف پی)

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف بدھ کو شروع ہونے والی عوامی سماعت وہ پہلا موقع ہوگا جب امریکی عوام ڈیموکریٹ اور ری پبلکنز جماعتوں کے نمائندوں کے درمیان کسی امریکی صدر کے مستقبل کے حوالے سے ہونے والی بحث کو ٹی وی پر لائیو دیکھ سکیں گے۔

ہاؤس کی انٹیلی جنس کمیٹی کی سماعت مواخذے کی تفتیش کا دوسرا حصہ ہے جو ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے 2020 کے امریکی صدارتی انتخابات میں یوکرائن سے مدد طلب کرنے اور اپنے اختیارات کے ناجائز استعمال کی تفتیش پر مبنی ہوگا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ امریکی تاریخ میں وہ تیسرے صدر ہو سکتے ہیں جن کو مواخذے کے عمل سے گزرنا پڑا۔ اب ان پر باقاعدہ الزام عائد کر دیا گیا ہے کہ انہوں نے عہدہ صدارت کے فرائض کی خلاف ورزی یا جرم کا ارتکاب کیا اور اب سینیٹ میں ان کے خلاف مقدمہ چلے گا۔

امریکی ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹ پارٹی کا غلبہ 2019 کے اختتام تک جاری رہتا دکھائی دے رہا ہے لیکن سینیٹ میں ری پبلکنز کی اکثریت ہے اور وہ صدر کو عہدے سے ہٹانے یا ان پر فرد جرم عائد کرنے کی راہ میں رکاوٹ ہوں گے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ابھی کافی مراحل باقی ہیں لیکن جنوری کے اختتام تک یہ معاملہ اپنے اختتام کو پہنچ سکتا ہے۔

بدھ کو ہاؤس کی انٹیلی جنس کمیٹی چھ ہفتے بند کمرے میں تفتیش کرنے کے بعد اب پہلی بار اس معاملے کی عوامی سماعت کرنے جا رہی ہے۔ اس سماعت میں وائٹ ہاؤس کے تعلق رکھنے والے گواہ، وزارت خارجہ اور دیگر حکام شامل ہوں گے۔

گواہ پہلے ہی صدر ٹرمپ اور ان کے قریبی ساتھیوں بشمول ان کے وکیل روڈی جولیانی کی جانب سے یوکرائن کے صدر ولودیمیر زیلنسکی پر 2020 کے صدارتی انتخابات میں صدر ٹرمپ کے ممکنہ حریف جو بائڈن کے خلاف سیاسی نقصان کا باعث بننے والا مواد ڈھونڈنے کا دباؤ ڈال چکے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کئی گواہان جو پہلے بند کمرے کی سماعت میں پیش ہو چکے ہیں اب وہ عوامی پینل کے سامنے پیش ہوں گے۔ ان گواہوں میں یوکرائن میں سابق امریکی سفارت کار ولیم ٹیلر اور ڈپٹی اسسٹنٹ وزیر خارجہ جارج کینٹ بدھ کو پیش ہوں گے جبکہ یوکرائن میں امریکی سفیر کے عہدے پر رہنے والی میری یوانوچ جمعہ کو پیش ہوں گی۔

اس سماعت کا مقصد صدر کے خلاف مزید ثبوت اکٹھے کرنا ہے جبکہ ری پبلکنز اس موقعے پر ان کے حق میں ثبوت تلاش کریں گے۔

بند کمرے میں ابتدائی سماعت کے لیے منتخب کیے جانے والے تمام گواہ ڈیموکریٹس نے چنے تھے۔

عوامی سماعت کے دوران دونوں جماعتیں گواہوں کو سمن کر سکتی ہیں لیکن انٹیلی جنس کمیٹی کے چئیرمین ایڈم شف ری پبلکنز کو ایسے گواہوں کو طلب کرنے سے روک سکتے ہیں جن کا ان الزامات سے کوئی تعلق نہ ہو یا جو سماعت کی راہ میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔

اگلا مرحلہ عدالتی کمیٹی میں سماعت کا ہے جو چیئرمین جیری ناڈلر کی سربراہی میں ہوگی جو کہ ٹرمپ کے سخت مخالف ہیں۔ اس سماعت میں جیری ناڈلر فیصلہ کریں گے کہ صدر کے خلاف باضابطہ قانونی کارروائی اور مواخذے کے لیے ثبوت کافی ہیں یا نہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے وکلا بھی اس سماعت کے دوران گواہوں پر جرح کرنے کے علاوہ اپنے حق میں ثبوت پیش کر سکیں گے۔

سماعت کے اختتام پر ڈیموکریٹ اکثریتی کمیٹی اس حوالےسے امریکی آئین میں موجود ’غداری، رشوت ستانی، سنگین جرائم یا نا مناسب اقدامات‘ کے حوالے سے شقوں کا تعین کرے گی۔ اس کے علاوہ اس بات کا جائزہ بھی لیا جائے گا کہ کیا صدر کے اقدامات اپنے اختیارات کے ناجائز استعمال کے زمرے میں آتے ہیں یا نہیں۔

فی الحال یہ الزامات صدارتی اختیارات کا ناجائز استعمال اور تحقیقات میں رکاوٹ ڈالنے پر مبنی ہو سکتے ہیں۔

اس کے بعد عدالتی کمیٹی مواخذے کی شقوں کو پورے ایوان کے ووٹ کے لیے ارسال کر دیتی ہے۔ مواخذے کی منظوری کے لیے صرف 435 ووٹوں کی بنیادی اکثریت ضروری ہے۔

اس وقت ڈیموکریٹ ارکان کے پاس 233 ارکان کی واضح اکثریت ہے جبکہ ری پبلکن پارٹی کے ارکان کی تعداد 197 ہے۔ اس وقت ایوان کی چار نشستیں خالی ہیں جبکہ ایک پر آزاد رکن ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ شواہد مضبوط ہونے کی صورت میں ڈیموکریٹس مواخذے کی قرارداد آسانی سے منظور کر لیں گے۔

بعد میں مواخذے کی قرارداد سینیٹ کو ارسال کر دی جائے گی جہاں ایک سو سینیٹرز کی جیوری میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف کارروائی ہوگی۔ ایوان کے ڈیموکریٹ ارکان استغاثہ کی ٹیم کے فرائض انجام دیں گے جبکہ ٹرمپ کے وکلا ان کا دفاع کریں گے جبکہ ٹرمپ خود بھی اپنے حق میں دلائل دے سکتے ہیں۔ دونوں فریق گواہوں کو طلب کرنے سمیت شہادتیں پیش کر سکتے ہیں۔

صدر ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی کارروائی کی سماعت ممکنہ طور پر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جان رابرٹس کی سربراہی میں ہوگی جنہیں ری پبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے 2005 میں چیف جسٹس مقرر کیا تھا۔

ٹرائل کورٹ میں چند ہفتے لگیں گے۔ 1999 میں سابق صدر بل کلنٹن کے خلاف مواخذے کی کارروائی پانچ ہفتے جاری رہی تھی اور بالآخر اس کا نتیجہ ان کی بریت کی صورت میں نکلا تھا۔ سینیٹ میں ری پبلکن پارٹی کے ارکان کی اکثریت تھی لیکن سزا کے لیے دو تہائی کی مطلوبہ اکثریت کو شکست دینے کے لیے بل کلنٹن کو ڈیموکریٹس کی بھرپور حمایت حاصل تھی۔

زیادہ پڑھی جانے والی امریکہ