ہمیں تو صحافت کے سوا کچھ نہیں آتا

اس دن ہمیں کسی نے احساس دلایا کہ اس ملک میں میڈیا ورکر کا کوئی مستقبل نہیں۔ نوکری پر بحال ہیں تو آپ کی اہمیت ہے ورنہ آپ زیرو ہیں۔ اس بات کا اندازہ کئی بار ہوا۔

صحافی تو صرف صحافی ہوتے ہیں۔انہیں تو صحافت کے علاوہ کوئی اور کام بھی نہیں آتا۔وہ ساری کشتیاں جلا کر یہاں آتے ہیں۔

میری توبہ جو انٹر کے بعد میڈیا سٹیڈیز ڈپارٹمنٹ میں داخلہ لیا۔ یہ میری چھوٹی بہن کے الفاظ ہیں جسے بچپن سے میڈیا سٹیڈیز پڑھنے کا جنون کی حد تک شوق تھا۔ میں نے پوچھا کیوں کیا ہوا؟ یہ اچانک فیصلہ کیسے تبدیل ہوا جس پراس کا کہنا تھا آپ کا حال دیکھنے کے بعد فیصلہ بدلنا پڑا۔ یہ سن کر میں چپ ہوگئی۔

میں جو میڈیا انڈسٹڑی کو ایک فینٹسی کی دنیا سمجھتی تھی وہاں داخل ہونے کے بعد پتہ چلا ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں۔ پہلا نجی ادارہ جوائن کیا تو ابتدائی دنوں میں ہم بولائے بولائے پھرتے۔ ہمیں کوئی بھی کام نہیں دیا جاتا تھا۔ ہم مجرم بنے پھرتے۔ سوچتے کوئی کام ہی نہیں کرتے۔ ہر وقت سر پر تلوار لٹکتی رہتی کہ کہیں ادارے والے نکال ہی نہ دیں۔ تقریباً ایک ماہ بعد ادارے کے سوفٹ ویئر پر ہماری آئی ڈی بنی۔ ہمیں کہا گیا کہ ہمیں بس انٹرٹینمنٹ کی نیوز بنانی ہے۔ ہم اب انٹرٹینمنٹ کی رنگا رنگ دنیا کی خبریں بناتے۔ اچھےکام پر کبھی داد نہ ملتی مگر غلطی پر نیوز روم میں وہ چیخ و پکار مچتی کہ دل چاہتا کہ ابھی استعفیٰ دے کرگھر واپس چلے جائیں۔

لیکن ہمیں پھر یاد آتا ہم نے تو بڑے شوق سے یہ فیلڈ جوائن کی ہے۔ ہم کیوں ابھی سے ہمت ہار رہے ہیں۔ ہم خود ہی اپنے آپ کو حوصلہ دیتے اور ایک نئے جذبے سے کام کرتے لیکن پھر روز ایک جیسا ماحول۔ آفس سے گھر جاتے تو بس سوتے رہتے، کیوں کہ دفتر کی گاڑی صبح چھ بجے پک کرتی تھی اور واپسی پر سارا شہر گھما کر(دوسری لڑکیوں کو گھر چھوڑنے کے بعد ہمیں چھوڑتی تھی) اور جب تک دوسری شفٹ کے لوگ نہیں آتے تھے تب تک آفس میں رکنا پڑتا تھا۔

ذہنی تھکن اتنی ہوتی کہ گھر جا کرکوئی اور کام ہی نہیں ہو پاتا تھا۔ ہمارے گھر والے یہ حالت دیکھ کرجاب چھوڑنے کا مشورہ دیتے۔ کہتے تنخواہ بھی کم ہے، کوئی سہولت بھی نہیں ہے، کیوں خود کو تھکا رہی ہو مگر ہم نہ مانے اور یوں ہی تن دہی سے کام انجام دیتے رہے۔ نہ گھروالوں کو وقت دے پاتے، نہ کہیں گھومنے جاتے۔ عید پر بھی دفتر آتے۔ ہنگامی حالات میں بھی دیر تک دفتر رکتے۔ شفٹیں تبدیل کرکے ڈیوٹی کرتے۔ اتنا کچھ کرنے کے باوجود ایک دن پتہ چلا کہ ادارے کو تو ہماری ضرورت ہی نہیں۔ اس دن شاید ہماری نظر میں میڈیا کا وہ بت پاش پاش ہوگیا جسے ہم نے پوجا تھا۔ یہاں تک کہ اپنی ذات ہی بھول گئے تھے۔

اس دن ہمیں کسی نے احساس دلایا کہ اس ملک میں میڈیا ورکر کا کوئی مستقبل نہیں۔ نوکری پر بحال ہیں تو آپ کی اہمیت ہے ورنہ آپ زیرو ہیں۔ اس بات کا اندازہ کئی بار ہوا۔ اُس وقت بھی ہوا جب ایک نجی چینل کا ڈی ایس این جی ڈرائیور اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران دھماکے میں ہلاک ہو گیا۔ اس کے بچے یتیم ہو گئے۔ کیا کسی صحافتی تنظیم یا ادارے نے اس ڈرائیور کے گھر والوں کے بارے میں سوچا؟ ڈرائیورز کو تو بس اتنی تنخواہ ملتی ہے کہ وہ بمشکل پورا مہینہ کھینچ تان کر گزارتے ہیں۔ اب اس ڈرائیور کے دار فانی سے کوچ کر جانے کے بعد اس کے گھر والے کس حال میں گزر بسر کر رہے ہیں؟ یہ کون جانتا ہے؟ ان کے گھر کی کفالت کون کر رہا ہے؟ یہ کس کو معلوم ہے؟ یہ احساس تب بھی ہوا جب کئی صحافی کوریج کے دوران  قتل کیے گئے۔ تب بھی ہوا جب مختلف اداروں کے صحافیوں کو ٹارگٹ کلرز نے موت کے گھاٹ اتارا اور تب بھی ہوا جب کئی صحافیوں کو جبری رخصت پر بھیجا گیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تب بھی ہوا، جب  کئی میڈیا ورکرز کئی کئی ماہ تنخواہ کی راہ تکتے رہے۔ غربت کی چکی میں پستے رہے۔ کئی ماہ علاج کی آس میں بیماری سے لڑتے لڑتے دم توڑ گئے۔ مگر کسی کو کوئی فرق نہیں پڑا۔ فرق کیوں پڑے گا بھلا؟ ان تیس چالیس ہزار روپے کمانے والے صحافیوں سے بھلا کس کو غرض ہوگی؟ اس ملک کے صحافی چند ایک کے علاوہ غربت میں پس رہے ہیں۔

دوسرے ممالک کے صحافیوں کو دیکھ کر رشک آتا ہے جنہیں ہفتے میں دو دن چھٹی ملتی ہے، جنہیں سہولت میسر ہے۔ ان پر دوسرے چینلز کی اندھی تقلید کا پریشر نہیں ہوتا۔ جہاں چینل میں سیاہ و سفید کے مالک دوسروں کی عزت نفس کا خیال رکھتے ہیں۔ جہاں صحافی اچھی تنخواہیں لیتے ہیں۔ خوش حال زندگی بسر کرتے ہیں۔ یہاں تو یہ حال ہے کہ آپ بیمار ہونے پر میڈیکل کارڈ لے کر جائیں تو کہا جاتا ہے کہ یہ تو صرف داخل ہونے کی صورت میں استعمال ہوسکتا ہے، او پی ڈی فری نہیں۔ یہاں صحافیوں کے ڈیوٹی آورز تو بڑھائے جاتے ہیں، مگر تنخواہ نہیں بڑھائی جاتی۔

سالوں گزر جاتے ہیں۔ مہنگائی سو گنا بڑھ جاتی ہے، مگر تنخواہ وہیں رہتی ہے۔ کوئی انکریمنٹ نہیں لگتا۔ صحافی جو دوسروں کے لیے آواز اٹھاتے ہیں، ان کے حق کے لیے کوئی آواز بلند نہیں کرتا۔ میری سب سے چھوٹی بہن (جو اب اس دنیا میں نہیں) کہتی تھی، صحافی تو مر جاتے  ہیں ناں۔ اُس وقت اس کی بات پر مسکرا دیتی تھی، مگر اب لگتا ہے وہ صحیح کہتی تھی۔ جب اپنی فیملی کا پیٹ پالنے والے صحافیوں کو نوکری سے نکال دیا جاتا ہے تو وہ واقعی جیتے جی مر ہی جاتے ہیں۔ جہاں بے حس افسران یہ نہیں سوچتے کہ نوکری سے نکالے جانے کے بعد اس کے گھر کا چولہا کیسے جلے گا؟ اس کے بچوں کی فیس کون دے گا؟ وہ گھر کا کرایہ کیسے ادا کرے گا۔ جہاں انتہائی محنت کے باوجود اسے ناقص کارکردگی کے طعنے دیئے جائیں۔ وہ صحافی صحافی نہیں رہتا۔ وہ ایک روبوٹ بن جاتا ہے۔ وہ بس افسروں کے اشارے کا منتظر ہوتا ہے اور ان ہی اشاروں پر چلتے چلتے زندگی  گزار دیتا ہے۔ صرف اس لیے کہ اس کی نوکری بچی رہے۔

صحافی تو صرف صحافی ہوتے ہیں۔ انہیں تو صحافت کے علاوہ کوئی اور کام بھی نہیں آتا۔ وہ ساری کشتیاں جلا کر یہاں آتے ہیں۔ ملازمت سے نکالے جانے کی صورت میں فیلڈ بھی تبدیل نہیں کرسکتے۔ ان کو سہولیات نہیں دینی تو نہ دیں۔ کم از کم نوکری تو نہ چھینیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ