صدر ٹرمپ یوکرین پر دباؤ ڈالنے میں ملوث تھے: اعلیٰ امریکی سفارت کار

مواخذے کی تحقیقات کی سماعت میں یورپی یونین میں امریکی سفیر گورڈن سونڈلینڈ نے کہا کہ انہوں نے یوکرین کے ساتھ ’کچھ لو اور کچھ دو‘ کی سودے بازی میں امریکی صدر کے احکامات پر عمل کیا۔

سونڈلینڈ نے کہا ہے کہ ٹرمپ کے ذاتی وکیل روڈی جولیانی نے صدر کی ہدایت پر یوکرین کے صدر ولودومیر زیلنسکی پر تحقیقات کے لیے دباؤ ڈالا(اے ایف پی)

امریکہ کے ایک سینیئر سفارت کار نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے کی جاری  سماعت کے دوران بدھ کو دھماکہ خیز شہادت ریکارڈ کرواتے ہوئے صدر ٹرمپ کو اس منصوبے میں براہ راست ملوث قرار دے دیا جس کا مقصد یوکرین کو امریکی صدر کے انتخابی حریف کے خلاف تحقیقات کے لیے مجبور کرنا تھا۔

خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ٹی وی پر لائیو دکھائی جانے والی سماعت میں یورپی یونین میں امریکی سفیر گورڈن سونڈلینڈ نے قانون سازوں کو بتایا ہے کہ انہوں نے یوکرین کے ساتھ ’کچھ لو اور کچھ دو‘ کی سودے بازی میں امریکی صدر کے احکامات پر عمل کیا جس کا مقصد ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے سابق نائب امریکی صدر جوبائیڈن کے خلاف تحقیقات کروانا تھا۔ بدلے میں یوکرین کے صدر کی وائیٹ ہاؤس میں امریکی صدر سے ملاقات ہونا تھی۔

سونڈلینڈ نے کہا ہے کہ ٹرمپ کے ذاتی وکیل روڈی جولیانی نے صدر کی ہدایت پر یوکرین کے صدر ولودومیر زیلنسکی پر تحقیقات کے لیے دباؤ ڈالا۔ وائیٹ ہاؤس اور دفترخارجہ کو اس بات کا علم تھا۔

اپنے خلاف اس غیر متوقع شہادت پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے ایک ٹویٹ میں کہا: ’اب یہ کردار کشی ختم ہو جانی چاہیے۔ یہ ہمارے ملک کے لیے بہت برا ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ وہ سونڈلینڈ کو زیادہ نہیں جانتے ہیں اور ان کے ساتھ زیادہ بات چیت نہیں کی حالانکہ سونڈلینڈ نے ان کی حلف نامے کی تقریب لیے 10 لاکھ ڈالڑ ڈونیٹ کیے تھے اور اپنی گواہی میں کہا کہ سفیر کے طور پر انہوں صدر ٹرمپ سے تقریباً 20 بار بات کی ہو گی۔ 

ڈیموکریٹ ارکان نے کہا ہے کہ ایوان نمائندگان کی انٹیلی جنس کمیٹی کے سامنے سونڈلینڈ کی سات گھنٹے کی گواہی نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے کے لیے ان کے کیس کو مضبوط کیا ہے جسے انہوں نے ’بھتہ وصولی‘ کا نام دے رکھا ہے۔

ایوان نمائندگان کی کمیٹی کے چیئرمین ایڈم شِف نے کہا: ’آج کی گواہی اب تک کی سب سے اہم گواہی ہے۔ یہ معاملے کی رشوت ستانی اور دوسرے بڑے جرائم یا غلط مہم جوئیوں کی تہہ تک جا رہی ہے۔‘

اگلے سال صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مقابلے میں ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے امیدوار کی نامزدگی حاصل کرنے کے لیے پرامید ڈیموکریٹس نے یہ بھی کہا ہے کہ سونڈلینڈ کی گواہی سے مواخذے کا کیس مضبوط ہوا ہے۔ بدھ کو ڈیموکریٹک پرائیمری ڈیبیٹ کے دوران اس معاملے کو مرکزی حیثیت حاصل رہی۔

سونڈلینڈ نے اپنی گواہی میں کہا کہ ٹرمپ نے انہیں اور دو اور سینیئر سفارت کاروں کو ہدایت کی تھی کہ وہ ان کے ذاتی وکیل روڈی جولیانی کے ساتھ مل کر کام کریں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس سال کے آغاز میں جولیانی نے یوکرین کے صدر زیلنسکی کی حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لیے ایک مہم شروع کی جس کا مقصد امریکہ کے سابق نائب صدر جو بائیڈن کے خلاف تحقیقات کے لیے دباؤ ڈالنا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ صدر ٹرمپ کے سیاسی حریف جو بائیڈن کے بیٹے ہنٹر کے یوکرائن کی توانائی کمپنی بورسما کے ساتھ تعلقات ہیں، جبکہ صدر ٹرمپ کی جانب سے پیش کیا گیا ایک سازشی نظریہ بھی ہے کہ 2016 کے صدارتی الیکشن میں یوکرین نے ان کے خلاف ڈیموکریٹس کی مدد کی تھی۔ صدر ٹرمپ نے ان معاملات کی چھان بین کے لیے یوکرائن پر دباؤ ڈالا۔ 

سونڈلینڈ نے اپنی گواہی میں مزید کہا کہ جولیانی نے مطالبہ کیا کہ یوکرین سرکاری سطح پر بیان جاری کرے جس میں کہا جائے کہ وہ 2016 کے امریکی صدارتی الیکشن، روس کی جانب سے ڈیموکریٹک نیشنل کمیٹی کے سرور کی ہیکنگ اور توانائی کمپنی بورسما کے معاملات میں تحقیقات شروع کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا: ’جولیانی کی درخواستیں کچھ لو کچھ دو کی سودے بازی تھیں کیونکہ بدلے میں یوکرین کے صدر کے دورہ وائیٹ ہاؤس کی بات کی گئی تھی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ روڈی جولیانی کی مہم کوئی ’باہر باہر‘ سے کیا گیا کام نہیں تھا ابلکہ اعلیٰ عہدیداران نائب صدر مائیک پینس اور وزیر خارجہ مائیک مومپیو کو اس بارے میں وقفے وقفے سے اطلاعت ملتی رہیں۔ 

سونڈلینڈ نے کہا: ’ہم صدر کے احکامات پر عمل کر رہے تھے۔‘

اس سے پہلے بند کمرہ تحیقیقات کے دوران گواہی میں سونڈلینڈ نے صدر ٹرمپ کے ملوث ہونے کا نہیں کہا تھا۔ تبہ انہوں نے بہت سوالات کا جواب یہ کہہ کر دیا تھا کہ انہیں کچھ یاد نہیں لیکن بعد میں دوسرے گواہوں کی گواہی نے جب صدر کو یوکرین دباؤ منصوبے میں مزید ملوث کیا تو سونڈلینڈ کو بھی یاد آ گیا۔

انہوں نے یوکرین میں تحقیقات اور صدر زیلنسکی کی امریکی صدر سے مجوزہ ملاقات کے درمیان تعلق کی تصدیق کی لیکن کہا کہ وہ ان الزامات کی تصدیق نہیں کرسکتے کہ صدر ٹرمپ نے یوکرین کی 39 کروڑ 10 لاکھ کی امداد منجمد کر دی تھی جس کا مقصد دباؤ میں اضافہ کرنا تھا۔

انہوں نے دو دوسرے گواہوں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے صدر ٹرمپ کی جانب سے یوکرین کی امداد کو تحقیقات کے اعلان سے مشروط کرنے کے بارے میں کبھی نہیں سنا۔

دوسری جانب مواخذے کی لڑائی میں وزارت دفاع کی ایک اور عہدے دار نے اپنے بیان میں اہم ری پبلکن ارکان کے دفاع کو کمزور کیا جن کا یہ کہنا تھا کہ یوکرین کی حکومت کو اگست بلکہ سمتبر تک 18 جولائی کو امداد منجمد کیے جانے کے بارے میں معلوم نہیں تھا۔

پینٹاگون میں یوکرین کے معاملات کی انچارج لورا کوپر کے بیان نے ڈیموکریٹس کے ان الزامات کو قابل بحث بنا دیا کہ ٹرمپ نے یوکرین پر دباؤ ڈالا۔

لورا کوپر نے کہا کہ یوکرین کی حکومت نے امداد روکنے پر 25 جولائی کو تشویش کا اظہار کیا تھا۔

وائیٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ نے یوکرین کے صدر سے کسی مطالبے کی تردید کرتے ہوئے یوکرین کے مسئلے پر 9 ستمبر کو سونڈلینڈ سے ٹیلی فون پر ہونے والی گفتگو کا سونڈلینڈ کی جانب سے ذکر کا تذکرہ کیا ہے۔

ایک تحریر پڑھتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے سونڈلینڈ سے کہا تھا: ’میں کچھ نہیں چاہتا۔ مجھے یوکرین سے بدلے میں کچھ نہیں چاہیے۔ زیلنسکی سے کہیں وہ درست کام کریں۔‘

دوسری جانب جوبائیڈن نے ڈیموکریٹس کی بحث کے دوران اپنے بیٹے کے کردار سے متعلق سوال کا جواب دینے سے گریز کیا لیکن انہوں نے کہا کہ شہادت سے پتہ چلتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ انہیں صدارتی امیدوار نہیں دیکھنا چاہتے۔

صدارتی نامزدگی کے ایک اور امیدوار برنی سینڈرز نے ڈونلڈ ٹرمپ کو نہ صرف جھوٹ بولنے کا عادی قرار دیا بلکہ کہا کہ وہ جدید امریکہ کی تاریخ میں سب سے زیادہ بدعنوان صدر ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی امریکہ