’شادی کی تقریب ایک دن کی ہو تو سموگ کم ہو سکتی ہے؟‘

لاہور سے تعلق رکھنے والے ایک ڈاکٹر نے سموگ اور آلودگی میں کمی کے لیے ایک نئی تجویز پیش کی، جس پر ایک بحث کا آغاز ہوگیا۔

(فائل فوٹو: اے ایف پی)

لاہور کو آج کل سموگ کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے شہری مشکلات کا شکار ہیں۔ شہر میں نصب ایئر کوالٹی سینسروں کے ڈیٹا کے مطابق لاہور کی ہوا خطرناک حد تک آلودہ ہے۔ اس سے بچنے کے لیے جہاں مختلف طریقے اور احتیاطی تدابیر بتائی جارہی ہیں، وہیں لاہور سے تعلق رکھنے والے ایک ڈاکٹر نے ایک نئی تجویز پیش کی۔

ڈاکٹر عامر اقبال لندن کے نیشنل ہارٹ اینڈ لنگ انسٹی ٹیوٹ سے تربیت یافتہ ہیں اور ’ایسما ڈاکٹر‘ (Asthma Doctor) کے نام سے ایک ویب سائٹ بھی چلاتے ہیں، جس کا مقصد دمے اور سانس کے مرض سے نمٹنے میں لوگوں کی مدد کرنا ہے۔

لاہور کو درپیش فضائی آلودگی کے مسئلے کے تناظر میں انہوں نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں لکھا: ’کیا شادی کی تین روزہ تقریبات کی بجائے ایک دن کی تقریب کے انعقاد سے سموگ اور آلودگی میں کمی لائی جا سکتی ہے؟‘

اس ٹویٹ پر مختلف لوگوں کی جانب سے مختلف ردعمل سامنے آیا۔ کسی نے اس تجویز کی پُر زور انداز میں تائید کی تو کسی نے دیگر ’مشکلات‘ کا ذکر کرکے اسے الگ ہی رنگ دے دیا۔

سید شجیع گردیزی نامی صارف نے ڈاکٹر عامر کی اس تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے لکھا کہ ’اس سے نہ صرف فیول انرجی کم استعمال ہوگی بلکہ کھانے اور تلف نہ ہونے والی اشیا میں بھی کمی آئے گی۔‘

سُنیر حسین ایک الگ ہی موقف کے ساتھ سامنے آئے اور انہوں نے لکھا: ’اس سے واقعی اُن رشتے داروں کے طعنوں میں کمی آئے گی، جنہیں توجہ چاہیے ہوتی ہے۔‘

دوسری جانب مشرف علی فاروقی نے ڈاکٹر عامر اقبال کی تجویز کو اپنے ہی انداز میں پیش کیا اور لکھا کہ اس سوال کو ’اگر ہم کچھ یوں کر دیں کہ کیا شادی میں شرکت نہ کرنے والے مہمانوں کو کھانا گھر پر ڈیلیور کرنے سے سموگ اور آلودگی میں کمی آئے گی؟‘

جس پر ’بے کس لاچاروی‘ کے ٹوئٹر ہینڈل سے ایک صاحب نے جواب دیا: ’سر کھانے ہی کی تو گیم ہے ساری۔ کھانا گھروں پر پہنچنے لگا تو دلہا دلہن بھی نہیں آئیں گے شادی میں۔‘

دوسری جانب اعجاز حیدر نامی صارف نے لکھا: ’اگر کوئی شادی میں نہ آنا چاہے تو انہیں شکریہ کا ای- نوٹ کیوں نہ بھیج دیا جائے؟‘

ایک صارف حمیرا اشرف نے تجویز دی کہ اگر حکومت 20 سے زائد مہمانوں پر پابندی لگا دے تو سارا مسئلہ حل ہوجائے۔ ان کا کہنا تھا: ’شادی میں دلہا دلہن کا ہونا کافی ہے۔ بہت ضروری ہو تو چار گواہ اور وہ بھی اگر دونوں کے ماں باپ، بہن بھائی ہیں تو وہی گواہ کا فریضہ انجام دے لیں۔ شادی میں بیس سے زائد مہمانوں پر حکومت پابندی لگا دے تو سارا مسئلہ حل ہو جائے۔‘

 

زیادہ پڑھی جانے والی سوشل