پوتن کا بڑھتا ہوا بین الاقوامی اثر ورسوخ

امریکہ کے یورپی اتحادی پریشان ہیں کہ اس غیرسنجیدہ صدر کے ساتھ تعلقات کو کیسے آگے بڑھایا جائے۔ ان کے لیے ایک بڑا مسئلہ روس کے بڑھتے ہوئے اثر ورسوخ کو روکنا ہے۔

آٹھ برسوں میں پہلی مرتبہ پوتن  نے ستمبر میں تہران کا بھی نتیجہ خیز دورہ کیا۔(اے ایف پی)

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ظہور پذیر ہونے سے پہلے بین الاقوامی معاملات میں امریکی صدر کی ایک مرکزی اور فیصلہ کن حیثیت ہوتی تھی۔ عالمی امن کو لاحق خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے یورپی اور دیگر طاقتیں امریکہ کی طرف دیکھتی تھیں، لیکن صدر ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے یہ سب کچھ بدل چکا ہے۔

امریکہ ایک مکمل غیر جانبدار منصف کا کردار تو نہیں ادا کرتا تھا لیکن مسائل کو سنجیدگی اور بردباری سے سن کر انہیں حل کرنے کی حتیٰ المقدور کوششیں ضرور ہوتی تھیں۔ اب امریکی خارجہ پالیسی ایک غیر سنجیدہ اور مزاحیہ خاکے کی صورت دکھائی دیتی ہے جس میں صدر ٹرمپ خارجہ پالیسی کو بھی اپنے ذاتی اور سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے استعمال کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔  

امریکہ کے یورپی اتحادی پریشان ہیں کہ اس غیرسنجیدہ صدر کے ساتھ تعلقات کو کیسے آگے بڑھایا جائے۔ ان کے لیے ایک بڑا مسئلہ روس کے بڑھتے ہوئے اثر ورسوخ کو روکنا ہے۔ دوسرا سنجیدہ مسئلہ امریکی یورپی دفاعی اتحاد نیٹو کو مزید مضبوط کرنا ہے خصوصاً جبکہ ٹرمپ اس کی مالی امداد میں نمایاں کمی کرنے کا عندیہ دے چکے ہیں۔

یورپی اتحادیوں کو ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ ٹرمپ کی زیرِ صدارت امریکہ پچھلی صدیوں کی تنہائی پسندی کی پالیسی کی طرف واپس جا رہا ہے جس کی وجہ سے انہیں نئے دفاعی اتحادیوں کے بارے میں سوچنے کی ضرورت ہے۔ فرانس کے صدر ایمانوئل میکروں نے اسی وجہ کی بنا پر نیٹو کے مستقبل کے بارے میں حال ہی میں فکر اندیش سوالات اٹھائے ہیں۔ ان کے خیال میں نیٹو ’ذہنی خاتمے‘ کی طرف بڑھتا جا رہا ہے اور یورپ اب امریکہ پر اپنی سلامتی کے لیے انحصار نہیں کر سکتا۔

اس پریشانی کے عالم میں یورپی رہنماؤں کی نظریں امریکہ کے 2020 کے صدارتی انتخابات پر لگی ہوئی ہیں۔ اگر ٹرمپ دوبارہ جیتنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو یقیناً یورپ کے ساتھ کیے گئے دفاعی معاہدوں پر شدید منفی اثرات مرتب ہوں گے اور شاید نئے دفاعی معاہدے وجود میں آئیں جو کہ بین الاقوامی امن کو مزید خطرات سے دوچار کر سکتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ٹرمپ کے دوبارہ جیتنے کی صورت میں روسی صدر ولادیمیر پوتن کے یورپ اور باقی دنیا میں سیاسی اور دفاعی اثر و رسوخ میں زبردست اضافہ ہونے کا امکان ہے۔

صدر ٹرمپ کی بےجان اور کھوکھلی خارجہ پالیسی کی وجہ سے ماسکو نے پہلے ہی اپنے خطے میں سیاسی اثر و نفوذ بڑھانا شروع کر دیا ہے۔ 2014 میں کرائمیا پر قبضہ، مشرقی یوکرین میں فوجی مداخلت اور یورپی پابندیوں کے بوجھ تلے دبا ہوا روس دنیا میں تنہا اور ناپسندیدہ ملک لگ رہا تھا۔ تمام یورپی رہنما بیک آواز صدر پوتن پر شدید تنقید کر رہے تھے، اس یقین کے ساتھ کہ اس شدید دباؤ کی وجہ سے وہ اپنے بین الاقوامی رویے میں تبدیلی لائیں گے۔ صدر اوباما نے بھی اس وقت روس کو، جو ایک وقت میں بڑی عالمی طاقت تھا، یہ کہہ کر مسترد کر دیا کہ روس اب صرف ایک علاقائی طاقت بن کے رہ گیا ہے۔

لیکن ٹرمپ کے صدر بننے کے بعد حالات میں نمایاں تبدیلی پیدا ہوئی ہے۔ ٹرمپ صدارتی انتخابات میں روسی مداخلت پر دل ہی دل میں شکر گزار بھی ہوں گے۔ وہ شاید 2020 کے انتخابات میں بھی اسی قسم کی مدد کی توقع کر بیٹھے ہیں اور اسی وجہ سے روس اور پوتن کے بارے میں ہمدردانہ رویہ رکھتے ہیں۔ پوتن نے ان موافق حالات، صدر ٹرمپ کی بین الاقوامی تعلقات میں غیردلچسپی اور عالمی امن کے بارے میں غیرسنجیدہ رویے سے خوب فائدہ اٹھایا ہے اور اس وقت جارحانہ طریقے سے روس کا عالمی اثر و نفوذ بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس میں واضح کامیابیاں بھی ان کے حصے میں آ رہی ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پوتن نے کامیابی سے امریکی انتخابات میں مداخلت کی۔ وہ افریقہ اور لاطینی امریکہ میں روس کا سیاسی اور دفاعی کردار بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں جو کہ حال ہی میں سوچی شہر میں منعقدہ روس-افریقہ فورم سے ظاہر ہے۔ وہ یورپ میں موجود اختلافات سے فائدہ حاصل کرنے کی بھی کوشش کر رہے ہیں۔ 

مشرق وسطیٰ میں تو روسی اثر و رسوخ میں سب سے بڑی تبدیلی آ رہی ہے۔ چار سال پہلے ماسکو نے شام میں فوجی آپریشن کا آغاز کیا تھا۔ اس جارحانہ پالیسی کے نتیجے میں روس نے امریکہ کو مشرقِ وسطیٰ میں کلیدی کردار سے ہٹا کر خود ایک بڑے تصفیہ کار کا کردار سنبھال لیا ہے۔ ابھی چند ہفتے قبل پوتن نے ترکی کے صدر سے فون پر بات کی ہے اور انہیں ماسکو کا دورہ کرنے کی دعوت دی ہے۔ انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم کو فون کرکے سلامتی کے معاملات پر بات چیت کی اور ساتھ ساتھ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارت کا کامیاب دورہ بھی کیا۔

آٹھ برسوں میں پہلی مرتبہ پوتن نے ستمبر میں تہران کا بھی نتیجہ خیز دورہ کیا۔ یہ ہنگامہ خیز سفارتی مہم پوتن کے مشرق وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے کردار کی طرف اشارہ کر رہی ہے جبکہ ٹرمپ اس معاملے میں نہ صرف خاموش ہیں بلکہ اس خطے میں امریکہ کے کردار میں مزید کمی کرنے کی کوشش بھی کر رہے ہیں۔

روس کئی طریقوں سے شام میں موجودہ صورت حال اور وہاں سے امریکی انخلا سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ روس صدر بشار الاسد کی حکومت کی مکمل پشت پناہی کرتے ہیں۔ اسد حکومت کا جتنے زیادہ علاقوں پر قبضہ بڑھے گا روس کو اتنا ہی فائدہ ہوگا۔ کردوں کو عین بیچ میدان میں اکیلا چھوڑ دینے سے اب اس علاقے میں امریکہ اپنا اعتبار کھو چکا ہے اور ایک ناقابل اعتماد دوست سمجھا جانے لگا ہے۔

اس صورت حال سے روس کو ایک بہترین موقع ملا ہے۔ اب وہ خطے کے ملکوں کو باور کرا سکے گا کہ صرف وہی اس علاقے میں امن لا سکتا ہے اور ایک کامیاب اور غیر جانبدار ثالث کا کردار بھی ادا کر سکتا ہے۔ روس کی عسکری پولیس پہلے سے ہی شام اور ترکی کے درمیان کانٹیکٹ لائن پر نگرانی کر رہی ہے جو کہ ایک واضح پیغام دے رہی ہے کہ اگر آپ مشرق وسطیٰ میں امن چاہتے ہیں تو روس سے رابطہ کریں۔

روس مغربی یورپ کی ریاستوں کے اتحاد خصوصاً نیٹو اور یورپی یونین کو بھی کمزور کرنے کی کوششیں کر رہا ہے اور اس سلسلے میں مختلف یورپی ممالک میں موجود سیاسی اور دفاعی اختلافات کو ہوا دینے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ اس سلسلے میں ترکی اور نیٹو میں شام پر اختلافِ رائے کو مزید گہرا کرنے میں روس نے کافی سفارتی مہارت کا مظاہرہ کیا ہے اور ان اختلافات کو مزید تقویت دینے کے لیے ترکی کو فضائی دفاع کے لیے S-400 نظام مہیا کرنے کا معاہدہ بھی کر لیا ہے۔ اسی طرح کا ایک دفاعی نظام ایران کو بھی دیا جا رہا ہے۔

یہ صورت حال اور امریکہ کی اس حد تک پسپائی ہنری کسنجر کے وقت میں ناقابلِ تصور ہوتی۔ ایسا لگتا ہے جیسے امریکہ نے راستہ کھو دیا ہے جبکہ روسی سفارت کاری آگے بڑھتی جا رہی ہے۔ روس ایک عالمی ثالث اور تصفیہ کار کا کردار ادا کرنے لگا ہے اور کوئی بھی عالمی یا علاقائی طاقت اس کے بڑھتے ہوئے اثر کو روک نہیں پا رہی ہے۔ امریکہ اور یورپی اتحاد کے درمیان سرد مہری بھی ماسکو کے بڑھتے ہوئے کردار اور خود اعتمادی میں اضافہ کر رہی ہے اور روس نے خاص طور پر مشرق وسطیٰ میں بڑی مہارت سے اس سرد مہری کا فائدہ اٹھایا ہے۔

جہاں اس کا فائدہ ہے، وہاں اس بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کی اپنی قیمت بھی ہے جو روسیوں کو بھاری بھی پڑ سکتی ہے۔ روس اس وقت ایک بہت بڑی معاشی طاقت نہیں ہے۔ اس کی بڑھتی ہوئی خودساختہ علاقائی اور بین الاقوامی ذمہ داریاں اور اخراجات روس کی معیشت کو سخت نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ اس معاملے میں سوویت یونین کے آخری دنوں کو یاد رکھنے کی ضرورت ہے۔

یہ بھی ذہن نشین رکھنا لازم ہے کہ مشرق وسطیٰ ایک گورکھ دھندا ہے۔ ناقابل عبور خلیجوں میں بٹا ہوا یہ علاقہ بےاعتمادی اور نفرت کی دیواروں میں بھی منقسم ہے۔ روس ایک ثالث کا کردار تو ادا کرسکتا ہے لیکن اس مشکل علاقے میں امن اور سفارتی توازن قائم کرنا ایک بارِ گراں ہو گا۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ